در این ادبکدہ جز سر بہ ہیچ جا مگذار | جہان تمام زمینِ دل است پا مگذار |
ترجمہ اس ادب کدے میں سر کے سوا کہیں کچھ نہ رکھ؛ سارا جہان دل کی زمین ہے، اس پر پاؤں نہ رکھ۔ | |
چو خامہ تا نکشی خفّتِ نگون ساری | بہ حرفِ ہیچکس انگشتِ ژاژخا مگذار |
ترجمہ قلم کی طرح سرنگونی کی سبکی نہ اٹھانی ہو تو کسی کے حرف پر بکواس کرنے والی انگلی نہ رکھ۔ | |
تظلمِ ضعفا چند گیردت دنبال | بہ ہر رہی کہ روی گرد بر قفا مگذار |
ترجمہ کمزوروں کی فریاد کب تک تیرا پیچھا کرے؛ جس راہ پر بھی چلے، پیچھے گرد نہ چھوڑ۔ | |
در آتشیم ز برقِ گذشتۂ فرصت | سپند تا نجہی پا بہ خاکِ ما مگذار |
ترجمہ ہم گزری ہوئی فرصت کی بجلی سے آگ میں ہیں؛ کہیں اسپند کی طرح اچھل نہ پڑے، ہماری خاک پر پاؤں نہ رکھ۔ | |
جہان قلمروِ مشقِ سیاہکاری نیست | چو امتحانِ قلم نقطہ جا بہ جا مگذار |
ترجمہ جہان سیاہ کاری کی مشق کی قلمرو نہیں؛ قلم آزمانے کی طرح جگہ جگہ نقطے نہ لگا۔ | |
مقیمِ خلوتِ ناموسِ بی نشانی باش | درت اگر ہمہ دست و دل است وا مگذار |
ترجمہ بے نشانی کی آبرو کی خلوت میں مقیم رہ؛ تیرا دروازہ اگر سراسر ہاتھ اور دل بھی ہو، اسے کھلا نہ چھوڑ۔ | |
قناعت آینہ ای نیست مختلف تمثال | غبارِ خود بہ رہِ منتِ صفا مگذار |
ترجمہ قناعت ایسا آئینہ نہیں جس میں طرح طرح کے عکس ہوں؛ اپنا غبار صفا کے احسان کی راہ میں نہ ڈال۔ | |
ترانۂ نگہِ واپسین چہ ابرام است | ز خود ودیعتِ حسرت در این سرا مگذار |
ترجمہ آخری نگاہ کا ترانہ کیسا اصرار ہے؛ اس سرائے میں اپنی طرف سے حسرت کی امانت نہ چھوڑ۔ | |
جبینِ شمع بہ قدرِ نم آشیانِ صباست | تو نیز یک دو عرق دامنِ حیا مگذار |
ترجمہ شمع کی پیشانی اپنی نمی کے مطابق صبا کا آشیانہ ہے؛ تو بھی ایک دو قطرۂ عرق کی خاطر حیا کا دامن نہ چھوڑ۔ | |
حمایتِ تو بہارآفرینِ چترِ گل است | بہ فرقِ بی کلہان دستِ بی حنا مگذار |
ترجمہ تیری حمایت پھول کی چھتری کو بہار بخشتی ہے؛ بے کلاہوں کے سر پر بے حنا ہاتھ نہ رکھ۔ | |
شنیدہ ام تویی آنجا کہ کس نمی باشد | مرا ز قافلۂ بیکسان جدا مگذار |
ترجمہ میں نے سنا ہے کہ جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں تو ہوتا ہے؛ مجھے بے کسوں کے قافلے سے جدا نہ کر۔ | |
بہ داغ می رسد از شعلہ ہای شمع آواز | کزین شررکدہ رفتیم ما، تو جا مگذار |
ترجمہ شمع کے شعلوں سے داغ تک آواز پہنچتی ہے کہ ہم اس شرر کدے سے چل دیے، تو اپنی جگہ نہ چھوڑ۔ | |
رموزِ دہر عیان است فہم کن بیدل | بنای فطرتِ خود بر فسانہ ہا مگذار |
ترجمہ بیدل! زمانے کے رموز ظاہر ہیں، سمجھ لے؛ اپنی فطرت کی بنیاد افسانوں پر نہ رکھ۔ | |
