چیست ہستی بہ آن ہمہ آزار | گلِ چشمی و نازِ صد مژہ خار |
ترجمہ اس سارے آزار کے ساتھ ہستی کیا ہے؟ ایک آنکھ کا پھول اور سو پلکوں کے کانٹوں کا ناز۔ | |
عیش مزدِ خیالِ نومیدی ست | حسرتی خون کن و بہار انگار |
ترجمہ عیش ناامیدی کے خیال کی مزدوری ہے؛ کوئی حسرت خون کر اور اسے بہار سمجھ لے۔ | |
نیست امروز قابلِ ترجیح | حلقۂ صحبتی بہ حلقۂ مار |
ترجمہ آج کسی صحبت کا حلقہ سانپ کے حلقے پر ترجیح کے قابل نہیں۔ | |
در ترش رویی انفعالی ہست | سرکہ ناچار عطر آرد بار |
ترجمہ ترش روئی میں ایک شرمندگی چھپی ہوتی ہے؛ سرکہ ناچار عطر کا پھل لاتا ہے۔ | |
دمِ پیری ز خود مشو غافل | صبح را نیست در نفس تکرار |
ترجمہ بڑھاپے کے وقت اپنے آپ سے غافل نہ ہو؛ صبح کی سانس میں تکرار نہیں ہوتی۔ | |
شاید آیینہ ای ببار آید | تخمِ اشکی بہ یادِ جلوہ بکار |
ترجمہ شاید کوئی آئینہ پھل بن کر اُگ آئے؛ جلوے کی یاد میں آنسو کا بیج بو دے۔ | |
حیرتت قدردانِ این چمن است | رنگِ ما نشکنی مژہ مفشار |
ترجمہ تیری حیرت ہی اس چمن کی قدردان ہے؛ ہمارا رنگ نہ توڑ، پلکیں نہ بھینچ۔ | |
چون قلم عندلیبِ معنی را | بالِ پرواز نیست جز منقار |
ترجمہ قلم کی طرح معنی کی بلبل کے پاس چونچ کے سوا اڑنے کا کوئی پر نہیں۔ | |
سرکشی سنگِ راہِ آزادی ست | کوہ صحراست گر شود ہموار |
ترجمہ سرکشی آزادی کی راہ کا پتھر ہے؛ پہاڑ ہموار ہو جائے تو صحرا ہے۔ | |
نوسوادِ کتابِ امیدم | غافلم زانچہ می کنم تکرار |
ترجمہ میں امید کی کتاب کا نو آموز ہوں؛ جو کچھ دہراتا ہوں اسی سے غافل ہوں۔ | |
خلوتِ بی تکلفی دارم | کہ اگر وارسم ندارم بار |
ترجمہ میں ایک ایسی بے تکلف خلوت رکھتا ہوں کہ اگر اس تک پہنچ جاؤں تو مجھے بھی وہاں بار نہ ملے۔ | |
بیدل این باغ حیرت آبادست | ہر گل آنجاست پشت بر دیوار |
ترجمہ بیدل! یہ باغ حیرت کدہ ہے؛ وہاں ہر پھول دیوار سے پیٹھ لگائے کھڑا ہے۔ | |
