ٹالسٹائی کی بڑی خواہش یہ تھی کہ ریاست کے موجودہ انتظام کا تاریک رخ بدل دیا جائے، سخت گیری کی پالیسی کو برطرف کر دیا جائے اور لوگوں میں پُر امن قانون جاری کیا جائے، اور انہی طریقوں اور زبانوں کو مد نظر رکھ کر اس نے بعض وقت انصاف سے بالاتر روائیاں بھی کیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو جائے، مگر وہ خود سلطنت کے انتظام یا اس کے نظم و نسق میں داخل ہونا نہیں چاہتا تھا، لیکن سر ڈانلڈ میکنزی والس، جنہوں نے مکمل تاریخ روس لکھی ہے، فرماتے ہیں کہ چوتھائی صدی کے عرصہ میں روس میں بہت کچھ ترقی ہو گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر غلاموں کی آزادی جو 1903ء میں وقوع میں آئی۔ جب سے جاپان نے روس کو شکست دی ہے روسی لوگ آزاد ملکوں کی طرح حقوق مانگ رہے ہیں۔ کسی ملک میں پارلمینٹری گورنمنٹ یا انتظام میں انتخابِ وکلاء کی خواہش لوگوں کی علمی اخلاقی و سوشل ترقی کا ثبوت ہے۔ پارلمینٹری گورنمنٹ جاپان میں برکت ثابت ہوئی، کیونکہ اہل جاپان نے ہر محکمہ اور صیغے میں اپنی قابلیت کا مسلم ثبوت دیا۔ آخر کار لوگوں کی کوشش بار آور ہوئی اور شاہ روس خود بھی اصلاح و ترمیم کے طرف دار ہو گئے۔ اس نے بہت سی مذہبی رعایتیں بھی کر دیں اور پریس کو راستے سے بہت سی رکاوٹیں دور کر دیں۔
جب ملک کی یہ حالت ہو، دل شکستہ و ہراساں ہونا بعید از قیاس نہیں، لیکن کمر ہمت باندھ کر بنی نوع انسان کی تعلیم و تربیت ان کی فلاح و بہبودی کے لیے کوشاں ہونا، برائیوں کا قلع قمع کرنا، نیک اصلاحیں جاری کرنا، اور اس غرض کی تکمیل کے لیے گھر گھر سچائی کا وعظ کرنا، صعوبتیں جھیلنا، سختیوں کا مقابلہ کرنا، ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ پنجابی زبان کا ایک شاعر کا قول ہے کہ ”موت سے ہم بغل ہونا آسان ہے، مگر نیکی کے پرچار اور خلق کی خدمت کے لیے زندہ رہنا بہت مشکل ہے“۔
|
جو مانگوں موت دردِ ہجر سے مجھ کو نہیں زیبا |
کہ نامِ عشق لوں اور اس قدر راحت طلب میں ہوں |
کسی بڑے آدمی نے کہا ہے کہ جو بات آپ کسی قوم کی زندگی میں پیوست کرنا چاہتے ہیں اس کو آپ اسکول میں لڑکوں کے دلوں میں بو دیں۔ یہی بات ٹالسٹائی نے عملاً کوشش کر کے دکھلائی۔ اس نے جابجا ادنیٰ طبقے کے لوگوں، کسانوں کے لڑکوں کی تعلیم کے واسطے مدرسے قائم کیے۔ اور اس میں خود تعلیم دے کر ادنیٰ جماعت کے لوگوں کو اوپر اٹھنے کا موقع دیا، کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ ملک کی سدھار کی اس سے بہتر کوئی سبیل نہیں۔ اعلیٰ طبقے میں کام کرنا نقارے میں طوطی کی آواز کے مصداق ہے۔
دراصل حصول علم کا یہی فائدہ ہونا چاہیے کہ انسان حیوانی حالت سے ترقی کرتا جائے، نیک و سچا بنے، دوسروں کی بہتری کی کوشش کرے۔ آپ اٹھے، گرتے ہوؤں کو اٹھائے اور اس کا عمل اس کی طرزِ زندگی، رفتار و گفتار، خیال و افعال پتا دے کہ وہ واقعی مہاتما ہے جو دوسروں کی بھلائی کے واسطے اپنا سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔
ٹالسٹائی بہت سی کتابوں کا مصنف ہے
(1)اناکرنیوا (2) ریسریکشن (3) پیس اینڈوار (4) ان فینسی (5) چائلڈ ہڈ (6) بوائے ہڈ
