بی کمالی نیست دل از شرم چون می گردد آب | از عرق آیینۂ ما را فزون می گردد آب |
ترجمہ دل اگر شرم سے پانی پانی ہو جائے تو یہ بے کمالی نہیں؛ پسینے سے ہمارے آئینے کی آب اور بڑھ جاتی ہے۔ | |
از دمِ گرمِ مراقب طینتان غافل مباش | کز شرارِ تیشہ اینجا بیستون می گردد آب |
ترجمہ مراقبہ کرنے والی طبیعتوں کی گرم سانس سے غافل نہ رہ، کہ یہاں تیشے کی چنگاری سے بیستون پہاڑ بھی پانی ہو جاتا ہے۔ | |
تابِ خودداری ندارد صاف طبع از انفعال | می شود مطلق عنان چون سرنگون می گردد آب |
ترجمہ صاف طبیعت والا شرمندگی کے باعث خود کو سنبھالنے کی تاب نہیں رکھتا؛ پانی جب سرنگوں ہوتا ہے تو بے لگام بہہ نکلتا ہے۔ | |
کیست کز مرکز جدا گردیدنش رنگی نباخت | خونِ دل از دیدہ تا گردد برون می گردد آب |
ترجمہ کون ہے جس کا رنگ اپنے مرکز سے جدا ہونے پر نہ اڑا ہو؟ دل کا خون آنکھ سے باہر آتے آتے پانی بن جاتا ہے۔ | |
در محبت گریہ تدبیرِ کدورتہا بس است | گر غشی داری بہ صافی رہنمون می گردد آب |
ترجمہ محبت میں کدورتوں کا علاج رونا ہی کافی ہے؛ اگر تجھ میں کوئی میل ہے تو پانی تجھے صفائی کی طرف لے جاتا ہے۔ | |
سوزِ دل چون شمعم از افسردگیہا شد عرق | آنچہ آتش بود در چشمم کنون می گردد آب |
ترجمہ شمع کی طرح میرے دل کا سوز افسردگیوں سے پسینہ بن گیا؛ جو کچھ میری آنکھ میں آگ تھا اب پانی ہو رہا ہے۔ | |
سیلِ آفت می کند معماریٔ بنیادِ شرم | خانہ آرایانِ گوہر را ستون می گردد آب |
ترجمہ آفت کا سیلاب شرم کی بنیاد کی معماری کرتا ہے؛ موتی کا گھر سجانے والوں کے لیے پانی ہی ستون بن جاتا ہے۔ | |
منتہای کارِ سالک می شود ہمرنگِ درد | چون ز شاخ و برگ در گل رفت خون می گردد آب |
ترجمہ سالک کے کام کی انتہا درد کا ہم رنگ ہو جانا ہے؛ پانی جب شاخ و برگ سے گزر کر پھول میں پہنچتا ہے تو خون بن جاتا ہے۔ | |
ہمچو شبنم سیرِ اشکِ ما بہ دامانِ ہواست | در گلستانِ محبت واژگون می گردد آب |
ترجمہ شبنم کی طرح ہمارے آنسو کی سیر ہوا کے دامن کی طرف ہے؛ محبت کے گلستان میں پانی الٹا بہتا ہے۔ | |
دامِ سودا می کند دل را ہجومِ احتیاج | از فسونِ موج زنجیرِ جنون می گردد آب |
ترجمہ حاجت کا ہجوم دل کو جنون کا جال بنا دیتا ہے؛ موج کے افسوں سے پانی جنون کی زنجیر بن جاتا ہے۔ | |
دل چہ باشد تا نگردد خون بہ یادِ طرہ اش | گر ہمہ سنگ است بیدل زین فسون می گردد آب |
ترجمہ دل کی کیا حقیقت کہ اس کی زلف کی یاد میں خون نہ ہو؛ بیدل! اگر پتھر بھی ہو تو اس افسوں سے پانی ہو جاتا ہے۔ | |
