|
دل بہ کام تست چندی خرمی اظہار باش |
ساغری داری شکست رنگ را معمار باش |
|
ترجمہ دل تیرے اختیار میں ہے، پس کچھ دیر تو خوشی کا اظہار کر۔ تو ایک پیالے کا مالک ہے، اُس سے (غم کے) رنگ کی شکست کا معمار بن۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ جب تک زندگی کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے، اس سے خوشی حاصل کر۔ تیرے پاس جو بھی وسائل ہیں، ان سے اپنی بے رنگ اور غمگین دنیا میں رنگ بھرنے کی کوشش کر اور غموں کو شکست دے۔ |
|
|
فیضہا دارد سخن بر معنی باریک پیچ |
گر دل آسودہ خواہی عقدۂ این نار باش |
|
ترجمہ باریک معنی پر غور و فکر کی گفتگو میں بہت سے فیض پوشیدہ ہیں۔ اگر تُو دل کا سکون چاہتا ہے تو اس (معنی کی) آگ کی گرہ کا حصہ بن جا۔ |
|
|
مفہوم بیدل فرما رہے ہیں کہ گہرے اور پیچیدہ معانی پر غور و فکر کرنے میں بے شمار روحانی فائدے ہیں۔ اگر تم حقیقی قلبی سکون کے متلاشی ہو تو خود کو اس فکری جستجو اور معنی کی تلاش میں گم کر دو۔ |
|
|
بر چہ از وصلش بہ یکرنگی نیامیزد دلت |
گر ہمہ جان باشد از اندیشہ اش بیزار باش |
|
ترجمہ جس چیز کے وصال سے تیرا دل یک رنگ (مطمئن) نہ ہو جائے، اگرچہ وہ جان ہی کیوں نہ ہو، اس کے خیال سے بھی بیزار ہو جا۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ اگر کسی چیز سے مل کر، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو، تمہارے دل کو سکون اور یکسوئی حاصل نہیں ہوتی تو اسے چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ ایسی شے کا خیال بھی دل سے نکال دو جو تمہیں روحانی طور پر متحد نہ کر سکے۔ |
|
|
تا حضور چشم و مژگان یابی از ہر خار وگل |
چون نگہ درہرکجا پا می نہی ہموار باش |
|
ترجمہ تاکہ تو ہر کانٹے اور پھول سے آنکھ اور پلکوں کی حضوری پائے، نظر کی طرح جہاں بھی قدم رکھے، ہموار رہ۔ |
|
|
مفہوم دنیا میں نظر کی طرح بن جاؤ جو ہر اچھی بری چیز (پھول اور کانٹے) پر یکساں پڑتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں امتیاز کیے بغیر، ہر حال میں متوازن اور یکساں رویہ اپناؤ تاکہ تمہیں ہر شے میں حقیقت کا جلوہ نظر آئے۔ |
|
|
ہیچکس تہمت نشان داغ بی نفعی مباد |
چتر شاہی گر نباشی سایۂ دیوار باش |
|
ترجمہ کوئی بھی بے فائدہ ہونے کے داغ کا نشان نہ بنے۔ اگر تو شاہی چھتری نہیں بن سکتا تو دیوار کا سایہ ہی بن جا۔ |
|
|
مفہوم اس شعر میں تاکید کی گئی ہے کہ انسان کو کبھی بے کار اور بے فائدہ نہیں رہنا چاہیے۔ اگر تم کوئی بڑا اور نمایاں کام نہیں کر سکتے تو کوئی چھوٹا ہی سہی، مگر مفید کام ضرور کرو تاکہ دوسروں کو تم سے کچھ فائدہ پہنچے۔ |
|
|
ننگ تعطیل از غم بیحاصلی نتوان کشید |
سودن دستی نبازی جہدکن درکار باش |
|
ترجمہ بے کار رہنے کی شرمندگی اور بے حاصلی کا غم برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے مت بیٹھ، کوشش کر اور کام میں لگا رہ۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ بے عملی اور ناکامی کا غم بہت بڑا بوجھ ہے۔ اس شرمندگی سے بچنے کا واحد راستہ مسلسل محنت اور کوشش ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کے بجائے، ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں مصروف رہنا چاہیے۔ |
