جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کاؤنٹ ٹالسٹائی اور فنِ لطیف

کاؤنٹ ٹالسٹائی نے جہاں دیگر سیاسی، تمدنی اور مذہبی مسائل پر اپنے انقلاب انگیز خیالات ظاہر کیے ہیں، وہاں فنونِ لطیفہ کے متعلق بھی ان کے خیالات جدت نُدرت سے خالی نہیں۔ ان کے مباحث میں ایک خاص وصف یہ ہے کہ چاہے آپ عملاً ان سے موافق نہ ہوں، پر اصولاً آپ ان کے ضرور قائل ہو جاتے ہیں۔ دنیا آج بھی مساوات اور اخوت کے مدعیوں سے خالی نہیں ہے۔ مگر وہ عالیشان ہوٹلوں میں بیٹھے ہوئے ہر ایک تکلف اور آسائش کا لطف اٹھایا کرتے ہیں۔ ٹالسٹائی نے مساوات پر اپنی ساری ثروت اور سارا وقار قربان کر دیا۔ وہ محض تباہ کن نکتہ چین نہیں ہیں۔ اس میں سالکانہ صداقت اور جوش موجود ہے۔ ان کے دل میں شہیدوں کی دھن ہے۔ پیمبروں کا اعتقاد ہے۔ وہ اصولوں کے مقابلہ میں شخصوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ریا اور ظاہر پرستی سے انہیں نفرت ہے۔ رواج کی غلامی کو وہ بدترین غلامی خیال کرتے ہیں۔ دنیا ایسی نمائش پرست ہو گئی ہے کہ آج سچی اور بے لاگ بات کہنے والا آدمی کافر سمجھا جاتا ہے۔ ٹالسٹائی نے مذہبی تصرفات اور انحرافات کا پردہ فاش کیا۔ اس کے لیے دنیا نے ان پر ایجاد کا فتویٰ صادر کیا۔ وہ سچے عیسائی اصولوں کے مؤید تھے۔ دنیا نے انہیں بے دین خیال کیا۔ وہ مساوات کے عملی پیرو تھے۔ دنیا نے انہیں فاتر العقل بتلایا۔ یہاں تک کہ اکثر ادیبوں نے انہیں اپنے زندہ دلانہ کنایات کا نشانہ بنایا ہے۔ مگر ان فتاویٰ کے باوجود اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ ایک پاک باطن اور روشن دل بزرگ تھے۔

انہوں نے فنون لطیفہ کا نہایت محققانہ مطالعہ کیا ہے اور تمام مہذب ممالک کے نقادانِ فنِ لطیف کے اصول اور آرا کا غائر اور بالاستیعاب موازنہ کر کے ثابت کیا ہے کہ اس مسئلہ پر کتنا باہمی اختلاف ہے۔ یہاں تک کہ ”آرٹ“ کی تعریف بھی بے انتہا اختلافات کے معرض میں پڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک عام خیال ہے کہ آرٹ کو سمجھنے اور اس کی کیفیت سے متاثر ہونے کے لیے خاص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس خاص تربیت سے محروم ہے وہ آرٹ سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ کاؤنٹ ٹالسٹائی اس عام خیال کے بالکل برعکس فرماتے ہیں کہ آرٹ کی بہترین صفت اس کی عمومیت ہے۔ جس حد تک آرٹ اس معیارِ عام فہمی سے گر جاتا ہے اس حد تک وہ ناقص ہے۔ ان کے خیال میں شعر ایسا ہونا چاہیے جس کی عوام بھی بیساختہ داد دے سکیں۔ تصویر ایسی ہونی چاہیے جس کی نزاکتیں ہر شخص کی سمجھ میں آجائیں۔ ان کا منشا ہرگز یہ نہیں کہ آرٹ میں لطافت نہ ہو، تاثیر نہ ہو، تناسب نہ ہو۔ لیکن چونکہ طبع انسانی انہیں جذبات کے مجموعے کا نام ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ آرٹ کی لطافت یا تاثیر سے عوام متاثر نہ ہوں۔ بشرطیکہ اسی تصنع اور موشگافی نے بالکل مسخ نہ کر دیا ہو۔ آرٹ فطری جذبات کا اظہار ہے، اور فطری جذبات سے متاثر ہونے کے لیے کسی خاص ذہنی تیاری یا تربیت کی ضرورت نہ ہونی چاہیے۔ دل خوش کرنے والی باتوں سے خاص و عام یکساں محظوظ ہوتے ہیں۔ علیٰ ہذا غمناک واقعات اور دردناک حادثات خاص و عام دونوں پر یکساں اثر پیدا کرتے ہیں۔ جب بنیادی جذبات مشترک ہیں تو آرٹ سے حظ اٹھانے کے لیے خاص تربیت کی ضرورت ہی کیوں ہو؟ وہ آرٹ ناقص ہے جو اس امداد کا محتاج ہے۔ وہ فطری نہیں مصنوعی ہے۔ اس کسوٹی پر کسنے سے دنیا کے کتنے ہی بزرگ ترین مصور، نقاش اور شعرا اپنے رتبے سے گرتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ شیکسپیئر بھی اس الزام سے بری نہیں ہو سکتا۔ الف لیلہ کامل آرٹ ہے۔ اس لیے کہ وہ جھونپڑوں اور محلوں میں یکساں مقبول ہے۔ علیٰ ہذا، بیتال پچیسی اور کتھا سرت ساگر، رامائن اور مہابھارت ادبیات اولیٰ کی بہترین مثالیں ہیں۔ چرواہے اور ہلواہے بھی ان کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ بائبل کی روایتیں کس قدر مطبوعِ انام ہیں۔ کاؤنٹ ٹالسٹائی کی دلیل ہے کہ فنِ لطیفہ کی اس خاص پسندی اور اجنبیت کی ابتدا اس زمانہ سے ہوتی ہے جب مہذب اور برسراقتدار جماعت نے مصنوعی زندگی بسر کرنی شروع کی۔ اپنی تفریح اور عیش کے لیے نئی نئی شان، نئی نئی دلچسپیاں تلاش کرنے لگے۔ اسی مناسبت سے ہمارے جذبات پیچیدہ، دقیق اور بیگانہ ہوتے گئے، اور جوں جوں خاص اور عام کے درمیان مغائرت کی خلیج وسیع ہوتی گئی مہذب مذاق پر تصنع کا رنگ چڑھتا گیا۔ اور اس درجہ نوبت پہنچ گئی ہے کہ آج دور جدید کے فنونِ لطیفہ کا دلدادہ اور قدیم کے سادہ اور فطری جذبات سے کیفیت پذیر نہیں ہو سکتا۔ بجنسہ اسی طرح جیسے تیز مصالحہ جات کی عادی زبان کو سادہ غذا پھیکی اور بے مزہ معلوم ہوتی ہے۔ مہذب جماعت اس تصنع کو اپنی عمیق جذبانیت اور نازک حسیات کا مظہر خیال کرتی ہے۔ اس نے اسی تکلف کو اپنے اور عوام کے درمیان ایک وسیلۂ امتیاز بنا لیا ہے۔ یہی اس کا طبعزاد امتیاز ہے۔ اس کی نحوت کو اس خیال سے مسرت ہوتی ہے کہ ہم مدرکات اور جذبات کی نفاست اور غرابت میں عوام سے کس حد تک بڑھے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے بیشتر صائب الرائے مصنفین آرٹ کی اس نفاست کو اس کے دورِ کمال کا ایک لازمی جزو خیال کرتے ہیں۔ مگر اس میں بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ نفاست آرٹ کو بسااوقات مغلق اور بعیدالفہم بنا دیتی ہے۔ کاؤنٹ ٹالسٹائی کے ان تصانیف میں جو اس خیال کی تدوین سے پہلے لکھی گئی ہیں وہی رنگ موجود ہے۔ جس کی انہوں نے بعد کو تعریض کی ہے، اور حالانکہ ”اینی کرنینا“ ”سباس ٹوپوں“ وغیرہ قصص روسی ادبیات میں ہی نہیں دنیا کی ادبیات میں ممتاز درجہ رکھتے ہیں اور فن ناول نویسی کا اعجاز کہلانے کے مستحق ہیں۔ پر یہ خیال پیدا ہونے کے بعد ٹالسٹائی نے اس رنگ میں لکھنا ترک کر دیا۔ ان کے دورِ آخر کی تصانیف نہایت سادہ، عام فہم، روحانی اور اخلاقی صداقتوں سے لبریز کہانیاں ہیں، جو بائبل یا دیگر قدیم مذہبی تمثیلوں سے مشابہ ہیں، اور اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے رنگ میں فرد ہیں۔ ان میں عمومیت کی صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ وہ رعشہ انگیز ناولوں کے شیدائیوں کو پھیکی اور خشک معلوم ہوں۔ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ ٹالسٹائی کا یہ معیار تعمیم خالص ذہنی اور طبعی اصولوں پر مبنی تھا یا ملکی اور تمدنی حالات پر۔ لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ تمدنی حالات ہی ان کے اس کلیہ کے بانی تھے۔ ان کی انصاف پسند طبیعت کو یہ امر بغایت شاق گزرتا تھا کہ مہذب طبقہ جو اپنی بقا و حیات کے لئے عوام کا دست نگر ہے۔ ان کی ضرورت اور مذاق اور کوتاہیوں کو ذرا بھی خیال میں نہ لا کر محض اپنی محدود جماعت کے ترفع یا تفریح کے لئے کوشاں ہو۔ بجنسہ اسی طرح جیسے کوئی راگی امیروں کی بارات میں گانے جائے اور دھرپد یا حقانی غزل گانا شروع کرے۔ جب ہلواہے اور چرواہے مہذب طبقہ کے ان داتا اور پالنے والے ہیں، تو یہ اس کی سخت احسان فراموشی اور ناشکری ہے اگر وہ اپنے کمال سے انہیں بہرہ ور ہونے کا موقع نہ دے۔ شاعر، مصور، نقاش، بت تراش، ایکٹر، گائیک یہ سب کے سب سوسائٹی کے جزو زائد ہیں۔ اور اگر ان کی ذات سے عوام کو کوئی فیض نہ پہنچے تو انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس عقدے کو حل کرنے کی بظاہر دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو عوام میں تعلیم کی اتنی ترقی ہو کہ ان میں اور خواص میں کوئی خطِ امتیاز نہ رہے۔ یا خواص اپنی بلند پروازیوں کو عام مذاق اور استعداد کے مطیع رکھیں۔ ان دونوں صورتوں میں کون قابل ترجیح ہے اس کا فیصلہ کرنا مشکل نہیں۔ کاؤنٹ ٹالسٹائی کے اصول کی کورانہ پیروی اس زمانہ میں نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ ہمارے خیال میں وہ ایک انتہائی حد پر ہے۔ اور چونکہ صداقت بین الحدود ہوتی ہے، اس لیے مناسب ہے اور ضرورت اس کی مقتضی ہے کہ ہم اپنے آرٹ کو حتی الامکان تصنع، تکلف، مبہم استعارات اور دور از فہم کنایات سے بچائیں۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں اعلیٰ اور ادنیٰ کے درمیان یہ خلیج کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ یہاں وہ جذبات اور بلند پروازیوں تک محدود نہیں ہے۔ اختلافِ زبان نے اس خلیج کو قطعاً ناقابل عبور بنا دیا ہے۔ ہماری قوم کے بہترین افراد انگریزی زبان میں مشق و مذاولت بہم پہنچانے پر مجبور ہیں۔ حالاتِ روزگار نے انہیں معذور بنا رکھا ہے۔ لیکن کاش وہ اپنے ذاتی مفاد اور شہرت کے ساتھ ساتھ کچھ ان جھوپڑوں میں بسنے والوں کا بھی خیال کرتے، جو ان کی تعلیم کے کفیل ہیں تو آج ہمارے عوام کی حالت اتنی زبون نہ ہوتی۔ ہمارے ملک کے بہترین رسائل انگریزی میں نکلتے ہیں اور بولتے ہیں، ان کے کتب خانے انگریزی کتابوں سے سجے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی انتہا درجے کی محسن کشی، حق فراموشی اور خودپروری ہے۔ وہ انگریزی میں اپنی انشاپردازی کے کمال دکھا کر اپنے دل میں مگن ہو لیں۔ اور ممکن ہے عارضی شہرت بھی حاصل کر لیں۔ لیکن اہلِ زبان انہیں بہت دنوں تک یاد نہ رکھیں گے۔ اگر وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ خیالات اس قدر بلند ہیں کہ یہاں کے عوام ان کی قدر نہ کریں گے تو یہ ان کی سخت غلطی ہے۔ جو لوگ کبیر کے بھجن اور سورداس کے پد گاتے اور سمجھتے ہیں، جو رامائن اور مہابھارت سے محظوظ ہو سکتے ہیں، ان کے لیے آپ کے مضامین اور خیالات ہرگز بعید از فہم نہیں ہو سکتے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہم اپنی قومی زبانوں سے ناآشنا ہوں۔ اور ان میں اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے جھجکیں۔ اپنے گھر میں چراغ جلا کر مسجد میں چراغ جلانا پرانی کہاوت ہے۔ جو لوگ اپنے پست خیال ہم وطنوں کی جانب سے آنکھیں بند کر کے عالمگیر شہرت حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، ان کی نسبت بجز اس کے اور کیا کہا جائے کہ پرماتما انہیں راہِ راست پر لائے اور محسن کشی کے گناہِ کبیرہ سے بچنے کی توفیق عطا کرے۔