اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

چہ معنی بیانی چہ لفظ آشنایی

چہ معنی بیانی چہ لفظ آشنایی

رسایی مدان تا ز خود بر نیایی

ترجمہ کیا معنی بیانی اور کیا لفظ آشنائی؛ جب تک تو اپنے آپ سے باہر نہ نکلے، اسے رسائی نہ سمجھ۔

چو رو یابد آیینۂ بیحیایی

شود جوہر آرای دندان نمایی

ترجمہ جب بےحیائی کا آئینہ رخ پا لیتا ہے تو دانت دکھا کر ہنسنے کا جوہر سجانے لگتا ہے۔

چہ مقدار آرایشِ خندہ دارد

کفِ خاک و آنگہ دماغِ خدایی

ترجمہ مٹھی بھر خاک اور پھر خدائی کا دماغ — اس میں ہنسی کا کتنا سامان ہے۔

متن بر غروری کہ مانند آتش

روی شعلہ ای چند و خاکستر آیی

ترجمہ ایسے غرور پر نہ اِترا کہ آگ کی طرح چند شعلے بن کر جائے اور راکھ بن کر لوٹے۔

نفس مایہ را می کشد لافِ ہستی

بہ رسوایی بی زر و میرزایی

ترجمہ جس کا سرمایہ بس ایک سانس ہے، ہستی کی ڈینگ اسے بےزر مرزائی کی رسوائی تک کھینچ لے جاتی ہے۔

فلک غم ندارد ز آہِ ضعیفان

چہ پروا ہدف را ز تیرِ ہوایی

ترجمہ آسمان کو کمزوروں کی آہ کا غم نہیں؛ نشانے کو ہوائی تیر کی کیا پروا۔

در آیینۂ ہوشِ ما زنگِ غفلت

نہفتہ ست چون فسق در پارسایی

ترجمہ ہمارے ہوش کے آئینے میں غفلت کا زنگ یوں چھپا ہے جیسے پارسائی میں فسق۔

بہ دردِ سرِ تہمتِ سرکشیہا

من و عافیت صندلِ جبہہ سایی

ترجمہ سرکشیوں کی تہمت کے دردِ سر میں، میں ہوں اور عافیت کے لیے پیشانی رگڑنے کا صندل۔

چو ریزد پر و بالِ من از تپیدن

شکستِ قفس را شود مومیایی

ترجمہ جب تڑپنے سے میرے پر و بال جھڑ جائیں تو وہ پنجرے کی شکست کے لیے مومیائی بن جاتے ہیں۔

سخن کرد توفانیٔ انفعالم

شنا داد سازِ مرا تر صدایی

ترجمہ بات نے مجھے ندامت کے طوفان میں ڈال دیا؛ بھیگی آواز نے میرے ساز کو تیرنا سکھا دیا۔

قناعت کند مرکزِ آبرویت

شود قطرہ گوہر بہ صبر آزمایی

ترجمہ قناعت تیری آبرو کو اس کے مرکز پر قائم رکھتی ہے؛ صبر آزمائی سے قطرہ موتی بن جاتا ہے۔

اگر کشتیٔ آسمان غرق گردد

قلندر ندارد غمِ ناخدایی

ترجمہ اگر آسمان کی کشتی ڈوب جائے تب بھی قلندر کو ناخدائی کا غم نہیں۔

درین انجمن غیرِ عبرت چہ دارد

غرورِ نی و خجلتِ بوریایی

ترجمہ اس انجمن میں عبرت کے سوا کیا ہے؛ سرکنڈے کا غرور اور بوریے کی شرمندگی۔

بہ ہستی من و ما ضروریست بیدل

نفس نیست جز مایۂ خود ستایی

ترجمہ بیدل، ہستی میں ’’میں‘‘ اور ’’ہم‘‘ ناگزیر ہیں؛ سانس خود ستائی کے سرمائے کے سوا کچھ نہیں۔