چہ معنی بیانی چہ لفظ آشنایی | رسایی مدان تا ز خود بر نیایی |
ترجمہ کیا معنی بیانی اور کیا لفظ آشنائی؛ جب تک تو اپنے آپ سے باہر نہ نکلے، اسے رسائی نہ سمجھ۔ | |
چو رو یابد آیینۂ بیحیایی | شود جوہر آرای دندان نمایی |
ترجمہ جب بےحیائی کا آئینہ رخ پا لیتا ہے تو دانت دکھا کر ہنسنے کا جوہر سجانے لگتا ہے۔ | |
چہ مقدار آرایشِ خندہ دارد | کفِ خاک و آنگہ دماغِ خدایی |
ترجمہ مٹھی بھر خاک اور پھر خدائی کا دماغ — اس میں ہنسی کا کتنا سامان ہے۔ | |
متن بر غروری کہ مانند آتش | روی شعلہ ای چند و خاکستر آیی |
ترجمہ ایسے غرور پر نہ اِترا کہ آگ کی طرح چند شعلے بن کر جائے اور راکھ بن کر لوٹے۔ | |
نفس مایہ را می کشد لافِ ہستی | بہ رسوایی بی زر و میرزایی |
ترجمہ جس کا سرمایہ بس ایک سانس ہے، ہستی کی ڈینگ اسے بےزر مرزائی کی رسوائی تک کھینچ لے جاتی ہے۔ | |
فلک غم ندارد ز آہِ ضعیفان | چہ پروا ہدف را ز تیرِ ہوایی |
ترجمہ آسمان کو کمزوروں کی آہ کا غم نہیں؛ نشانے کو ہوائی تیر کی کیا پروا۔ | |
در آیینۂ ہوشِ ما زنگِ غفلت | نہفتہ ست چون فسق در پارسایی |
ترجمہ ہمارے ہوش کے آئینے میں غفلت کا زنگ یوں چھپا ہے جیسے پارسائی میں فسق۔ | |
بہ دردِ سرِ تہمتِ سرکشیہا | من و عافیت صندلِ جبہہ سایی |
ترجمہ سرکشیوں کی تہمت کے دردِ سر میں، میں ہوں اور عافیت کے لیے پیشانی رگڑنے کا صندل۔ | |
چو ریزد پر و بالِ من از تپیدن | شکستِ قفس را شود مومیایی |
ترجمہ جب تڑپنے سے میرے پر و بال جھڑ جائیں تو وہ پنجرے کی شکست کے لیے مومیائی بن جاتے ہیں۔ | |
سخن کرد توفانیٔ انفعالم | شنا داد سازِ مرا تر صدایی |
ترجمہ بات نے مجھے ندامت کے طوفان میں ڈال دیا؛ بھیگی آواز نے میرے ساز کو تیرنا سکھا دیا۔ | |
قناعت کند مرکزِ آبرویت | شود قطرہ گوہر بہ صبر آزمایی |
ترجمہ قناعت تیری آبرو کو اس کے مرکز پر قائم رکھتی ہے؛ صبر آزمائی سے قطرہ موتی بن جاتا ہے۔ | |
اگر کشتیٔ آسمان غرق گردد | قلندر ندارد غمِ ناخدایی |
ترجمہ اگر آسمان کی کشتی ڈوب جائے تب بھی قلندر کو ناخدائی کا غم نہیں۔ | |
درین انجمن غیرِ عبرت چہ دارد | غرورِ نی و خجلتِ بوریایی |
ترجمہ اس انجمن میں عبرت کے سوا کیا ہے؛ سرکنڈے کا غرور اور بوریے کی شرمندگی۔ | |
بہ ہستی من و ما ضروریست بیدل | نفس نیست جز مایۂ خود ستایی |
ترجمہ بیدل، ہستی میں ’’میں‘‘ اور ’’ہم‘‘ ناگزیر ہیں؛ سانس خود ستائی کے سرمائے کے سوا کچھ نہیں۔ | |
