اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کیپٹن منظور حسین کے نام

خط (288) — 8 جون 1918ء

لاہور 8؍ جون 1918ء1

مخدومی السلام علیکم!

آپ کا خط مع نسخہ ’’پیامِ غربت‘‘ مل گیا ہے۔ آپ کی نظمیں بہت اچھی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ لوگ انھیں پسند کریں گے اور یہ چھوٹا سا مجموعہ مقبولِ عام ہوگا۔ آج کل وہ زمانہ ہے کہ مسلمان کو اپنی کوئی قوت اپنے نفس کی خاطر صرف نہ کرنی چاہیئے۔

حضرت جنیدؒ نے ایک دفعہ بیماری میں قرآن شریف کی ایک سورۃ اپنے اوپر پڑھ کے دم کی تھی، بارگاہِ ایزدی سے اُنھیں ملامت ہوئی کہ تو ہمارا کلام اپنے نفس کی خاطر صرف کرتا ہے۔ آج یہ حالت ہے کہ خدا کا کلام تو ایک طرف اپنا کلام بھی اپنے نفس کی خاطر صرف نہیں ہونا چاہیئے۔ سرِ عنوان شعر (اوروں کا ہے پیام۔ الخ) جہاں تک مجھے یاد ہے میرا ہے۔ اس نظم میں بہت سے اغلاط چھپ گئے تھے۔ دوسرے مصرع میں ’’غربت‘‘ کی جگہ لفظ ’’عشق‘‘ ہے۔ غربت سے بحرِ شعر کا درست نہیں رہتا۔ نظرِ ثانی میں مَیں نے اسے درست کر دیا ہے، آپ بھی دوسری ایڈیشن میں تصحیح کر لیں۔ خط میں جو حسنِ ظن آپ نے میری نسبت اظہار فرمایا ہے۔ اس کے لئے سراپا سپاس ہوں۔ میرا مقصود شاعری سے شاعری نہیں، بلکہ یہ کہ اوروں کے دلوں میں بھی وہی خیالات موج زن ہو جائیں جو میرے دل میں ہیں اور بس۔

والسلام

محمد اقبال لاہور

(انوار اقبال)