اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

در طلسم درد از ما می توان بردن اثر

در طلسمِ درد از ما می توان بردن اثر

گرد ما چون صبح دارد دامنِ چاکِ جگر

ترجمہ درد کے طلسم میں ہم سے اثر لیا جا سکتا ہے؛ ہماری گرد صبح کی طرح جگر کے چاک کا دامن رکھتی ہے۔

گرمیٔ ہنگامۂ ہستی نگاہی بیش نیست

شمع را تارِ نفس محو است در مدِّ نظر

ترجمہ ہستی کے ہنگامے کی گرمی ایک نگاہ سے زیادہ نہیں؛ شمع کی سانس کا تار نظر کی درازی میں محو ہے۔

زین محیط آخر بہ جرمِ عافیت خواہیم رفت

موجِ آرامیدہ دارد چینِ دامانِ گہر

ترجمہ اس سمندر سے آخر ہم عافیت کے جرم میں رخصت ہوں گے؛ موتی کے دامن کی شکن ایک ٹھہری ہوئی موج ہے۔

بسکہ جز عریان تنی ہا نیست سامانِ کسی

پوست جای سایہ می ریزد، نہالِ بارور

ترجمہ چونکہ برہنہ تنی کے سوا کسی کے پاس کوئی سامان نہیں، پھل دار پودا سائے کی جگہ اپنی چھال گراتا ہے۔

صحبتِ نیکان علاجِ کینِ ظالم می شود

در دلِ خارا بہ آبِ لعل اگر ریزد شرر

ترجمہ نیکوں کی صحبت ظالم کے کینے کا علاج بن جاتی ہے، جیسے سخت پتھر کے دل میں چنگاری لعل کی آب میں جا گرے۔

خفّتِ ابلہ دو بالا می زند در مفلسی

می شود از خشک گردیدن سبکتر چوبِ تر

ترجمہ مفلسی میں احمق کی سبکی دوگنی ہو جاتی ہے؛ گیلی لکڑی سوکھ کر اور ہلکی ہو جاتی ہے۔

از مدارا غوطہ در موجِ حلاوت خوردن است

چرب و نرمیہا زبانِ پستہ گیرد در شکر

ترجمہ نرمی برتنا مٹھاس کی موج میں غوطہ کھانا ہے؛ چکنائی اور نرمی کی بدولت پستے کی زبان شکر میں لپٹ جاتی ہے۔

ای حباب از زورقِ خود اینقدر غافل مباش

نیست در دریای امکان جز نفس موجِ خطر

ترجمہ اے بلبلے! اپنی کشتی سے اتنا غافل نہ ہو؛ امکان کے سمندر میں سانس کے سوا خطرے کی کوئی موج نہیں۔

فکرِ جمعیت در این گلشن گلِ بیحاصلی ست

غنچہ از ہر برگ دارد دستِ نومیدی بہ سر

ترجمہ اس گلشن میں جمعیت کی فکر بے حاصلی کا پھول ہے؛ کلی ہر پتی سے ناامیدی کا ہاتھ سر پر رکھے ہوئے ہے۔

سایۂ گم گشتہ را خورشید می باشد سراغ

قاصدت ہم از تو می باید ز ما گیرد خبر

ترجمہ کھوئے ہوئے سائے کا سراغ سورج ہوتا ہے؛ تیرے قاصد کو بھی تیری خبر ہم ہی سے لینی چاہیے۔

بیش از این بر ناز نتوان خفّتِ تمکین گماشت

ای خرامت موجِ گوہر اندکی آہستہ تر

ترجمہ اس سے زیادہ ناز پر وقار کی سبکی نہیں ڈالی جا سکتی؛ اے وہ کہ تیری چال موتی کی موج ہے، ذرا اور آہستہ۔

سجدۂ عجز است بیدل ختمِ کارِ سرکشی

عاقبت از داغِ تیغِ شعلہ اندازد شرر

ترجمہ بیدل! سرکشی کا انجام عجز کا سجدہ ہے؛ آخرکار شعلے کی تلوار کے داغ سے چنگاری جھڑ جاتی ہے۔