بیا تا دی کنیم امروز فردای قیامت را | کہ چشمِ خیرہ بینان تنگ دید آغوشِ رحمت را |
ترجمہ آؤ آج ہی قیامت کے کل کو گزرا ہوا کل بنا دیں، کہ کوتاہ نظروں کی آنکھ نے رحمت کی آغوش کو تنگ دیکھا ہے۔ | |
زمین تا آسمان ایثارِ عام آنگاہ نومیدی | بروبیم از درِ بازِ کرم این گردِ تہمت را |
ترجمہ زمین سے آسمان تک عام بخشش ہے، پھر یہ نومیدی کیسی، آؤ کرم کے کھلے دروازے سے اس تہمت کا غبار جھاڑ دیں۔ | |
بہ راہِ فرصت از گردِ خیال افکندہ ای دامی | پریخوانی است کز غفلت کنی در شیشہ ساعت را |
ترجمہ تو نے فرصت کی راہ میں خیال کے غبار سے ایک جال بچھا رکھا ہے، یہ پری خوانی ہے کہ تو غفلت سے گھڑی کو شیشے میں اتار لے۔ | |
اگر علم و فنی داری نیازِ طاقِ نسیان کن | کہ رنگ آمیزی ات نقاش می سازد خجالت را |
ترجمہ اگر تیرے پاس علم و فن ہے تو اسے نسیان کے طاق کی نذر کر دے، کہ تیری رنگ آمیزی شرمندگی کو نقاش بنا دیتی ہے۔ | |
دمی کایینہ دارِ امتحان شد شوکتِ فقرم | کلاہِ عرش دیدم خاکِ درگاہِ مذلت را |
ترجمہ جس لمحے میرے فقر کی شان امتحان کی آئینہ دار بنی، میں نے ذلت کی درگاہ کی خاک کو عرش کا تاج دیکھا۔ | |
بر اہلِ فقر تا منعم ننازد از گرانقدری | ترازو در نظر سرکوبِ تمکین کرد خفت را |
ترجمہ تاکہ دولت مند اپنی گراں قدری پر اہلِ فقر کے سامنے ناز نہ کرے، ترازو نے نظر میں ہلکے پن کو وقار پر غالب کر دکھایا۔ | |
عنانِ جستجوی مقصدِ عاشق کہ می گیرد | فلک شد آبلہ اما ز پا ننشاند ہمت را |
ترجمہ عاشق کے مقصد کی جستجو کی لگام کون تھام سکتا ہے، آسمان چھالا بن گیا مگر ہمت کو پاؤں سے نہ بٹھا سکا۔ | |
نگینِ شہرتی می خواست اقبالِ جنونِ من | ز چندین کوہ کردم منتخب سنگِ ملامت را |
ترجمہ میرے جنون کا اقبال شہرت کا ایک نگینہ چاہتا تھا، میں نے کتنے ہی پہاڑوں میں سے ملامت کا پتھر چن لیا۔ | |
سرِ خوانِ ہوس آرایشِ دیگر نمی خواہد | چو گردد استخوان بی مغز دعوت کن سعادت را |
ترجمہ ہوس کا دسترخوان کسی اور آرائش کا طالب نہیں، جب ہڈی بے مغز ہو جائے تو سعادت کو دعوت دے۔ | |
من و ما، ہرچہ باشد رغبتی و نفرتی دارد | جہان وعظ است لیکن گوش می باید نصیحت را |
ترجمہ من و ما، جو کچھ بھی ہو، کچھ رغبت اور کچھ نفرت رکھتا ہے، دنیا سراسر وعظ ہے لیکن نصیحت کے لیے کان چاہیے۔ | |
بہ عزت عالمی جان می کند اما ازین غافل | کہ در نقشِ نگین معراج می باشد دنائت را |
ترجمہ ایک دنیا عزت کے لیے جان کھپاتی ہے مگر اس سے غافل ہے کہ نگینے کے نقش میں پستی ہی کو معراج حاصل ہوتی ہے۔ | |
بہ تسلیمی است ختمِ اعتباراتِ کمال اینجا | ز مہرِ سجدہ آرایید طومارِ عبادت را |
ترجمہ یہاں کمال کے سارے اعتبارات کا خاتمہ تسلیم پر ہے، سجدے کی مہر سے عبادت کے طومار کو آراستہ کرو۔ | |
مپندارید عاشق شکوہ پردازد ز بیدادش | کہ لب واکردن امکان نیست زخمِ تیغِ الفت را |
ترجمہ یہ نہ سمجھو کہ عاشق اس کے ظلم کا شکوہ کرے گا، کیونکہ الفت کی تلوار کے زخم کو لب کھولنا ممکن نہیں۔ | |
درین صحرا ہمہ گر از غباری چشم می پوشم | عرق آیینہ ہا بر جبہہ می بندد مروت را |
ترجمہ اس صحرا میں اگر میں کسی غبار سے بھی آنکھ چراتا ہوں تو پسینہ مروت کی پیشانی پر آئینے باندھ دیتا ہے۔ | |
اگر سنگِ وقارت در نظرہا شد سبک بیدل | فلاخن کردہ باشی گردشِ رنگِ قناعت را |
ترجمہ اے بیدل، اگر تیرے وقار کا پتھر نظروں میں ہلکا ہو گیا تو گویا تو نے قناعت کے رنگ کی گردش کو گوپھن بنا لیا ہے۔ | |
