در زندگی نگشتیم منظورِ آشنایی | افتد نظر بہ خاکم چشمی ز نقشِ پایی |
ترجمہ زندگی میں ہم کسی آشنا کے منظورِ نظر نہ ہوئے؛ اب میری خاک پر کسی نقشِ پا کی آنکھ نظر ڈالتی ہے۔ | |
ہمکسوتِ حبابم عریانیم نہان نیست | چون من ندارد این بحر شخصِ تنک ردایی |
ترجمہ میں حباب کا ہم لباس ہوں، میری برہنگی چھپی نہیں؛ اس سمندر میں مجھ جیسا پتلی چادر والا کوئی نہیں۔ | |
بعد از فنا غبارم شورِ قیامت انگیخت | بر خاکِ من ستم کرد فریادِ سرمہ سایی |
ترجمہ فنا کے بعد میرے غبار نے قیامت کا شور اٹھایا؛ میری خاک پر سرمہ پیسنے کی فریاد نے ستم ڈھایا۔ | |
خوانِ مآلِ ہستی عبرت نصیبیی داشت | شد سیر ہر کس اینجا از خوردنِ قفایی |
ترجمہ ہستی کے انجام کا دسترخوان عبرت نصیبی لیے ہوئے تھا؛ یہاں ہر کوئی گدی پر ایک تھپڑ کھا کر سیر ہو گیا۔ | |
در کارگاہِ تجدید حیرانِ رنگ و بو باش | چندین بہار دارد گلزارِ بیوفایی |
ترجمہ تجدید کے کارخانے میں رنگ و بو پر حیران رہ؛ بےوفائی کا گلزار کتنی ہی بہاریں رکھتا ہے۔ | |
مینا نخوردہ بر سنگ کم رست از دلِ تنگ | پہلو تہی کن از خویش در بزمِ پست جایی |
ترجمہ صراحی پتھر سے ٹکرائے بغیر دل کی تنگی سے کم ہی چھوٹتی ہے؛ پستی کی بزم میں اپنے آپ سے پہلو بچا۔ | |
کیفیتِ مروت در چشمِ دوستان بست | مژگان مگر ببندند تا گل کند حیایی |
ترجمہ مروت کی کیفیت دوستوں کی آنکھوں میں بند ہو کر رہ گئی؛ شاید وہ پلکیں موند لیں تو کوئی حیا کھل اٹھے۔ | |
جز عبرتی کہ داریم دیگر چہ وانماییم | آیینہ کرد ما را نیرنگِ خودنمایی |
ترجمہ جو عبرت ہمارے پاس ہے اس کے سوا اور کیا دکھائیں؛ خودنمائی کے نیرنگ نے ہمیں آئینہ بنا دیا۔ | |
جایی کہ ناتوانش بگرفت خس بہ دندان | انگشتِ زینہارست گر قد کشد عصایی |
ترجمہ جہاں ناتواں نے عاجزی سے دانتوں میں تنکا دبا لیا، وہاں اگر کوئی عصا قد نکالے تو وہ امان مانگتی انگلی ہے۔ | |
ہمت ز ترکِ دنیا بر قدرِ خود چہ نازد | مژگان بلند شد لیک مقدارِ پشتِ پایی |
ترجمہ ہمت دنیا کو ترک کر کے اپنی قدر پر کیا ناز کرے؛ پلک بلند تو ہوئی مگر بس ایک ٹھوکر کے برابر۔ | |
جیبِ دریدۂ صبح مکتوبِ این پیام است | کای بیخبر چنین باش دنیاست خندہ جایی |
ترجمہ صبح کا چاک گریبان اس پیغام کا خط ہے کہ اے بےخبر، ایسا ہی رہ، دنیا بس ہنسی کی جگہ ہے۔ | |
اسرارِ پردۂ دل مفہومِ حاضران نیست | بیدل ز دور داریم در گوش ہمصدایی |
ترجمہ دل کے پردے کے اسرار حاضرین کی سمجھ میں نہیں آتے؛ بیدل، ہم دور سے اپنے کان میں ایک ہم آواز رکھتے ہیں۔ | |
