اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

بی کمالی نیست دل از شرم چون می گردد آب

بی کمالی نیست دل از شرم چون می گردد آب

از عرق آیینۂ ما را فزون می گردد آب

ترجمہ دل اگر شرم سے پانی پانی ہو جائے تو یہ بے کمالی نہیں؛ پسینے سے ہمارے آئینے کی آب اور بڑھ جاتی ہے۔

از دمِ گرمِ مراقب طینتان غافل مباش

کز شرارِ تیشہ اینجا بیستون می گردد آب

ترجمہ مراقبہ کرنے والی طبیعتوں کی گرم سانس سے غافل نہ رہ، کہ یہاں تیشے کی چنگاری سے بیستون پہاڑ بھی پانی ہو جاتا ہے۔

تابِ خودداری ندارد صاف طبع از انفعال

می شود مطلق عنان چون سرنگون می گردد آب

ترجمہ صاف طبیعت والا شرمندگی کے باعث خود کو سنبھالنے کی تاب نہیں رکھتا؛ پانی جب سرنگوں ہوتا ہے تو بے لگام بہہ نکلتا ہے۔

کیست کز مرکز جدا گردیدنش رنگی نباخت

خونِ دل از دیدہ تا گردد برون می گردد آب

ترجمہ کون ہے جس کا رنگ اپنے مرکز سے جدا ہونے پر نہ اڑا ہو؟ دل کا خون آنکھ سے باہر آتے آتے پانی بن جاتا ہے۔

در محبت گریہ تدبیرِ کدورتہا بس است

گر غشی داری بہ صافی رہنمون می گردد آب

ترجمہ محبت میں کدورتوں کا علاج رونا ہی کافی ہے؛ اگر تجھ میں کوئی میل ہے تو پانی تجھے صفائی کی طرف لے جاتا ہے۔

سوزِ دل چون شمعم از افسردگیہا شد عرق

آنچہ آتش بود در چشمم کنون می گردد آب

ترجمہ شمع کی طرح میرے دل کا سوز افسردگیوں سے پسینہ بن گیا؛ جو کچھ میری آنکھ میں آگ تھا اب پانی ہو رہا ہے۔

سیلِ آفت می کند معماریٔ بنیادِ شرم

خانہ آرایانِ گوہر را ستون می گردد آب

ترجمہ آفت کا سیلاب شرم کی بنیاد کی معماری کرتا ہے؛ موتی کا گھر سجانے والوں کے لیے پانی ہی ستون بن جاتا ہے۔

منتہای کارِ سالک می شود ہمرنگِ درد

چون ز شاخ و برگ در گل رفت خون می گردد آب

ترجمہ سالک کے کام کی انتہا درد کا ہم رنگ ہو جانا ہے؛ پانی جب شاخ و برگ سے گزر کر پھول میں پہنچتا ہے تو خون بن جاتا ہے۔

ہمچو شبنم سیرِ اشکِ ما بہ دامانِ ہواست

در گلستانِ محبت واژگون می گردد آب

ترجمہ شبنم کی طرح ہمارے آنسو کی سیر ہوا کے دامن کی طرف ہے؛ محبت کے گلستان میں پانی الٹا بہتا ہے۔

دامِ سودا می کند دل را ہجومِ احتیاج

از فسونِ موج زنجیرِ جنون می گردد آب

ترجمہ حاجت کا ہجوم دل کو جنون کا جال بنا دیتا ہے؛ موج کے افسوں سے پانی جنون کی زنجیر بن جاتا ہے۔

دل چہ باشد تا نگردد خون بہ یادِ طرہ اش

گر ہمہ سنگ است بیدل زین فسون می گردد آب

ترجمہ دل کی کیا حقیقت کہ اس کی زلف کی یاد میں خون نہ ہو؛ بیدل! اگر پتھر بھی ہو تو اس افسوں سے پانی ہو جاتا ہے۔