یہ کتابیں ان کی جودتِ طبع و زورِ قلم کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ املا و انشا کی خوبیوں کے علاوہ ان میں روحانی ترقی، علوی زندگی، بنی نوع انسان کی بہبودی مضمر ہے۔ ان میں یہ ایک بڑی صفت ہے کہ وہ اپنے زمانے کی حالت کو بخوبی جانچ کر اندرونی و بیرونی اسباب کی پڑتال کر لیتا ہے، اور پھر پُراثر سچائی اور عام فہم زبان میں ان کی ظاہری و باطنی صواب و نقائص پر روشنی ڈالتا ہے۔ عیش پرستوں، آرام طلب شاہزادوں کو نظر حقارت سے دیکھتا ہے اور غربا کا ہمدرد مونس و غمگسار ہے۔ ان کتابوں میں جماعتوں کا ملاپ، اتفاق، قوموں کی یگانگت و مطابقت، بنی نوع انسان میں اتحاد و اتفاق، ملک کی حالت، مذہبی نقائض، زندگی کا تجربہ، موت کی آمد، لالچ کے وقت لغزش، جسمانی تکالیف و مصائب، بیماری کی حالت، ضمیر کی بلندی، روحانی زندگی کا انکشاف، فوجی ملازمت، تحصیل علم سیر و سفرو دیگر مصروفیات اس خوبی سے درج ہیں کہ شاید ہی کہیں اور ہوں۔
اپنی 80 سالہ سالگرہ کے موقع پر ٹالسٹائی نے ان کتابوں کا بڑی حقارت سے ذکر کیا، اور ان کی خوبیوں سے انکار کر کے زندگی کے قدرتی طریق، جسمانی محنت اور رفاہ عام پر زور دیا۔ گویا کتابیں اس کی عقلِ خداداد، اعلیٰ قابلیت، غور و تعمق اور خوبیٔ بیان کا اظہار ہیں۔
مگر وہ ان لوگوں سے جو اس کی جوبلی کی یادگار منانے میں شریک تھے کہتا ہے کہ کیوں لوگ ایسی فضول کتابوں کا رواج دیتے ہیں؟ میری رائے میں ایسی یادگاریں ناجائز ہیں۔ میری زندگی کے کام کا صرف آخری حصہ ایسا ہے جس کو میں خیال کرتا ہوں کہ نہایت مفید اور کارآمد ہے، مگر یہ صرف جشن منا کر میری عزت کرنا مناسب نہیں۔ اگر آپ کو اس کی قدرو قیمت پر اعتبار ہے تو اپنی زندگی میں اس نہ بھولی ہوئی صداقت کے برتاؤ و چال چلن کے قوائد پر عمل کیجیے جن کو میں پچھلے 25 سال سے دنیا کو یاد کرا رہا ہوں۔ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ میں اپنی موت پر ہمیشہ وچار کرتا رہا ہوں، وہ کہتا ہے کہ اب میں بالکل خوش ہوں۔ مگر اب مجھے دوسری خوشی کی ضرورت ہے۔ جو میرے خیال میں جلد حاصل ہونے والی ہے۔ مدت ہوئی اس نے وہ جگہ بتلا دی تھی جہاں اس کی خواہش تھی کہ میں آرام کرنے کے واسطے لٹایا جاؤں، ایسا نہ ہو کہ مجھے کسی اور جگہ دفن کیا جائے۔ یہ مقام ایک چھوٹے سے نالے کے پاس ہے جس کو سٹاری زکس کہتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ ایام طفلی میں اپنے چھوٹے بھائی نکو لینکا کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ یہاں پر ایک دفعہ انہوں نے اپنے بھائی کی نظر بچا کر ایک لکڑی کا ٹکڑا چھپا دیا تھا جس پر ہنسی سے اس فلاسفر نے لکھ دیا تھا کہ لوگوں کے خوش و مسرور کرنے کا سامان یہاں مدفون ہے، اور اب وہ دن آگیا جب اس اشرف المخلوقات انسان کی لاش دفن کی گئی۔ ٹالسٹائی کی وفات سے آج دنیا ایک خیر خواہ انسان سے محروم ہو گئی ہے۔ مگر وہ دنیا کے دیگر مہاپرستوں کی طرح زندہ ہے۔ اس کی نیکی کا تاج اب بھی لوگوں کے دلوں میں زینت دے رہا ہے اور اس کی حکومت نہ صرف روسیوں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے دلوں پر ہے۔ کیونکہ وہ انسان جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے کبھی مر نہیں سکتا اور اس کا نام دنیا کے تختے پر تاابد قائم اور روشن رہے گا۔ ایسے نیک انسان ہر جگہ دنیا کی بہتری و برتری کے لیے جان دیتے ہیں۔ ان کو نہ دنیا میں کسی شے کی خواہش نہ آخرت میں صلہ و انعام کی آرزو ہوتی ہے نہ بقا سے رغبت، نہ فنا سے نفرت، جزا کی خوشی، نہ سزا کا خوف۔ وہ مفید خلائق کام کرتے ہیں اور چاند و سیاروں کی طرح اپنا فرض ادا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کے صفحے ان بزرگوں کے ذکرِ خیر اور صحبتِ پاک سے پاکیزہ ہوں گے جن کی یاد سے آیندہ نسلیں عالی خیالات اور بلند حوصلے حاصل کریں گی ان میں ہمت اور دلوں میں جوش پیدا ہو گا، جن کی تقلید سے عمدہ نتائج حاصل ہوں گے جو سوانح عمری و تاریخ کے مطالعہ کا اصلی مقصد ہے۔
دنیا میں چھوٹے چھوٹے صناع، کاریگر، فلاسفر اور چھوٹے چھوٹے مدبر اپنے اپنے کاموں، ہنروں، فلسفوں اور سیاسی امور میں مصروف رہتے ہیں مگر پھر بھی اس قانونِ ایزدی کی روشنی سے منور کرنے کے لیے ایک ایسے انسان کی ضرورت لاحق ہوتی ہے جو صدیوں میں صرف ایک دو دفعہ چھوٹے چھوٹے خیالی، قیاسی اور بے معنی علم دانوں کو تاریکی میں ڈال دیتا ہے، جیسے کہ آفتاب ستاروں کو۔ جب ایسا انسان دنیا کے پلیٹ فارم پر آتا ہے تو دنیا فوراً اس کی تعظیم اور تکریم کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے، جیسا آج ٹالسٹائی کے لیے۔
اس کی وفات نومبر 1910ء میں واقع ہوئی۔ وہ ایک مشہور معلمِ اخلاق، ایک زبردست مصلح اور ملک و قوم کا سچا خیر اندیش تھا۔ وہ بنی نوعِ انسان کا دوست، آزادی و مساوات کے علاوہ مذہبی آزادی کا معاون و مددگار، اور موجودہ زمانہ کا ایک مشہور و ممتاز عالم تھا۔ وہ اچھا شہسوار، عمدہ نشانہ باز، دلاور، چست و چالاک شکاری، عمدہ تیراک اور فنِ زراعت کے کام میں ماہر و مشاق تھا۔ دوسرے امیروں کے برعکس، وہ عام لوگوں خصوصاً نچلے طبقے کے لوگوں اور زراعت پیشہ جماعت کا بڑا ہی خیرخواہ و حامی تھا۔ روس میں اس کی کوشش کی بدولت زمینداروں اور کسانوں کو آراضی میں مالکانہ حقوق اور حیثیت حاصل ہوئی۔ اس نے سب سے اول سرزمینِ روس میں اپنے غلاموں کو آزاد کر کے دوسروں کو اس کی تقلید پر مائل کیا۔ یہ اس کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ روس میں حصولِ تعلیم کے متعلق بہت سی دشواریاں دور کی گئیں، اس کے طفیل روس میں ایک ایسی پارلیمنٹ کے قائم ہونے میں بے حد مدد ملی جس میں ہر فرقہ، ہر طبقہ اور ہر مذہب کے قائم مقاموں کو شریک کیا گیا۔ فی زمانہ جو کچھ آزادی و مساوات روس میں پائی جاتی ہیں، اس کی کامیابی میں کاؤنٹ ٹالسٹائی نے بہت کچھ حصہ لیا ہے۔
ان جملہ امور کے اعتبار سے وہ دنیا میں ایک عجیب انسان ہوا ہے، اور ساری دنیا میں جہاں کہیں علم و آزادی کا راج ہو، اس کی وفات کا صدمہ نہایت حسرت و اندوہ کے ساتھ محسوس کیا جائے گا۔ الغرض ٹالسٹائی ہر طرح سے قابل قدر اور قابل تعریف شخص تھا، اور اس کی نیکی کے گیت نہ صرف اس کی مرزبوم روس میں ہی گائے جائیں گے بلکہ تمام دنیا میں۔
