اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دست داری برفشان چون کل در این کلزار زر

دست داری برفشان چون گل در این گلزار زر

داغ می خواہی بنہ چون لالہ در کہسار سر

ترجمہ اگر ہاتھ رکھتا ہے تو پھول کی طرح اس گلزار میں سونا لٹا؛ اگر داغ چاہتا ہے تو لالے کی طرح کہسار میں سر رکھ دے۔

تا مگر در بزمگاہِ عشق پروازت دہند

ہمچو پروانہ بہ موجِ شعلہ ای بسپار پر

ترجمہ شاید عشق کی بزم میں تجھے پرواز عطا ہو؛ پروانے کی طرح اپنے پر کسی شعلے کی موج کے سپرد کر دے۔

تو درونِ خانہ مستِ خواب و در بیرونِ در

در غمت از حلقہ دارد دیدۂ بیدار در

ترجمہ تو گھر کے اندر نیند میں مست ہے، اور باہر تیرے غم میں دروازہ اپنے حلقے کی صورت ایک جاگتی آنکھ رکھتا ہے۔

دشمنِ مشقِ رسایی نیست جز نفسِ لعین

گوش، آن دارد کہ گشت از مکرِ این مکار کر

ترجمہ کمال تک پہنچنے کی مشق کا دشمن ملعون نفس کے سوا کوئی نہیں؛ کان اسی کا ہے جو اس مکار کے مکر سے بہرا ہو گیا۔

ہر سحرگہ غوطہ ہا در اشکِ بلبل می زند

نیست از شبنم چمن را جامہ و دستار تر

ترجمہ چمن ہر صبح بلبل کے آنسوؤں میں غوطے کھاتا ہے؛ اس کا لباس اور دستار شبنم سے تر نہیں ہوئے۔

از غبارِ خاطرِ من جوہری آرد بہ کف

بگذرد تیغِ خیالش از دلِ افگار گر

ترجمہ اگر اس کے خیال کی تلوار میرے زخمی دل سے گزرے تو میرے دل کے غبار سے ایک جوہر ہاتھ لے آئے۔

غیرِ بارِ عشق ہر باری کہ ہست افکندنی ست

بیدل ار باری بری باری بہ دوش این بار بر

ترجمہ عشق کے بوجھ کے سوا ہر بوجھ پھینک دینے کے لائق ہے؛ بیدل! اگر کوئی بوجھ اٹھانا ہی ہے تو یہی بوجھ کندھے پر اٹھا۔