ببند چشم و خطِ ہر کتاب را دریاب | ز وضعِ این دو نقط انتخاب را دریاب |
ترجمہ آنکھ بند کر اور ہر کتاب کی تحریر کو پا لے؛ ان دو نقطوں (آنکھوں) کی وضع سے انتخاب کو سمجھ لے۔ | |
جہانِ خفتہ بہ ہذیان ترانہ ہا دارد | تو گوش واکن و تعبیرِ خواب را دریاب |
ترجمہ سویا ہوا جہان ہذیان میں ترانے گا رہا ہے؛ تو کان کھول اور خواب کی تعبیر کو پا لے۔ | |
ہزار رنگِ من و ما ودیعتِ نفسی ست | دو دم قیامتِ روزِ حساب را دریاب |
ترجمہ میں اور ہم کے ہزار رنگ ایک سانس کی امانت ہیں؛ دو دم میں روزِ حساب کی قیامت کو پا لے۔ | |
بہار می گذرد مفت فرصت است ای شیخ | قدح بہ خونِ ورع زن شراب را دریاب |
ترجمہ بہار گزر رہی ہے، اے شیخ! فرصت غنیمت ہے؛ پارسائی کے خون پر جام چلا اور شراب کو پا لے۔ | |
شرارِ کاغذ و پروازِ ناز جای حیاست | دماغِ عالمِ پا در رکاب را دریاب |
ترجمہ کاغذ کی چنگاری اور ناز کی پرواز شرم کا مقام ہے؛ اس پا بہ رکاب دنیا کے دماغ کو سمجھ لے۔ | |
قضا ز خلقتِ بی حاصلت نداشت غرض | جز اینکہ رنگِ جہانِ خراب را دریاب |
ترجمہ تقدیر کو تیری بے حاصل پیدائش سے اس کے سوا کوئی غرض نہ تھی کہ تو اس ویران دنیا کے رنگ کو سمجھ لے۔ | |
غبارِ جسم حجابِ جہانی نورانی ست | ز ننگِ سایہ برآ آفتاب را دریاب |
ترجمہ جسم کی گرد ایک نورانی جہان کا پردہ ہے؛ سائے کی ننگ سے باہر نکل اور سورج کو پا لے۔ | |
چہ نکتہ ہا کہ ندارد کتابِ خاموشی | نفس بدزد و سؤال و جواب را دریاب |
ترجمہ خاموشی کی کتاب میں کیا کیا نکتے نہیں؛ سانس روک لے اور سوال و جواب کو پا لے۔ | |
درونِ آینہ بیرون نشستہ است اینجا | بہ جلوہ گر نرسیدی نقاب را دریاب |
ترجمہ یہاں آئینے کا اندر باہر آ بیٹھا ہے؛ اگر تو جلوے تک نہیں پہنچا تو نقاب ہی کو سمجھ لے۔ | |
اگر جہان قدح از بادہ پر کند بیدل | تو تردماغیٔ چشمِ پرآب را دریاب |
ترجمہ بیدل! اگر دنیا جام کو شراب سے بھر دے تو تو آنسوؤں بھری آنکھ کی تازگیٔ دماغ کو پا لے۔ | |
