اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

در زندگی نگشتیم منظور آشنایی

در زندگی نگشتیم منظورِ آشنایی

افتد نظر بہ خاکم چشمی ز نقشِ پایی

ترجمہ زندگی میں ہم کسی آشنا کے منظورِ نظر نہ ہوئے؛ اب میری خاک پر کسی نقشِ پا کی آنکھ نظر ڈالتی ہے۔

ہمکسوتِ حبابم عریانیم نہان نیست

چون من ندارد این بحر شخصِ تنک ردایی

ترجمہ میں حباب کا ہم لباس ہوں، میری برہنگی چھپی نہیں؛ اس سمندر میں مجھ جیسا پتلی چادر والا کوئی نہیں۔

بعد از فنا غبارم شورِ قیامت انگیخت

بر خاکِ من ستم کرد فریادِ سرمہ سایی

ترجمہ فنا کے بعد میرے غبار نے قیامت کا شور اٹھایا؛ میری خاک پر سرمہ پیسنے کی فریاد نے ستم ڈھایا۔

خوانِ مآلِ ہستی عبرت نصیبیی داشت

شد سیر ہر کس اینجا از خوردنِ قفایی

ترجمہ ہستی کے انجام کا دسترخوان عبرت نصیبی لیے ہوئے تھا؛ یہاں ہر کوئی گدی پر ایک تھپڑ کھا کر سیر ہو گیا۔

در کارگاہِ تجدید حیرانِ رنگ و بو باش

چندین بہار دارد گلزارِ بیوفایی

ترجمہ تجدید کے کارخانے میں رنگ و بو پر حیران رہ؛ بےوفائی کا گلزار کتنی ہی بہاریں رکھتا ہے۔

مینا نخوردہ بر سنگ کم رست از دلِ تنگ

پہلو تہی کن از خویش در بزمِ پست جایی

ترجمہ صراحی پتھر سے ٹکرائے بغیر دل کی تنگی سے کم ہی چھوٹتی ہے؛ پستی کی بزم میں اپنے آپ سے پہلو بچا۔

کیفیتِ مروت در چشمِ دوستان بست

مژگان مگر ببندند تا گل کند حیایی

ترجمہ مروت کی کیفیت دوستوں کی آنکھوں میں بند ہو کر رہ گئی؛ شاید وہ پلکیں موند لیں تو کوئی حیا کھل اٹھے۔

جز عبرتی کہ داریم دیگر چہ وانماییم

آیینہ کرد ما را نیرنگِ خودنمایی

ترجمہ جو عبرت ہمارے پاس ہے اس کے سوا اور کیا دکھائیں؛ خودنمائی کے نیرنگ نے ہمیں آئینہ بنا دیا۔

جایی کہ ناتوانش بگرفت خس بہ دندان

انگشتِ زینہارست گر قد کشد عصایی

ترجمہ جہاں ناتواں نے عاجزی سے دانتوں میں تنکا دبا لیا، وہاں اگر کوئی عصا قد نکالے تو وہ امان مانگتی انگلی ہے۔

ہمت ز ترکِ دنیا بر قدرِ خود چہ نازد

مژگان بلند شد لیک مقدارِ پشتِ پایی

ترجمہ ہمت دنیا کو ترک کر کے اپنی قدر پر کیا ناز کرے؛ پلک بلند تو ہوئی مگر بس ایک ٹھوکر کے برابر۔

جیبِ دریدۂ صبح مکتوبِ این پیام است

کای بیخبر چنین باش دنیاست خندہ جایی

ترجمہ صبح کا چاک گریبان اس پیغام کا خط ہے کہ اے بےخبر، ایسا ہی رہ، دنیا بس ہنسی کی جگہ ہے۔

اسرارِ پردۂ دل مفہومِ حاضران نیست

بیدل ز دور داریم در گوش ہمصدایی

ترجمہ دل کے پردے کے اسرار حاضرین کی سمجھ میں نہیں آتے؛ بیدل، ہم دور سے اپنے کان میں ایک ہم آواز رکھتے ہیں۔