جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بی تأمل در دم پیری مدہ بیرون نفس

بی تأمل در دم پیری مدہ بیرون نفس

از کتاب صبح مگذر سرسری ہمچون نفس

ترجمہ بڑھاپے میں سوچے سمجھے بغیر سانس باہر مت نکال؛ صبح کی کتاب (زندگی) سے سانس کی طرح سرسری مت گزر۔

مفہوم شاعر کہتا ہے کہ بڑھاپے کا زمانہ غور و فکر کا ہے، اس لیے ہر سانس کو بے سوچے سمجھے ضائع نہ کر۔ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے، اسے محض سانس کی طرح سرسری طور پر پڑھ کر ختم نہ کر بلکہ اس کے ہر لمحے کی قدر کر اور اس سے سبق سیکھ۔

جسم خاکی دستگاہ معنی پرواز توست

راست کن چندی درین خم ہمچو افلاطون نفس

ترجمہ تیرا خاکی جسم تیرے معنی کی پرواز کا ذریعہ ہے۔ کچھ دیر اس مٹکے (جسم) میں افلاطون کی طرح اپنی سانس کو درست کر۔

مفہوم یہ خاکی جسم محض مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ تیری روحانی اور معنوی پرواز کا وسیلہ ہے۔ جس طرح افلاطون نے اپنے افکار سے دنیا کو منور کیا، تو بھی اس جسمانی قید میں رہتے ہوئے اپنی سانسوں کو یعنی اپنی زندگی کو بلند مقاصد کے لیے منظم اور درست کر۔

گر نیاید باورت از حیرت آیینہ پرس

صبح ما را نیست شام ناامیدی چون نفس

ترجمہ اگر تجھے یقین نہیں آتا تو آئینے کی حیرت سے پوچھ لے؛ ہماری صبح کے لیے ناامیدی کی شام نہیں ہے، سانس کی طرح۔

مفہوم شاعر کہتا ہے کہ ہماری امید کی صبح کبھی ناامیدی کی شام میں نہیں ڈھلتی۔ جس طرح سانس اندر آ کر باہر جاتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اسی طرح ہماری امید بھی ہر حال میں قائم رہتی ہے۔ اگر اس بات پر یقین نہ ہو تو آئینے کی حیرانی دیکھو جو ہر عکس کو بغیر مایوسی کے قبول کرتا ہے۔

ای حباب از آبروی زندگی غافل مباش

چون گہر دزدیدنی دارد در این جیحون نفس

ترجمہ اے بلبلے! زندگی کی آبرو سے غافل مت ہو؛ اس جیحوں (دریا) میں سانس، موتی کی طرح چُرانے کے قابل چیز رکھتی ہے۔

مفہوم اے انسان، جو ایک بلبلے کی طرح ناپائیدار ہے، اپنی زندگی کی قدر و قیمت سے غافل نہ ہو۔ زندگی کے اس دریا میں ہر سانس ایک قیمتی موتی کی طرح ہے جسے غفلت میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

گردبادست اینکہ دارد جلوہ در دشت جنون

یا ز تنگی می تپد در سینۂ مجنون نفس

ترجمہ یہ جو جنون کے صحرا میں جلوہ گر ہے، کیا یہ بگولا ہے؟ یا مجنوں کے سینے کی تنگی سے اس کی سانس تڑپ رہی ہے؟

مفہوم شاعر عشق کی شدت اور بے چینی کو بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جنون کے بیابان میں جو منظر ایک بگولے کی طرح دکھائی دے رہا ہے، وہ دراصل مجنوں کے سینے میں قید بے قرار سانس ہے جو تنگی اور گھٹن کی وجہ سے تڑپ کر ایک طوفان کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

بسکہ زین بزم کدورت در فشار کلفتم

غنچہ وارم برنمی آید ز موج خون نفس

ترجمہ اس مکدر محفل کے دکھوں کے دباؤ کی وجہ سے، کلی کی طرح میرے خون کی لہر سے بھی سانس باہر نہیں آتی۔

مفہوم شاعر دنیا کے غموں اور تکلیفوں کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اس قدر دکھوں کے دباؤ میں ہوں کہ میری حالت ایک بن کھلی کلی جیسی ہے۔ جس طرح کلی بند رہتی ہے، اسی طرح میرے وجود میں خون کی روانی کے باوجود میرا سانس گھٹن کی وجہ سے باہر نہیں آپاتا۔

آہ از شام جوانی صبح پیری ریختند

آنچہ می زد بال عشرت می زند اکنون نفس

ترجمہ افسوس! جوانی کی شام پر بڑھاپے کی صبح طاری ہوگئی؛ جو چیز پہلے خوشی کے پر پھڑپھڑاتی تھی، اب وہ محض سانس لیتی ہے۔

مفہوم شاعر جوانی کے گزر جانے اور بڑھاپے کی آمد پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو دل کبھی خوشیوں اور ولولوں سے بھرا تھا اور پرندے کی طرح پرواز کرتا تھا، اب بڑھاپے میں اس کی وہ تمام ترنگ ختم ہوچکی ہے اور وہ محض زندہ رہنے کے لیے سانس لے رہا ہے۔

شعلہ ای دارد چراغ زندگی کز وحشتش

در درون دل تمنا می تپد بیرون نفس

ترجمہ زندگی کے چراغ میں ایک ایسا شعلہ ہے جس کی وحشت سے، دل کے اندر تمنا تڑپتی ہے اور باہر سانس۔

مفہوم زندگی ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جس کا شعلہ ہر وقت بجھنے کے خوف سے لرزتا رہتا ہے۔ اس خوف اور وحشت کی وجہ سے انسان کے دل میں خواہشات بے چین رہتی ہیں اور جسم میں سانس بھی اسی بے قراری اور اضطراب کے ساتھ چلتا ہے۔

فیضہا می باید از حرف بزرگان گل کند

صبح روشن می شود تا می زند گردون نفس

ترجمہ بزرگوں کی باتوں سے فیض کے پھول کھلنے چاہئیں۔ جب تک آسمان سانس لیتا ہے (یعنی گردش میں ہے)، صبح روشن ہوتی ہے۔

مفہوم جس طرح آسمان کی گردش سے صبح طلوع ہوتی ہے اور دنیا روشن ہو جاتی ہے، اسی طرح اہل دانش اور بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کرنے سے روحانی اور فکری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ان کی باتوں سے فیض حاصل کرنا چاہیے تاکہ زندگی میں کامیابی کے پھول کھلیں۔

خامشی دارد بہ ذوق عافیت تقلید مرگ

تا بہ کی بندد کسی بیدل بہ این مضمون نفس

ترجمہ عافیت کے شوق میں خاموشی اختیار کرنا موت کی نقالی ہے۔ اے بیدل! کوئی کب تک اس مضمون پر سانس روکے رکھے؟

مفہوم بیدل کہتے ہیں کہ صرف سکون اور عافیت کی خاطر ظلم و جبر پر خاموش رہنا ایک طرح سے زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کی پیروی کرنا ہے۔ انسان کب تک اس مجبوری اور بے حسی کے عالم میں اپنی آواز کو دبائے رکھ سکتا ہے؟ یہ خاموشی زندگی کی نفی ہے۔