اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ببند چشم و خط ہرکتاب را دریاب

ببند چشم و خطِ ہر کتاب را دریاب

ز وضعِ این دو نقط انتخاب را دریاب

ترجمہ آنکھ بند کر اور ہر کتاب کی تحریر کو پا لے؛ ان دو نقطوں (آنکھوں) کی وضع سے انتخاب کو سمجھ لے۔

جہانِ خفتہ بہ ہذیان ترانہ ہا دارد

تو گوش واکن و تعبیرِ خواب را دریاب

ترجمہ سویا ہوا جہان ہذیان میں ترانے گا رہا ہے؛ تو کان کھول اور خواب کی تعبیر کو پا لے۔

ہزار رنگِ من و ما ودیعتِ نفسی ست

دو دم قیامتِ روزِ حساب را دریاب

ترجمہ میں اور ہم کے ہزار رنگ ایک سانس کی امانت ہیں؛ دو دم میں روزِ حساب کی قیامت کو پا لے۔

بہار می گذرد مفت فرصت است ای شیخ

قدح بہ خونِ ورع زن شراب را دریاب

ترجمہ بہار گزر رہی ہے، اے شیخ! فرصت غنیمت ہے؛ پارسائی کے خون پر جام چلا اور شراب کو پا لے۔

شرارِ کاغذ و پروازِ ناز جای حیاست

دماغِ عالمِ پا در رکاب را دریاب

ترجمہ کاغذ کی چنگاری اور ناز کی پرواز شرم کا مقام ہے؛ اس پا بہ رکاب دنیا کے دماغ کو سمجھ لے۔

قضا ز خلقتِ بی حاصلت نداشت غرض

جز اینکہ رنگِ جہانِ خراب را دریاب

ترجمہ تقدیر کو تیری بے حاصل پیدائش سے اس کے سوا کوئی غرض نہ تھی کہ تو اس ویران دنیا کے رنگ کو سمجھ لے۔

غبارِ جسم حجابِ جہانی نورانی ست

ز ننگِ سایہ برآ آفتاب را دریاب

ترجمہ جسم کی گرد ایک نورانی جہان کا پردہ ہے؛ سائے کی ننگ سے باہر نکل اور سورج کو پا لے۔

چہ نکتہ ہا کہ ندارد کتابِ خاموشی

نفس بدزد و سؤال و جواب را دریاب

ترجمہ خاموشی کی کتاب میں کیا کیا نکتے نہیں؛ سانس روک لے اور سوال و جواب کو پا لے۔

درونِ آینہ بیرون نشستہ است اینجا

بہ جلوہ گر نرسیدی نقاب را دریاب

ترجمہ یہاں آئینے کا اندر باہر آ بیٹھا ہے؛ اگر تو جلوے تک نہیں پہنچا تو نقاب ہی کو سمجھ لے۔

اگر جہان قدح از بادہ پر کند بیدل

تو تردماغیٔ چشمِ پرآب را دریاب

ترجمہ بیدل! اگر دنیا جام کو شراب سے بھر دے تو تو آنسوؤں بھری آنکھ کی تازگیٔ دماغ کو پا لے۔