اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

در گلستانی کہ سرو او نباشد جلوہ گر

در گلستانی کہ سروِ او نباشد جلوہ گر

شاخِ گل شمشیرِ خون آلودم آید در نظر

ترجمہ جس گلستان میں اس کا سرو جلوہ گر نہ ہو، وہاں پھول کی شاخ مجھے خون آلود تلوار دکھائی دیتی ہے۔

دستِ جرأتہا بہ چینِ آستین گردد بدل

تا تواند حلقہ گردیدن بہ آن موی کمر

ترجمہ جرأتوں کا ہاتھ آستین کی شکن میں بدل جاتا ہے تاکہ اس بال جیسی کمر کے گرد حلقہ بن سکے۔

تا کند روشن سوادِ مصرعِ ابروی او

می نویسد مدِّ بسم اللہ ماہِ نو بہ زر

ترجمہ اس کے ابرو کے مصرعے کی تحریر روشن کرنے کو نیا چاند سونے سے بسم اللہ کا مد لکھتا ہے۔

بر ندارد دستِ زنگار از کمینِ آینہ

ہر کہ را ذوقِ نمایش بیش، کلفت بیشتر

ترجمہ زنگار آئینے کی گھات سے ہاتھ نہیں اٹھاتا؛ جسے نمائش کا ذوق جتنا زیادہ ہو، اس کی کلفت اتنی ہی زیادہ۔

در تمیزِ آب و رنگِ سرو و گل عاری مباش

لفظِ موزون دیگر است و معنیٔ رنگین دگر

ترجمہ سرو اور پھول کی آب و رنگ پہچاننے سے عاری نہ رہ؛ موزوں لفظ ایک چیز ہے اور رنگین معنی دوسری۔

عالمِ امکان نمی ارزد بہ چندین جستجو

زین رہ آخر می بری خود را دگر زحمت مبر

ترجمہ عالمِ امکان اتنی جستجو کے لائق نہیں؛ اس راہ سے آخر تو اپنے آپ ہی کو لے جائے گا، اور زحمت نہ اٹھا۔

محوِ شوقم، تہمت آلودِ فسردن نیستم

در گریبانِ تأمل قطرہ ہا دارد گہر

ترجمہ میں شوق میں محو ہوں، افسردگی کی تہمت سے آلودہ نہیں؛ تأمل کے گریبان میں قطرے موتی رکھتے ہیں۔

قصہ ہا محو است در آغوشِ بختِ تیرہ ام

شام من جای نفس عمریست می دزدد سحر

ترجمہ میرے سیاہ بخت کی آغوش میں کتنی ہی کہانیاں محو ہیں؛ میری شام مدت سے سانس کی جگہ سحر چرا رہی ہے۔

اندکی پیش آ، کہ حیرت نارسای جرأت است

چشم از آیینہ نتوان داشت بردارد نظر

ترجمہ ذرا آگے آ، کہ حیرت جرأت تک نہیں پہنچ پاتی؛ آئینے سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ نظر اٹھا لے۔

دل نہ تنہا بیدل از برقِ تمنا سوختیم

دیدہ ہم از مردمک دارد گلِ رعنا ثمر

ترجمہ بیدل! تمنا کی بجلی سے ہم نے صرف دل ہی نہیں جلایا؛ آنکھ بھی پتلی کی صورت گلِ رعنا کا پھل رکھتی ہے۔