1652ء میں نکولاؤ مانوچی ابھی چودہ برس کا تھا کہ وہ اپنے آبائی شہر وینس سے دنیا دیکھنے کی زبردست آرزو لے کر بھاگ نکلا اور چھپ کر سمرنا جانے والے جہاز پر سوار ہو گیا۔ جہاز پر اس کی ملاقات ہنری لارڈ بیلومانٹ سے ہو گئی۔ جو جلا وطن بادشاہ چارلس دوم کے سفیر کی حیثیت سے شاہ عباس کے دربار میں حاضری دینے ایران جا رہا تھا۔ اس نے مانوچی کو ملازم رکھ لیا۔ سفارت مالی اعانت کے لیے تھی جو ناکام ہوئی اور غالباً بادشاہ چارلس کی ہدایات کے مطابق بیلومانٹ ہندوستان میں وارد ہوا۔ جنوری 1656ء میں وہ سورت پہنچا اور کچھ مدت قیام کے بعد دلی کی سمت روانہ ہوا۔ آگرے سے روانگی کے تین دن بعد بیلومانٹ یک بیک بیمار ہو گیا اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکا۔ اس کے مرنے کے بعد مانوچی دلی پہنچا۔ یہاں اس کا تعارف دارا سے ہوا۔ جس نے اسے توپ خانے میں ملازم رکھ لیا۔
1658ء میں دارا اور اورنگ زیب کے درمیان سام گڑھ کی لڑائی ہوئی۔ مانوچی اس جنگ میں شریک تھا۔ دارا کو شکست دے کر اورنگ زیب آگرے پہنچا۔ جہاں اس نے شاہ جہاں کو قید کر لیا۔ مانوچی جو اپنی جان بچا کر آگرے بھاگ آیا تھا بھیس بدل کر اورنگ زیب کی فوج کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور خیرات مانگنے والے پادری کے بھیس میں دلی پہنچا۔ وہاں سے چل کر لاہور میں دوبارہ دارا سے ملا۔ دارا کے ساتھ وہ بھکر آیا اور جب دارا گجرات کی طرف روانہ ہوا تو مانوچی بھکر کے قلعے میں اس کے توپ خانہ کا سربراہ تھا۔ بھکر کے محاصرے کے وقت قلعہ والوں نے بہادری سے قلعہ کی حفاظت کی۔ مگر آخر دارا کی گرفتاری کی خبر پا کر ہتھیار ڈال دیے۔ قلعہ خالی کر دینے کے بعد مانوچی قلعہ کے حاکم خواجہ سرا بسنت کے ہمراہ لاہور آیا۔ جہاں بسنت پر حملہ ہوا اور وہ مارا گیا۔ مگر مانوچی اس وار سے بچ گیا۔ لاہور سے وہ توپ خانے کے دیگر افراد کے ساتھ دلی آیا، تو چونکہ وہ اورنگ زیب سے سخت متنفر تھا لہٰذا اس کی ملازمت اختیار نہ کی۔ اس مقام کے بعد مانوچی کی کہانی مانوچی کی زبانی مرقوم ہے۔
1686ء میں مانوچی مدراس میں وارد ہوا۔ جہاں اس نے ایک بیوہ خاتون سے شادی کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔ مدراس کے گورنر ولیم گائفرڈ نے مانوچی سے اورنگ زیب کے ساتھ خط و کتابت کرنے کا کام لیا۔ 1687ء میں نئے گورنر ایلیہو ییل سے اس کی نہ بنی۔ 1698ء میں ٹامس پٹ گورنر ہو کر آیا تو مانوچی ایک بار پھر سرفراز ہوا۔ جب 1702ء میں مغل فوجیں مدراس کی طرف بڑھیں تو گورنر پٹ نے مانوچی اور ایک برہمن کو محاصرہ کرنے والوں سے گفت و شنید کے لیے بھیجا۔ 1703ء سے 1706ء تک مانوچی مذہبی معاملات میں مشغول رہا۔ 1706ء میں اس کی بیوی مر گئی۔ 1706ء اور 1712ء کے درمیان وہ کچھ وقت پانڈیچری چلا گیا۔ 1707ء میں اورنگ زیب کے انتقال کے بعد جب شاہ عالم بادشاہ ہوا۔ تو اس کی دعوت پر مانوچی نے لاہور جانے کا قصد کیا۔ مگر شاہ عالم کے انتقال کی خبر سن کر اس نے سفر کا ارادہ ترک کر دیا۔ 1707ء کے بعد مانوچی کے بارے میں معلومات نہیں ملتیں۔ قیاس یہ ہے کہ وہ 1717ء میں مر گیا۔
(2)
ذاتی تعصبات اور افواہوں میں دلچسپی، مانوچی کے کردار کا خاصہ ہے۔ اس کی لکھی ہوئی بہت سی باتیں تاریخی اعتبار سے صحیح ثابت نہیں ہوتیں۔ ہندوستان میں اپنی رہائش کے دوران میں وہ سپاہی، سفیر، حکیم، مذہبی آدمی سبھی کچھ نظر آتا ہے۔ اکثر اوقات غلو اور افترا پردازی سے بھی گریز نہیں کرتا۔ روشن آرا بیگم کے بیان میں وہ مبالغے اور تعصب سے کام لیتا ہے۔ اسے زہر دیے جانے کی کہانی بھی صحیح نہیں بلکہ یہ واقعہ تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ کٹر عیسائی ہونے کے سبب اس کی تحریروں میں متعصب ذہن جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ دربار سے وابستگی اسے معروضی مشاہدے کا اہل نہیں رہنے دیتی۔ ان تمام باتوں کے باوجود چونکہ مانوچی ہم عصر مورخ ہے، اس لیے اس عہد کی معاشرت، درباری حالات، سازشیں اور سیاست، مقامی جنگوں کے واقعات اور خواص و عوام کے رہن سہن، عادات و اطوار، رسم و رواج، ان تمام باتوں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔ اس کی تحریر کا افسانوی اسلوب، دلچسپ واقعات کا انتخاب، متحرک اور چلتی پھرتی زندگی کو پیش کرنے کا سلیقہ، اس کتاب کو دلآویز بنا دیتا ہے۔ زندہ کرداروں اور زندہ واقعات کے ساتھ ایک پورا عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔
یہ کتاب اردو میں ولیم ارون کے انگریزی ترجمے سے انتخاب پر مشتمل ہے، جو 1907ء میں حکومتِ ہند کے لیے چار جلدوں میں شائع کی گئی۔
26 نومبر 67ء — سجاد باقر رضوی
