چشمِ من بی تو طلسمی است بہم بستہ ز عالم | این معمای تحیر تو مگر بازگشایی |
ترجمہ تیرے بغیر میری آنکھ دنیا سے بند ایک طلسم ہے؛ حیرت کا یہ معما شاید تو ہی کھولے۔ | |
مقصدِ بینش اگر حیرتِ دیدارِ تو باشد | از چہ خودبین نشود کس کہ تو در کسوتِ مایی |
ترجمہ اگر بینش کا مقصد تیرے دیدار کی حیرت ہے تو کوئی خود بین کیوں نہ ہو، جبکہ تو ہمارے ہی لباس میں ہے۔ | |
بی ادب بس کہ بہ راہِ طلبت راہ گشودم | می زند آبلہ ام از سرِ عبرت کفِ پایی |
ترجمہ میں نے تیری طلب کی راہ میں اتنی بےادبی سے راستہ کھولا کہ میرا آبلہ عبرت کے طور پر مجھے ٹھوکر مارتا ہے۔ | |
طایرِ نامہ برِ شوقم و پرواز ندارم | چقدر آب کنم دل کہ شود نالہ ہوایی |
ترجمہ میں شوق کا نامہ بر پرندہ ہوں مگر اڑان نہیں رکھتا؛ دل کو کتنا پانی کروں کہ فریاد ہوا میں اڑ سکے۔ | |
بست زیرِ فلک آزادگی ام نقشِ فشردن | نالہ در کوچۂ نی شد گرہ از تنگ فضایی |
ترجمہ آسمان کے نیچے میری آزادگی نے بھنچ جانے کا نقش باندھا؛ بانسری کی گلی میں فریاد فضا کی تنگی سے گرہ بن گئی۔ | |
خندہ عمری ست نمی آیدم از کلفتِ ہستی | حاصلی نیست در اینجا تو ہم ای گریہ نیایی |
ترجمہ ہستی کی کلفت سے مدت سے مجھے ہنسی نہیں آتی؛ یہاں کچھ حاصل نہیں، اے گریہ، تو بھی نہ آ۔ | |
دل ز نیرنگِ تو خون شد، خرد آشفت و جنون شد | ای جہان شوخیٔ رنگِ تو، تو بیرنگ چرایی |
ترجمہ تیرے نیرنگ سے دل خون ہوا، عقل پریشان ہو کر جنون بن گئی؛ اے وہ کہ جہان تیرے رنگ کی شوخی ہے، تو خود بےرنگ کیوں ہے۔ | |
دلِ بیدل نکند قطعِ تعلق ز خیالت | حیرت و آینہ را نیست ز ہم رنگِ جدایی |
ترجمہ بیدل کا دل تیرے خیال سے تعلق نہیں توڑتا؛ حیرت اور آئینے میں ایک دوسرے سے جدائی کا کوئی رنگ نہیں۔ | |
