اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

چشم تعظیم ازگران جانان این محفل مدار

چشمِ تعظیم از گران جانانِ این محفل مدار

کوفتن گردد عصا کز سنگ برخیزد شرار

ترجمہ اس محفل کے گراں جانوں سے تعظیم کی توقع نہ رکھ؛ لاٹھی کوٹنے لگے تب کہیں پتھر سے چنگاری اٹھتی ہے۔

سیرِ این گلشن مآلش انفعالِ خرمی ست

عاقبت سر در شکستِ رنگ می دزدد بہار

ترجمہ اس گلشن کی سیر کا انجام خوشی کی شرمندگی ہے؛ آخرکار بہار رنگ کی شکست میں سر چھپا لیتی ہے۔

ہرچہ می بالد علم بر دوشِ گردِ عاجزی ست

نیستان شد عرصہ از انگشتہای زینہار

ترجمہ جو کچھ بھی بلند ہوتا ہے وہ عاجزی کی گرد کے کندھے پر پرچم ہے؛ امان مانگتی انگلیوں سے میدان نیستان بن گیا۔

از بنای چینیٔ دل کیست بردارد شکست

ای فلک گر مردی این مو از خمیرِ ما برآر

ترجمہ دل کی چینی کی عمارت سے کون شکست اٹھا سکتا ہے؛ اے آسمان! اگر تو مرد ہے تو یہ بال ہمارے خمیر سے نکال دے۔

نشئۂ دور و تسلسل تا کہ را گردد نصیب

جای ساغر ششجہت خمیازہ می چیند خمار

ترجمہ دیکھیے دور و تسلسل کا نشہ کس کے نصیب میں آتا ہے؛ ساغر کی جگہ خمار چھ سمتوں میں انگڑائیاں سجاتا ہے۔

دل ز ضبطِ یک نفس جمعیتِ کلّیش نیست

بحر ز افسونِ گہر تا کی ز خود گیرد کنار

ترجمہ ایک سانس کے ضبط سے دل کو پوری جمعیت حاصل نہیں ہوتی؛ سمندر موتی کے افسون سے کب تک اپنے آپ سے کنارہ کرے۔

عالمِ امکان تماشاخانۂ آیینہ است

ہرچہ می بینم بہ رنگِ رفتۂ خویشم دچار

ترجمہ عالمِ امکان آئینے کا تماشا خانہ ہے؛ جو کچھ دیکھتا ہوں، اپنے ہی گزرے ہوئے رنگ سے دوچار ہوتا ہوں۔

با دل افتادہ ست کارِ زندگی آگاہ باش

آب را ناچار باید گشت در گوہر غبار

ترجمہ زندگی کا معاملہ دل سے آ پڑا ہے، آگاہ رہ؛ پانی کو ناچار موتی کے اندر غبار بننا ہی پڑتا ہے۔

مرزبانِ یأس امشب نامِ فرہاد کہ بود

کز گرانی شد صدا نقشِ نگینِ کوہسار

ترجمہ آج رات مایوسی کے سرحد بان فرہاد کا نام کس نے لیا کہ اس کی گرانی سے صدا کہسار کے نگینے کا نقش بن گئی۔

بوی پیراہن بہ حسرت کرد خلقی را مثل

می کشد یک دیدۂ یعقوب چندین انتظار

ترجمہ پیراہن کی خوشبو نے ایک خلقت کو حسرت میں ضرب المثل بنا دیا؛ یعقوب کی ایک آنکھ کتنے ہی انتظار کھینچتی ہے۔

از نفس سعیِ جنونِ ناقصم فہمیدنی ست

صد گریبان می درم اما ہمین یک رشتہ وار

ترجمہ سانس سے میرے ناقص جنون کی کوشش سمجھی جا سکتی ہے؛ سو گریبان چاک کرتا ہوں مگر بس ایک دھاگے بھر۔

می کشم تا قامتِ پیری ست بارِ ہرچہ ہست

گو فلک دوشِ خمِ خود نیز بر دوشم گذار

ترجمہ جب تک بڑھاپے کا قد باقی ہے، جو کچھ ہے اس کا بوجھ اٹھاتا ہوں؛ آسمان سے کہو اپنے خم کا کندھا بھی میرے کندھے پر رکھ دے۔

بوریای فقرم آخر شہرۂ آفاق شد

ہر سرِ موی من اینجا چون نفس شد نی سوار

ترجمہ میرے فقر کی چٹائی آخر آفاق میں مشہور ہو گئی؛ یہاں میرے ہر بال کا سرا سانس کی طرح نَے پر سوار ہو گیا۔

زحمتِ فکرِ درودن تا کی ای کشتِ امل

پرکہن شد ریشہ اکنون گردنِ دیگر برآر

ترجمہ اے امید کی کھیتی! کٹائی کی فکر کی زحمت کب تک؛ جڑ بہت پرانی ہو گئی، اب کوئی اور گردن نکال۔

بیدل از علم و عمل گر مدعا جمعیت است

ہیچ کاری غیرِ بیکاری نمی آید بہ کار

ترجمہ بیدل! اگر علم و عمل سے مقصود جمعیت ہے تو بے کاری کے سوا کوئی کام کام نہیں آتا۔