چہ لازم است درین عرصہ عجز کیش برآیی | تعیّن است کمی ہم مباد بیش برآیی |
ترجمہ اس میدان میں عاجزی کو مسلک بنا کر نکلنا کیا ضروری ہے؟ کمی بھی ایک تعین ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تو زیادہ ہو کر نکلے۔ | |
ز سیرِ غنچہ و گل زخمیٔ ہوس نتوان شد | خوش آنکہ غوطہ زنی در دل و ز ریش برآیی |
ترجمہ کلی اور پھول کی سیر سے ہوس کا زخمی نہیں ہونا چاہیے؛ خوب ہے کہ تو دل میں غوطہ لگائے اور زخم سے ابھر آئے۔ | |
بہ قدِ شعلہ ز آتش دمد کلاہ شکستن | تو ہم بناز بہ خود ہر قدر بہ خویش برآیی |
ترجمہ شعلے کے قد پر آگ سے ٹیڑھی ٹوپی کا بانکپن اگتا ہے؛ تو بھی جتنا اپنے آپ سے ابھرے، خود پر ناز کر۔ | |
بہشتِ عافیتت گوشۂ دل ست مبادا | چو اشکِ آبلہ ای بر ہزار نیش برآیی |
ترجمہ تیری عافیت کی جنت دل کا گوشہ ہے؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ تو آبلے کے آنسو کی طرح ہزار کانٹوں پر جا نکلے۔ | |
بس است جراتِ نظارہ ننگِ مشربِ الفت | بہ گردِ حسن مگرد آنقدر کہ ریش برآیی |
ترجمہ نظارے کی جرأت ہی الفت کے مسلک کے لیے کافی شرم ہے؛ حسن کے گرد اتنا نہ گھوم کہ زخمی ہو کر نکلے۔ | |
سراغِ امن ندارد غبارِ شہرتِ عنقا | ز خلق آنہمہ واپس مرو کہ پیش برآیی |
ترجمہ عنقا کی شہرت کی گرد کو امن کا سراغ نہیں؛ خلق سے اتنا پیچھے نہ ہٹ کہ آگے جا نکلے۔ | |
فریبِ کسوتِ وہمت رہِ یقین زدہ بیدل | ز رنگِ خویش برآ تا بہ رنگِ خویش برآیی |
ترجمہ بیدل! تیرے وہم کے لباس کے فریب نے یقین کی راہ مار لی ہے؛ اپنے رنگ سے باہر آ تاکہ اپنے اصل رنگ میں ظاہر ہو۔ | |
