در طلسمِ درد از ما می توان بردن اثر | گرد ما چون صبح دارد دامنِ چاکِ جگر |
ترجمہ درد کے طلسم میں ہم سے اثر لیا جا سکتا ہے؛ ہماری گرد صبح کی طرح جگر کے چاک کا دامن رکھتی ہے۔ | |
گرمیٔ ہنگامۂ ہستی نگاہی بیش نیست | شمع را تارِ نفس محو است در مدِّ نظر |
ترجمہ ہستی کے ہنگامے کی گرمی ایک نگاہ سے زیادہ نہیں؛ شمع کی سانس کا تار نظر کی درازی میں محو ہے۔ | |
زین محیط آخر بہ جرمِ عافیت خواہیم رفت | موجِ آرامیدہ دارد چینِ دامانِ گہر |
ترجمہ اس سمندر سے آخر ہم عافیت کے جرم میں رخصت ہوں گے؛ موتی کے دامن کی شکن ایک ٹھہری ہوئی موج ہے۔ | |
بسکہ جز عریان تنی ہا نیست سامانِ کسی | پوست جای سایہ می ریزد، نہالِ بارور |
ترجمہ چونکہ برہنہ تنی کے سوا کسی کے پاس کوئی سامان نہیں، پھل دار پودا سائے کی جگہ اپنی چھال گراتا ہے۔ | |
صحبتِ نیکان علاجِ کینِ ظالم می شود | در دلِ خارا بہ آبِ لعل اگر ریزد شرر |
ترجمہ نیکوں کی صحبت ظالم کے کینے کا علاج بن جاتی ہے، جیسے سخت پتھر کے دل میں چنگاری لعل کی آب میں جا گرے۔ | |
خفّتِ ابلہ دو بالا می زند در مفلسی | می شود از خشک گردیدن سبکتر چوبِ تر |
ترجمہ مفلسی میں احمق کی سبکی دوگنی ہو جاتی ہے؛ گیلی لکڑی سوکھ کر اور ہلکی ہو جاتی ہے۔ | |
از مدارا غوطہ در موجِ حلاوت خوردن است | چرب و نرمیہا زبانِ پستہ گیرد در شکر |
ترجمہ نرمی برتنا مٹھاس کی موج میں غوطہ کھانا ہے؛ چکنائی اور نرمی کی بدولت پستے کی زبان شکر میں لپٹ جاتی ہے۔ | |
ای حباب از زورقِ خود اینقدر غافل مباش | نیست در دریای امکان جز نفس موجِ خطر |
ترجمہ اے بلبلے! اپنی کشتی سے اتنا غافل نہ ہو؛ امکان کے سمندر میں سانس کے سوا خطرے کی کوئی موج نہیں۔ | |
فکرِ جمعیت در این گلشن گلِ بیحاصلی ست | غنچہ از ہر برگ دارد دستِ نومیدی بہ سر |
ترجمہ اس گلشن میں جمعیت کی فکر بے حاصلی کا پھول ہے؛ کلی ہر پتی سے ناامیدی کا ہاتھ سر پر رکھے ہوئے ہے۔ | |
سایۂ گم گشتہ را خورشید می باشد سراغ | قاصدت ہم از تو می باید ز ما گیرد خبر |
ترجمہ کھوئے ہوئے سائے کا سراغ سورج ہوتا ہے؛ تیرے قاصد کو بھی تیری خبر ہم ہی سے لینی چاہیے۔ | |
بیش از این بر ناز نتوان خفّتِ تمکین گماشت | ای خرامت موجِ گوہر اندکی آہستہ تر |
ترجمہ اس سے زیادہ ناز پر وقار کی سبکی نہیں ڈالی جا سکتی؛ اے وہ کہ تیری چال موتی کی موج ہے، ذرا اور آہستہ۔ | |
سجدۂ عجز است بیدل ختمِ کارِ سرکشی | عاقبت از داغِ تیغِ شعلہ اندازد شرر |
ترجمہ بیدل! سرکشی کا انجام عجز کا سجدہ ہے؛ آخرکار شعلے کی تلوار کے داغ سے چنگاری جھڑ جاتی ہے۔ | |
