دست داری برفشان چون گل در این گلزار زر | داغ می خواہی بنہ چون لالہ در کہسار سر |
ترجمہ اگر ہاتھ رکھتا ہے تو پھول کی طرح اس گلزار میں سونا لٹا؛ اگر داغ چاہتا ہے تو لالے کی طرح کہسار میں سر رکھ دے۔ | |
تا مگر در بزمگاہِ عشق پروازت دہند | ہمچو پروانہ بہ موجِ شعلہ ای بسپار پر |
ترجمہ شاید عشق کی بزم میں تجھے پرواز عطا ہو؛ پروانے کی طرح اپنے پر کسی شعلے کی موج کے سپرد کر دے۔ | |
تو درونِ خانہ مستِ خواب و در بیرونِ در | در غمت از حلقہ دارد دیدۂ بیدار در |
ترجمہ تو گھر کے اندر نیند میں مست ہے، اور باہر تیرے غم میں دروازہ اپنے حلقے کی صورت ایک جاگتی آنکھ رکھتا ہے۔ | |
دشمنِ مشقِ رسایی نیست جز نفسِ لعین | گوش، آن دارد کہ گشت از مکرِ این مکار کر |
ترجمہ کمال تک پہنچنے کی مشق کا دشمن ملعون نفس کے سوا کوئی نہیں؛ کان اسی کا ہے جو اس مکار کے مکر سے بہرا ہو گیا۔ | |
ہر سحرگہ غوطہ ہا در اشکِ بلبل می زند | نیست از شبنم چمن را جامہ و دستار تر |
ترجمہ چمن ہر صبح بلبل کے آنسوؤں میں غوطے کھاتا ہے؛ اس کا لباس اور دستار شبنم سے تر نہیں ہوئے۔ | |
از غبارِ خاطرِ من جوہری آرد بہ کف | بگذرد تیغِ خیالش از دلِ افگار گر |
ترجمہ اگر اس کے خیال کی تلوار میرے زخمی دل سے گزرے تو میرے دل کے غبار سے ایک جوہر ہاتھ لے آئے۔ | |
غیرِ بارِ عشق ہر باری کہ ہست افکندنی ست | بیدل ار باری بری باری بہ دوش این بار بر |
ترجمہ عشق کے بوجھ کے سوا ہر بوجھ پھینک دینے کے لائق ہے؛ بیدل! اگر کوئی بوجھ اٹھانا ہی ہے تو یہی بوجھ کندھے پر اٹھا۔ | |
