(اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ 20 - اکتوبر 1876ء)
جو اخلاقی برائیاں ہندوستانیوں کی بعض غلط فہمیوں سے ہندوستان میں پھیل رہی ہیں وہ نہایت ہی نفرت کے لائق ہیں اور وہ ایسی نہیں ہیں کہ جن کو دیکھ کر یا سن کر ایک ایسا انسان جس کے دل میں کچھ بھی انسانیت کا اثر ہو صدمہ نہ اٹھاتا ہو اور جو لوگ کسی قدر عاقل یا مہذب ہیں وہ تو صرف صدمہ ہی نہیں اٹھاتے، بلکہ ایک بڑی شرم و ندامت اٹھاتے ہیں اور وہ اپنے پاس اپنی جاہل اور بے ہودہ قوم کی لغو اور بے فائدہ حرکتوں کا کوئی جواب نہیں رکھتے، خصوصاً ایسی اخلاقی شناعت میں جو ان کے نزدیک عقلاً اور نقلاً اور تجربۃً ہر طرح سے بری ثابت ہوئی ہو۔ بیوہ عورتوں کے نکاحِ ثانی کی مخالفت میں جو جاہل ہندوستانیوں نے ایک ضد کر رکھی ہے اُس کے سبب سے ہندوستان میں نہایت بڑی بد اخلاقی پھیلی ہوئی ہے اور اُس کے ثمرات اور نتائج سے ہندوستان کے جاہلوں کو نہایت بڑی بڑی ذلتیں نصیب ہو چکی ہیں اور ہمیشہ ہوتی ہیں، مگر افسوس ہے کہ اُس کے تدارک کی کچھ پروا نہیں کی جاتی اور اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ جس طرح ہمارے زمانے کے مہذب اس بے ہودہ حرکت کی برائی کو جانتے ہیں اور جس قدر اُس سے دلی نفرت کرتے ہیں اس قدر عملی کوشش سے اس کے انسداد میں سر گرم نہیں ہوتے اور ہر شخص اپنی قوم میں اس بات کا منتظر ہے کہ پہلے دوسرا شروع کرے، حالانکہ اصلاح کے کاموں میں ایک کو دوسرے کا انتظار ہمیشہ اُس کے کرنے سے باز رکھتا ہے۔ اس موقع پر ہم ایک خبر وکیل ہندوستان مطبوعہ 7 - اکتوبر سے نقل کرتے ہیں جو نہایت شرم و غیرت کے لائق ہے۔
’’عدمِ تزویجِ بیوگان کے نتیجے کی نسبت ایک متدین صاحب لکھتے ہیں کہ روپڑ سے ایک میل کے فاصلے پر ایک گاؤں کوٹو نہنگ میں مسمات سوبھی (بیوہ) زوجہ کوٹو ذات کھتری عمر 21 سال نے ایک مہتر سے زنا کرایا۔ کیفیت اس کی یہ ہے کہ عرصہ دو سال سے اس با حیا عورت کی آشنائی ایک خاکروب مسمی منگل ساکن قصبہ ہٰذا سے تھی۔ یہ عورت ہی کا بیان ہے کہ ایک سال ہوا مجھے یہ خاکروب ایک روز برہنہ دیکھ کر عاشق ہو گیا تھا، پھر رفتہ رفتہ آشنائی ہو گئی۔ اکثر باغ ملکیت عورت میں ملاقات ہوا کرتی تھی۔ اس دفعہ گاؤں کے آدمیوں نے دیکھ لیا، بات مشہور ہو گئی۔ عورت کے وارثوں نے اُس کو پھسلا اور اغوا کر کے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس خاکروب پر زنا بالجبر کا الزام لگا دے۔ آخر اس خاکروب کو مجرم قرار دے کر گرفتار کر کے تھانے میں لے گئے جہاں سے چالان زیرِ دفعہ 376 تعزیراتِ ہند مکمل ہو کر مقدمہ باجلاسِ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر انبالہ دائر ہوا۔ مدعا علیہ بباعث ثابت ہونے آشنائیٔ قدیم اور مرضی سے عورت کے صحبت کرنے میں رہا ہوا۔ اب دونوں کوٹلہ میں چین کرتے ہیں۔ اب شریف ہندوؤں سے عموماً اور نیز مسلمانان از قوم راجپوت و سید وغیرہ سے خصوصاً دریافت کرنا مناسب ہے کہ آیا اس کی اس بدفعلی کا باعث کیا چیز ہوئی؟ بے شک اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس نوجوان عورت کا مکرر شادی نہ کرنا ہی۔ اجی دور کہاں جاتے ہو ابھی تو تھوڑے ہی دن گزرے ہیں کہ خاص روپڑ ہی میں ایک بڑے پنڈت صاحب (جو برہمنوں میں یہاں اول درجے کے ہیں) کی لڑکی تین دن رات ایک مسلمان کنجر کے لڑکے کے گھر میں جس سے کہ اُس کی آشنائی تھی اپنے ماں باپ سے تنگ ہو ہو کر اس جلاپے سے رہی کہ اس کو اس کے والدین نے شادی کر کے عرصۂ دراز سے اپنے خاوند کے پاس نہیں جانے دیا تھا۔ اب فرمائیے کہ ایسے ایسے اشد کام کیوں ہوتے ہیں؟ ایک تو بیوہ کی عدمِ تزویج سے اور دوسرا شادی کر کے بھی مکلاوا1 (یعنی گونا) دیر تک نا روانہ کرنے سے ظہور میں آتے ہیں۔ ہندو و مسلمانوں کو ایسی ایسی باتوں پر غور کر کے اس کا تدارک کرنا چاہیے اور خاص کر آج کل کے انگریزی خواں مہذب ہندوؤں کو جا بجا کمیٹیاں مقرر کر کے اس رسمِ بد کو کہ جس کے طفیل ہر ایک طرف سے ایک نیا ہی شگوفہ کھلتا نظر آتا ہے، برہمنوں کو اپنے سے متفق الرائے کر کے دور کرنا چاہیے۔ میری دانست میں تو ایسے ایسے گناہِ کبیرہ، یعنی زنا کا بوجھ قیامت کے روز کچھ سرکار کی گردن پر بھی پڑے گا جس نے کسی قانون میں اس حرکتِ ناشائستہ کے مرتکب ہونے پر عورت زانیہ کے لیے کوئی واقعی سزا مقرر نہیں کی۔‘‘
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پنجم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 206 تا 208 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
