چشمِ تعظیم از گران جانانِ این محفل مدار | کوفتن گردد عصا کز سنگ برخیزد شرار |
ترجمہ اس محفل کے گراں جانوں سے تعظیم کی توقع نہ رکھ؛ لاٹھی کوٹنے لگے تب کہیں پتھر سے چنگاری اٹھتی ہے۔ | |
سیرِ این گلشن مآلش انفعالِ خرمی ست | عاقبت سر در شکستِ رنگ می دزدد بہار |
ترجمہ اس گلشن کی سیر کا انجام خوشی کی شرمندگی ہے؛ آخرکار بہار رنگ کی شکست میں سر چھپا لیتی ہے۔ | |
ہرچہ می بالد علم بر دوشِ گردِ عاجزی ست | نیستان شد عرصہ از انگشتہای زینہار |
ترجمہ جو کچھ بھی بلند ہوتا ہے وہ عاجزی کی گرد کے کندھے پر پرچم ہے؛ امان مانگتی انگلیوں سے میدان نیستان بن گیا۔ | |
از بنای چینیٔ دل کیست بردارد شکست | ای فلک گر مردی این مو از خمیرِ ما برآر |
ترجمہ دل کی چینی کی عمارت سے کون شکست اٹھا سکتا ہے؛ اے آسمان! اگر تو مرد ہے تو یہ بال ہمارے خمیر سے نکال دے۔ | |
نشئۂ دور و تسلسل تا کہ را گردد نصیب | جای ساغر ششجہت خمیازہ می چیند خمار |
ترجمہ دیکھیے دور و تسلسل کا نشہ کس کے نصیب میں آتا ہے؛ ساغر کی جگہ خمار چھ سمتوں میں انگڑائیاں سجاتا ہے۔ | |
دل ز ضبطِ یک نفس جمعیتِ کلّیش نیست | بحر ز افسونِ گہر تا کی ز خود گیرد کنار |
ترجمہ ایک سانس کے ضبط سے دل کو پوری جمعیت حاصل نہیں ہوتی؛ سمندر موتی کے افسون سے کب تک اپنے آپ سے کنارہ کرے۔ | |
عالمِ امکان تماشاخانۂ آیینہ است | ہرچہ می بینم بہ رنگِ رفتۂ خویشم دچار |
ترجمہ عالمِ امکان آئینے کا تماشا خانہ ہے؛ جو کچھ دیکھتا ہوں، اپنے ہی گزرے ہوئے رنگ سے دوچار ہوتا ہوں۔ | |
با دل افتادہ ست کارِ زندگی آگاہ باش | آب را ناچار باید گشت در گوہر غبار |
ترجمہ زندگی کا معاملہ دل سے آ پڑا ہے، آگاہ رہ؛ پانی کو ناچار موتی کے اندر غبار بننا ہی پڑتا ہے۔ | |
مرزبانِ یأس امشب نامِ فرہاد کہ بود | کز گرانی شد صدا نقشِ نگینِ کوہسار |
ترجمہ آج رات مایوسی کے سرحد بان فرہاد کا نام کس نے لیا کہ اس کی گرانی سے صدا کہسار کے نگینے کا نقش بن گئی۔ | |
بوی پیراہن بہ حسرت کرد خلقی را مثل | می کشد یک دیدۂ یعقوب چندین انتظار |
ترجمہ پیراہن کی خوشبو نے ایک خلقت کو حسرت میں ضرب المثل بنا دیا؛ یعقوب کی ایک آنکھ کتنے ہی انتظار کھینچتی ہے۔ | |
از نفس سعیِ جنونِ ناقصم فہمیدنی ست | صد گریبان می درم اما ہمین یک رشتہ وار |
ترجمہ سانس سے میرے ناقص جنون کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے؛ سو گریبان چاک کرتا ہوں مگر بس ایک دھاگے بھر۔ | |
می کشم تا قامتِ پیری ست بارِ ہرچہ ہست | گو فلک دوشِ خمِ خود نیز بر دوشم گذار |
ترجمہ جب تک بڑھاپے کا قد باقی ہے، جو کچھ ہے اس کا بوجھ اٹھاتا ہوں؛ آسمان سے کہو اپنے خم کا کندھا بھی میرے کندھے پر رکھ دے۔ | |
بوریای فقرم آخر شہرۂ آفاق شد | ہر سرِ موی من اینجا چون نفس شد نی سوار |
ترجمہ میرے فقر کی چٹائی آخر آفاق میں مشہور ہو گئی؛ یہاں میرے ہر بال کا سرا سانس کی طرح نَے پر سوار ہو گیا۔ | |
زحمتِ فکرِ درودن تا کی ای کشتِ امل | پرکہن شد ریشہ اکنون گردنِ دیگر برآر |
ترجمہ اے امید کی کھیتی! کٹائی کی فکر کی زحمت کب تک؛ جڑ بہت پرانی ہو گئی، اب کوئی اور گردن نکال۔ | |
بیدل از علم و عمل گر مدعا جمعیت است | ہیچ کاری غیرِ بیکاری نمی آید بہ کار |
ترجمہ بیدل! اگر علم و عمل سے مقصود جمعیت ہے تو بے کاری کے سوا کوئی کام کام نہیں آتا۔ | |
