چو چینی شدم محوِ نازک ادایی | ز مو خط کشیدم بہ شہرت نوایی |
ترجمہ چینی کے برتن کی طرح میں نازک ادائی میں محو ہوا؛ بال جیسی دراڑ سے میں نے شہرت کی نوا پر لکیر کھینچ دی۔ | |
فغان داغِ دل شد ز بی دست و پایی | فسرد آتشم ای تپیدن کجایی |
ترجمہ بےدست و پائی سے فریاد دل کا داغ بن گئی؛ میری آگ بجھ گئی، اے تڑپ، تو کہاں ہے۔ | |
بہ آن اوجِ اقبالم از بی کسی ہا | کہ دارد مگس بر سرِ من ہمایی |
ترجمہ بےکسیوں کے سبب میں اقبال کی اس بلندی پر ہوں کہ مکھی بھی میرے سر پر ہما بنی ہوئی ہے۔ | |
پر افشانِ شوقم خروشی ست طوقم | گرفتارم اما بقدرِ رہایی |
ترجمہ میں شوق میں پر پھڑپھڑاتا ہوں، میرا طوق ایک خروش ہے؛ میں گرفتار ہوں مگر رہائی کے اندازے پر۔ | |
کبابِ وصالم خرابست حالم | ز غم چون ننالم فغان از جدایی |
ترجمہ میں وصال کی آگ کا کباب ہوں، میرا حال خراب ہے؛ غم سے کیوں نہ روؤں، جدائی سے فریاد ہے۔ | |
نشد آخر از خونِ صیدِ ضعیفم | سر انگشتِ پیکانِ تیرت حنایی |
ترجمہ آخر میرے کمزور شکار کے خون سے تیرے تیر کی انی کی پور مہندی رنگ نہ ہوئی۔ | |
تری نیست در چشمۂ زندگانی | ز خجلت نمِ جبہہ دارم گدایی |
ترجمہ زندگی کے چشمے میں کوئی نمی نہیں؛ شرمندگی سے میں پیشانی کی نمی کی بھیک مانگتا ہوں۔ | |
فنا سازِ دیدار کرد از غبارم | نگہ شد سراپایم از سرمہ سایی |
ترجمہ فنا نے میرے غبار سے دیدار کا ساز بنا دیا؛ سرمہ بن کر پِسنے سے میں سراپا نگاہ ہو گیا۔ | |
تکلف مکن سازِ تقلیدِ عنقا | ز عالم برآ تا بہ رنگم برآیی |
ترجمہ عنقا کی تقلید کا ساز بنانے کا تکلف نہ کر؛ دنیا سے باہر نکل آ تاکہ میرے رنگ میں ظاہر ہو۔ | |
ببالد ہوس در دلِ سادہ لوحان | کند عکس در آینہ خودنمایی |
ترجمہ سادہ لوحوں کے دل میں ہوس یوں بڑھتی ہے جیسے آئینے میں عکس خودنمائی کرتا ہے۔ | |
درین کارگاہِ ہلاکت تماشا | چہ بافد شب و روز جز کربلایی |
ترجمہ ہلاکت کا تماشا دکھانے والے اس کارخانے میں رات دن ایک کربلا کے سوا اور کیا بُنتے ہیں۔ | |
نہ آہنگِ شوقی نہ پروازِ ذوقی | بہ بیکاری ام گشت بیمدعایی |
ترجمہ نہ کسی شوق کا آہنگ ہے نہ کسی ذوق کی پرواز؛ بےمدعائی میری بےکاری بن کر رہ گئی۔ | |
ہوایی نشد دستگیرِ غبارم | زمینم فرو برد از بیعصایی |
ترجمہ کوئی ہوا میرے غبار کی دستگیر نہ ہوئی؛ بےعصائی کے سبب زمین نے مجھے اپنے اندر کھینچ لیا۔ | |
بہ سازِ خموشی شدم شہرہ بیدل | دو بالا زد آہنگم از بینوایی |
ترجمہ بیدل، میں خاموشی کے ساز سے مشہور ہوا؛ بےنوائی سے میرا آہنگ دوگنا بلند ہو گیا۔ | |
