درین ویرانہ بی سعیِ قناعت وانشد جایی | بہ دامن پا کشیدم یافتم آغوشِ صحرایی |
ترجمہ اس ویرانے میں قناعت کی کوشش کے بغیر کوئی جگہ نہ کھلی؛ میں نے دامن میں پاؤں سمیٹے تو ایک صحرا کی آغوش پا لی۔ | |
بہ سعیِ خویش می نازم کہ با این نارساییہا | شدم خاک و رساندم دست تا نقشِ کفِ پایی |
ترجمہ مجھے اپنی کوشش پر ناز ہے کہ ان نارسائیوں کے باوجود خاک ہو کر میں نے کسی کے نقشِ کفِ پا تک ہاتھ پہنچا دیا۔ | |
نمی باشد پریشان بالیٔ نظارہ شبنم را | بہ دیوانِ تحیر نیست بر ہم خوردہ اجزایی |
ترجمہ شبنم کے نظارے میں پریشان بالی نہیں ہوتی؛ حیرت کے دیوان میں کوئی جز بکھرا ہوا نہیں۔ | |
دلت مرد از سخن سازی درِ عزمِ خموشی زن | کہ جز ضبطِ نفس اینجا نمی باشد مسیحایی |
ترجمہ باتیں بنانے سے تیرا دل مر گیا، خاموشی کے عزم کا دروازہ کھٹکھٹا؛ کہ یہاں سانس روکنے کے سوا کوئی مسیحائی نہیں۔ | |
درین دریا نگاہی آب دہ سامانِ مستی کن | کہ دارد ہر حیا جامی و ہر قطرہ مینایی |
ترجمہ اس دریا میں نگاہ کو پانی دے اور مستی کا سامان کر، کہ یہاں ہر حیا ایک جام اور ہر قطرہ ایک صراحی رکھتا ہے۔ | |
نفس سرمایۂ این چار سوییم ای ہوس شرمی | بضاعتہا پر افشانی ست کو سودی چہ سودایی |
ترجمہ اس بازار میں ہمارا سرمایہ بس سانس ہے، اے ہوس کچھ شرم کر؛ سارا مال و متاع پر جھاڑنا ہے، نفع کہاں اور سودا کیسا۔ | |
ز خوابِ غفلتِ ہستی کہ تعبیرِ عدم دارد | توان بیدار گردیدن اگر بر خود زنی پایی |
ترجمہ ہستی کی غفلت کی نیند سے، جس کی تعبیر عدم ہے، جاگا جا سکتا ہے اگر تو اپنے آپ کو ایک ٹھوکر مار دے۔ | |
ز یادت رفتہ است افسانۂ بزمِ ازل ورنہ | نمی باشد جز افسونِ سخن پنہان و پیدایی |
ترجمہ ازل کی بزم کا افسانہ تیری یاد سے اتر گیا ہے، ورنہ پوشیدگی اور ظہور بات کے افسوں کے سوا کچھ نہیں۔ | |
جہانی صیدِ حیرت بود ہر جا چشم واکردم | ندیدم چون گشادِ بالِ مژگان چنگ گیرایی |
ترجمہ جہاں بھی میں نے آنکھ کھولی، ایک جہان حیرت کا شکار تھا؛ پلکوں کے پر کھلنے جیسا گرفت والا کوئی پنجہ میں نے نہیں دیکھا۔ | |
بہ دردِ بی نگاہی درہم افشردست مژگانم | خرامی تا رساند حیرت آغوشِ پہنایی |
ترجمہ بےنگاہی کے درد سے میری پلکیں آپس میں بھنچ گئی ہیں؛ کوئی خرام چاہیے جو حیرت کو وسعت کی آغوش تک پہنچا دے۔ | |
ندانم فرشِ تسلیمِ سرِ راہِ کہ ام بیدل | بہ دامن گردی از خود داشتم افشاندہ م جایی |
ترجمہ بیدل، نہیں جانتا میں کس کی راہ کے سرے پر تسلیم کا فرش ہوں؛ دامن میں اپنی ہی کچھ گرد تھی جو میں نے کہیں جھاڑ دی۔ | |
