چہ امکان است گردِ غیر ازین محفل شود پیدا | ہمان لیلی شود بی پردہ تا محمل شود پیدا |
ترجمہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس محفل میں غیر کی گرد نمودار ہو؛ جوں ہی محمل ظاہر ہوتا ہے، وہی لیلیٰ بے پردہ نظر آ جاتی ہے۔ | |
غناگاہِ خطاب از احتیاج آگاہ می گردد | کریم آواز دہ کز ششجہت سایل شود پیدا |
ترجمہ بے نیازی کی بارگاہ پکارے جانے ہی سے حاجت سے آگاہ ہوتی ہے؛ اے کریم، آواز دے کہ چھ سمتوں سے سائل نمودار ہو جائیں۔ | |
مجازاندیشی ات فہمِ حقیقت را نمی شاید | محال است اینکہ حق از عالمِ باطل شود پیدا |
ترجمہ تیری مجاز اندیشی حقیقت کو سمجھنے کے لائق نہیں؛ یہ محال ہے کہ باطل کے عالم سے حق ظاہر ہو۔ | |
نفس را الفتِ دل ہم ز وحشت برنمی آرد | رہِ ما طی نگردد گر ہمہ منزل شود پیدا |
ترجمہ دل کی الفت بھی سانس کو وحشت سے باہر نہیں نکالتی؛ ہمارا راستہ طے نہیں ہوتا خواہ سراسر منزل ہی سامنے آ جائے۔ | |
برونِ دل نفس را پرفشان دیدم ندانستم | کہ عنقا چون شود از بیضہ گم بسمل شود پیدا |
ترجمہ میں نے سانس کو دل سے باہر پر پھڑپھڑاتے دیکھا اور نہ جانا کہ عنقا جب انڈے سے گم ہو جاتا ہے تو بسمل بن کر نمودار ہوتا ہے۔ | |
بہ گوہر وارسیدن موجہا برہم زدن دارد | جہانی را شکافی سینہ تا یک دل شود پیدا |
ترجمہ موتی تک پہنچنے کے لیے بہت سی موجوں کو درہم برہم ہونا پڑتا ہے؛ ایک جہان کا سینہ چیرو تب کہیں ایک دل ہاتھ آتا ہے۔ | |
رہِ آوارگی عمری ست می پویم نشد یارب | کہ چون تمثال یک آیینہ وارم دل شود پیدا |
ترجمہ ایک عمر سے آوارگی کی راہ پر دوڑ رہا ہوں؛ یا رب، ایسا نہ ہوا کہ عکس کی طرح مجھے بھی آئینے جیسا ایک دل میسر آ جائے۔ | |
ز محوِ عشق غیر از عشق نتوان یافت آثاری | بہ دریا قطرہ خون گردید گم مشکل شود پیدا |
ترجمہ جو عشق میں محو ہو گیا اس کا عشق کے سوا کوئی نشان نہیں ملتا؛ قطرہ دریا میں خون ہو کر گم ہو گیا، اب اس کا ملنا مشکل ہے۔ | |
شہیدانِ ادبگاہِ وفا را خون نمی باشد | مگر رنگِ حنایی از کفِ قاتل شود پیدا |
ترجمہ وفا کی ادب گاہ کے شہیدوں میں خون نہیں ہوتا؛ ہاں شاید قاتل کی ہتھیلی سے حنا کا سا رنگ نمایاں ہو جائے۔ | |
سوادِ کنجِ معدومی قیامت عالمی دارد | کہ ہرکس ہرکجا گم شد ازین منزل شود پیدا |
ترجمہ معدومی کے گوشے کی سرزمین قیامت کا عالم رکھتی ہے کہ جو کوئی جہاں کہیں گم ہوا، اسی منزل سے برآمد ہوتا ہے۔ | |
بہ رنگی موجِ خلقی از تپیدن آب می گردد | کزین دریا بہ قدرِ یک گہر ساحل شود پیدا |
ترجمہ مخلوق کی ایک موج اس طرح تڑپ تڑپ کر پانی ہو جاتی ہے کہ اس دریا میں ایک موتی کے برابر ساحل پیدا ہو جائے۔ | |
نفس تا ہست زین مزرع تلاشِ دانۂ دل کن | کہ این گمگشتہ گر پیدا شود حاصل شود پیدا |
ترجمہ جب تک سانس باقی ہے اس کھیتی میں دل کے دانے کی تلاش کر، کہ یہ کھویا ہوا مل جائے تو ساری فصل ہاتھ آ جاتی ہے۔ | |
بہ قدرِ آگہی آمادہ است اسبابِ تشویشت | طبیعت باید اینجا اندکی غافل شود پیدا |
ترجمہ جتنی آگہی ہے اسی قدر تیری پریشانی کے اسباب تیار ہیں؛ یہاں ایسی طبیعت چاہیے جو ذرا غافل ہو۔ | |
درین دریا دلِ ہر قطرہ گہر در گوہر دارد | اگر بر روی آب آید ہمان بیدل شود پیدا |
ترجمہ اس دریا میں ہر قطرے کا دل موتی در موتی رکھتا ہے؛ اگر وہ پانی کی سطح پر آ جائے تو وہی بیدل بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ | |
