دارد از ضبطِ نفس طبعِ ہوس پرور چہ حظ | جز گرفتاری ز تابِ رشتہ با گوہر چہ حظ |
ترجمہ ہوس پرور طبیعت کو سانس روکنے سے کیا حظ؟ دھاگے کے بل سے موتی کو گرفتاری کے سوا کیا حظ؟ | |
داغِ محرومی ہمان بندِ غرورِ سروریست | شمع را غیر از غمِ جانکاہی از افسر چہ حظ |
ترجمہ محرومی کا داغ وہی سروری کے غرور کا بندھن ہے؛ شمع کو اپنے تاج سے جان گھلانے والے غم کے سوا کیا حظ؟ | |
در ہوای برگِ گل شبنم عبث خون می خورد | خواب چون نبود نصیبِ دیدہ از بستر چہ حظ |
ترجمہ پھول کی پتی کی آرزو میں شبنم بے کار خون پیتی ہے؛ جب آنکھ کے نصیب میں نیند ہی نہ ہو تو بستر سے کیا حظ؟ | |
گریہ ات رنگی نبست از دیدۂ حیران چہ سود | بی می از کیفیتِ خمیازۂ ساغر چہ حظ |
ترجمہ تیرے گریے نے کوئی رنگ نہ باندھا تو حیران آنکھ سے کیا فائدہ؟ شراب کے بغیر ساغر کی جمائی کی کیفیت سے کیا حظ؟ | |
کسبِ دانش سینۂ خود را بہ ناخن کندن است | می کنند آیینہ ہای سادہ از جوہر چہ حظ |
ترجمہ علم حاصل کرنا اپنا سینہ ناخن سے کھودنا ہے؛ سادہ آئینے جوہر سے کیا حظ اٹھاتے ہیں؟ | |
ظلم بر ابلہ ز منعِ کامرانیہا مکن | غیرِ جوع و شہوت از دنیا بہ گاو و خر چہ حظ |
ترجمہ احمق کو کامرانیوں سے روک کر اس پر ظلم نہ کر؛ گائے اور گدھے کو دنیا سے بھوک اور شہوت کے سوا کیا حظ؟ | |
رغبت و نفرت بہشت و دوزخ انشا می کند | تشنگی می باید اینجا ورنہ از کوثر چہ حظ |
ترجمہ رغبت اور نفرت ہی بہشت اور دوزخ بناتی ہیں؛ یہاں پیاس درکار ہے، ورنہ کوثر سے کیا حظ؟ | |
دادہ ایم از حاصلِ اسبابِ جمعیت بہ باد | مرغِ ما را جز پریشانی ز بال و پر چہ حظ |
ترجمہ ہم نے جمعیت کے اسباب کا حاصل ہوا میں اڑا دیا ہے؛ ہمارے پرندے کو بال و پر سے پریشانی کے سوا کیا حظ؟ | |
ای کہ می خواہی چراغِ محفلِ امکان شوی | غیر ازین کز دیدہ ات آتش چکد دیگر چہ حظ |
ترجمہ اے وہ جو امکان کی محفل کا چراغ بننا چاہتا ہے، اس کے سوا کہ تیری آنکھ سے آگ ٹپکے اور کیا حظ؟ | |
لذتِ دنیا نمی ارزد بہ تلخیہای مرگ | کامِ زہر اندودہ ای ترغیبت از شکر چہ حظ |
ترجمہ دنیا کی لذت موت کی تلخیوں کے برابر نہیں؛ تو زہر آلود تالو ہے، شکر کی ترغیب سے تجھے کیا حظ؟ | |
جامِ قسمت بر تلاشِ جستجو موقوف نیست | از نصیبِ خضر جز حسرت بہ اسکندر چہ حظ |
ترجمہ قسمت کا جام تلاش و جستجو پر موقوف نہیں؛ خضر کے نصیب سے سکندر کو حسرت کے سوا کیا حظ؟ | |
چون کمان می بایدت با گوشۂ تسلیم ساخت | خانہ دارِ وہم را از فکرِ بام و در چہ حظ |
ترجمہ کمان کی طرح تجھے تسلیم کے گوشے سے نباہ کرنا چاہیے؛ وہم کے گھر والے کو بام و در کی فکر سے کیا حظ؟ | |
حسنِ بیرنگی اثر پیرایۂ تمثال نیست | گر کنی آیینہ از خورشید روشنتر چہ حظ |
ترجمہ بے رنگی کا حسن کسی تصویر کے زیور کا اثر نہیں؛ اگر تو آئینے کو سورج سے بھی روشن تر کر دے تو کیا حظ؟ | |
بیدل از ژولیدہ مویی طبعِ مجنون ترا | گر نباشد دودِ سودای کسی در سر چہ حظ |
ترجمہ اے بیدل، اگر سر میں کسی کے سودا کا دھواں نہ ہو تو تیری مجنون طبیعت کو بکھرے بالوں سے کیا حظ؟ | |
