در گرفتہ ست زمین تا بہ فلک بی سر و پایی | ای حیا نشئہ مبادا تو بہ این رنگ برآیی |
ترجمہ زمین سے آسمان تک بےسروسامانی کی آگ لگی ہوئی ہے؛ اے حیا سے سرشار، کہیں تو اس رنگ میں ظاہر نہ ہو۔ | |
خاک خور تا نخوری عشوۂ اسبابِ تکلف | جغدِ ویرانہ شوی بہ کہ کنی خانہ خدایی |
ترجمہ خاک کھا لے تاکہ تکلف کے اسباب کا فریب نہ کھائے؛ ویرانے کا الو بن جانا گھر کا مالک بننے سے بہتر ہے۔ | |
ہر کجا کوکبِ اقبالِ جنون ناز فروشد | تاجِ شاہی ست غبارِ قدمِ آبلہ پایی |
ترجمہ جہاں کہیں جنون کے اقبال کا ستارہ ناز دکھائے، وہاں کسی آبلہ پا کے قدموں کی گرد شاہی تاج ہے۔ | |
عبرت آبادِ جہان فرصتِ افسوس ندارد | مژہ بر ہم زدن است آن کفِ دستی کہ بسایی |
ترجمہ جہان کی عبرت گاہ میں افسوس کی بھی فرصت نہیں؛ جو ہاتھ تو ملے گا وہ بس پلک جھپکنے جتنا ہے۔ | |
فیضِ اقبالِ قناعتکدۂ فقر رساتر | می کند سایۂ دیوار درین گوشہ ہمایی |
ترجمہ فقر کے قناعت خانے کے اقبال کا فیض زیادہ رسا ہے؛ اس گوشے میں دیوار کا سایہ بھی ہما کا کام کرتا ہے۔ | |
زین تماشاکدہ حیرانیٔ ما رنگ نگیرد | ورقِ آینہ مشکل کہ توان کرد حنایی |
ترجمہ اس تماشا گاہ سے ہماری حیرانی کوئی رنگ نہیں پکڑتی؛ آئینے کے ورق کو مہندی رنگ کرنا مشکل ہے۔ | |
حسنِ تحقیق گر از عین و سوی پردہ گشاید | تری و آب بہم نیست بہ این تنگ قبایی |
ترجمہ اگر تحقیق کا حسن عین اور غیر کے بیچ سے پردہ اٹھا دے تو اس تنگ قبائی میں نمی اور پانی دو الگ چیزیں نہیں رہتیں۔ | |
غیرتِ مہر نتابد اثرِ ہستیٔ انجم | صرفۂ ماست کہ در آینۂ ما ننمایی |
ترجمہ سورج کی غیرت ستاروں کی ہستی کا اثر برداشت نہیں کرتی؛ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ تو ہمارے آئینے میں ظاہر نہ ہو۔ | |
شعلہ ای خواست بہ مہمانیٔ خاشاک اجازت | گفت در من نتوان یافت مرا گر تو بیایی |
ترجمہ ایک شعلے نے تنکوں کے ہاں مہمان ہونے کی اجازت مانگی؛ تنکوں نے کہا: اگر تو آیا تو مجھ میں مجھے پایا نہ جا سکے گا۔ | |
می کشم ہر نفس از جیبِ تپیدن سرِ دیگر | دارم از گردِ رہت آینۂ بی سر و پایی |
ترجمہ ہر سانس میں تڑپ کے گریبان سے ایک نیا سر نکالتا ہوں؛ تیری راہ کی گرد سے میرے پاس بےسروپائی کا آئینہ ہے۔ | |
چشم بر روی تو نگشود کسی غیرِ نقابت | محو گیر آینہ و عکس کہ از پردہ برآیی |
ترجمہ تیرے نقاب کے سوا کسی نے تیرے چہرے پر آنکھ نہیں کھولی؛ جب تو پردے سے باہر آئے تو آئینے اور عکس کو مٹا ہوا سمجھ۔ | |
بیدل از ما نتوان خواست چہ افغان چہ ترنم | نیِ این بزم شکستہ ست نفس در لبِ نایی |
ترجمہ بیدل، ہم سے نہ فریاد مانگی جا سکتی ہے نہ نغمہ؛ اس بزم کی بانسری نے بانسری نواز کے لب پر ہی سانس توڑ دی ہے۔ | |
