بی پردہ است جلوہ ز طرفِ نقابِ صبح | تا کی روی چو دیدۂ انجم بہ خوابِ صبح |
ترجمہ صبح کے نقاب کی طرف سے جلوہ بے پردہ ہے؛ تو کب تک ستاروں کی آنکھ کی طرح صبح کی نیند میں ڈوبا رہے گا؟ | |
اہلِ صفا ز زخمِ گل فیض چیدہ اند | بیرونِ چاکِ سینہ مدان فتحِ بابِ صبح |
ترجمہ اہلِ صفا نے پھول کے زخم سے فیض چنا ہے؛ صبح کے دروازے کا کھلنا سینے کے چاک سے باہر نہ سمجھ۔ | |
پیری رسید مغفرت آمادہ شو کہ نیست | غیر از کفِ دعا ورقی در کتابِ صبح |
ترجمہ بڑھاپا آ پہنچا، مغفرت کے لیے تیار ہو جا، کہ صبح کی کتاب میں دعا کی ہتھیلی کے سوا کوئی ورق نہیں۔ | |
از وحشتِ نفس نتوان جز غبار چید | رنگِ شکستۂ تو بس است انتخابِ صبح |
ترجمہ سانس کی وحشت سے غبار کے سوا کچھ نہیں چنا جا سکتا؛ تیرا اڑا ہوا رنگ ہی صبح کا انتخاب ہونے کو کافی ہے۔ | |
جرمِ جوان بہ پیر ببخشند روزِ حشر | سپند نامۂ سیہِ شب بہ آبِ صبح |
ترجمہ روزِ حشر جوان کا جرم بوڑھے کی خاطر بخش دیتے ہیں؛ رات کا سیاہ نامہ صبح کے پانی سے دھو دیتے ہیں۔ | |
این دشت یک قلم ز غبارِ نفس پُر است | حسرت کشیدہ است بہ ہر سو طنابِ صبح |
ترجمہ یہ صحرا سراسر سانس کے غبار سے بھرا ہے؛ حسرت نے ہر طرف صبح کی طنابیں کھینچ رکھی ہیں۔ | |
با چشمِ خشک چشم ز فیضِ سحر مدار | اشک است روغنی کہ دہد شیرِ نابِ صبح |
ترجمہ خشک آنکھ کے ساتھ سحر کے فیض کی امید نہ رکھ؛ آنسو ہی وہ روغن ہے جو صبح کا خالص دودھ دیتا ہے۔ | |
نتوان گرہ زدن بہ سرِ رشتۂ نفس | پیداست رنگِ این مثل از پیچ و تابِ صبح |
ترجمہ سانس کے رشتے کے سرے پر گرہ نہیں لگائی جا سکتی؛ اس مثل کا رنگ صبح کے پیچ و تاب سے ظاہر ہے۔ | |
کامی کہ داری از نفسِ واپسین طلب | فرصت درنگ بستہ بہ دوشِ شتابِ صبح |
ترجمہ جو آرزو تو رکھتا ہے وہ آخری سانس سے طلب کر؛ فرصت نے اپنا ٹھہراؤ صبح کی شتاب کے کندھے پر باندھ رکھا ہے۔ | |
حاصل ز عمر یکدم آگاہی است و بس | چون پنبہ شد ز گوش نماند حجابِ صبح |
ترجمہ عمر کا حاصل ایک لمحے کی آگاہی ہے اور بس؛ جب کان سے روئی نکل گئی تو صبح کا پردہ نہ رہا۔ | |
کو مشتری کہ جنسِ خروشی برآوریم | داریم از قماشِ نفس جملہ بابِ صبح |
ترجمہ کوئی خریدار کہاں کہ ہم خروش کی کوئی جنس نکالیں؟ سانس کے قماش سے ہمارے پاس سب صبح ہی کا مال ہے۔ | |
تا بویی از قلمروِ تحقیق واکشیم | بیدل دواندہ ایم نفس در رکابِ صبح |
ترجمہ بیدل! تحقیق کی قلمرو سے ذرا سی خوشبو کھینچ لانے کو ہم نے سانس کو صبح کی رکاب میں دوڑایا ہے۔ | |
