بود داغِ من مردمِ دیدۂ شب | ز دودِ دلم موی ژولیدۂ شب |
ترجمہ میرا داغ رات کی آنکھ کی پتلی ہے، اور میرے دل کے دھوئیں سے رات کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ | |
ز ہر حلقۂ طرۂ اوست روشن | بہ روی سحر حیرتِ دیدۂ شب |
ترجمہ اس کی زلف کے ہر حلقے سے سحر کے چہرے پر رات کی آنکھ کی حیرت روشن ہے۔ | |
دل از طرہ رم کرد و شد صیدِ رویش | بہ صبح آشتی کرد رنجیدۂ شب |
ترجمہ دل زلف سے بھاگا اور اس کے چہرے کا شکار ہو گیا؛ رات سے روٹھا ہوا صبح سے صلح کر بیٹھا۔ | |
سیہ بختی او ز مہ غازہ دارد | بنازم بہ بختِ نکوہیدۂ شب |
ترجمہ اس کی سیاہ بختی چاند سے غازہ لیتی ہے؛ رات کے ملامت زدہ نصیب پر میں ناز کرتا ہوں۔ | |
فروغِ سحر کابروی جہان است | بود گردی از دامنِ چیدۂ شب |
ترجمہ سحر کی روشنی جو دنیا کی آبرو ہے، رات کے سمیٹے ہوئے دامن کی ایک گرد ہے۔ | |
ز بیدل مپرسید مضمونِ زلفش | چہ خواند کسی خطِ پیچیدۂ شب |
ترجمہ بیدل سے اس کی زلف کا مضمون نہ پوچھو؛ رات کی پیچیدہ تحریر کوئی کیا پڑھے۔ | |