|
|
نقش پای رفتگان مخمور می آید بہ چشم |
یعنی ای واماندہ در خمیازۂ رفتار باش |
|
ترجمہ گزرے ہوئے لوگوں کے نقشِ پا آنکھوں میں مخمور نظر آتے ہیں۔ یعنی اے پیچھے رہ جانے والے، چلنے کی انگڑائی میں رہ (یعنی چلنے کو تیار رہ)۔ |
|
|
مفہوم اس شعر میں گزرے ہوئے لوگوں کے چھوڑے ہوئے نشانات کو ایک प्रेरणा کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ بزرگوں کے نقشِ قدم کو دیکھیں اور ہمیشہ آگے بڑھنے اور سفر جاری رکھنے کے لیے تیار رہیں۔ |
|
|
مانع آزادگان پست و بلند دہر نیست |
نالہ از خود می رود، گو ششجہت کہسار باش |
|
ترجمہ آزاد لوگوں کے لیے زمانے کے نشیب و فراز رکاوٹ نہیں بنتے۔ نالہ خود سے بلند ہوتا ہے، چاہے چھ سمتوں میں پہاڑ ہی کیوں نہ ہوں۔ |
|
|
مفہوم یہ شعر ایک عمیق فلسفیانہ نکتہ بیان کرتا ہے کہ حقیقی آزاد روحوں کو دنیا کی مشکلات اور رکاوٹیں نہیں روک سکتیں۔ جس طرح فریاد انسان کے اندر سے خودبخود نکلتی ہے اور اسے کوئی پہاڑ نہیں روک سکتا، اسی طرح آزاد شخص اپنی راہ خود بناتا ہے۔ |
|
|
بر تسلسل ختم شد دور غرور سبحہ ات |
یک دو ساغر محو عشرتخانۂ خمّار باش |
|
ترجمہ تیری تسبیح کے غرور کا دور تسلسل پر ختم ہو گیا۔ ایک دو پیالے پی کر شراب خانے کی عشرت میں محو ہو جا۔ |
|
|
مفہوم شاعر روایتی زہد و تقویٰ کے دکھاوے پر طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تسبیح پھیرنے کا تکبر اب ختم ہوا، اب کچھ دیر ظاہری عبادات کو چھوڑ کر عشقِ حقیقی کی مستی اور معرفت (شراب خانہ) میں ڈوب جا۔ |
|
|
ہرزہ تازی تا بہ کی گامی بہ گرد خویش گرد |
جہد بر مشق تو خطی می کشد پرگار باش |
|
ترجمہ کب تک بے مقصد بھاگتا رہے گا؟ ایک قدم اپنے گرد گھوم۔ کوشش تیری مشق پر ایک لکیر کھینچتی ہے، پرکار بن جا۔ |
|
|
مفہوم شاعر کہتا ہے کہ بے مقصد ادھر ادھر بھٹکنے کے بجائے اپنی ذات کے مرکز کو پہچانو اور اسی کے گرد گھومو، جیسے پرکار اپنے مرکز پر قائم رہ کر دائرہ بناتی ہے۔ تمہاری تمام کوششیں تبھی نتیجہ خیز ہوں گی جب تم ایک مرکزی نقطے پر قائم رہو گے۔ |
|
|
ہر قدر مژگان گشایی جلوہ در آغوش تست |
ای نگاہت مفت فرصت طالب دیدار باش |
|
ترجمہ جتنا بھی تو پلکیں کھولے گا، جلوہ تیری آغوش میں ہے۔ اے وہ کہ تیری نگاہ فرصت کا خزانہ ہے، دیدار کا طالب بن۔ |
|
|
مفہوم حقیقت کا جلوہ ہر طرف بکھرا پڑا ہے اور تمہاری دسترس میں ہے۔ بس تمہیں اپنی بصیرت کی آنکھ کھولنے کی ضرورت ہے۔ اے انسان، تیری نگاہ میں کائنات کو دیکھنے کی صلاحیت ہے، پس غفلت مت کر اور مشاہدۂ حق کا طلب گار بن۔ |
|
|
عاقبت بیدل ز چشم خویش باید رفتنت |
ذرہ ہم کم نیست تا باشی ہمین مقدار باش |
|
ترجمہ اے بیدل، آخرکار تجھے اپنی ہی نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے (مر جانا ہے)۔ ایک ذرہ بھی کم نہیں ہے، جب تک تو ہے، اسی قدر (اپنی حیثیت میں) رہ۔ |
|
|
مفہوم بیدل اپنے آپ سے مخاطب ہو کر زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ آخر موت آنی ہے۔ لیکن جب تک زندگی ہے، اپنی حیثیت کو کم مت سمجھو۔ ایک ذرے کا وجود بھی کائنات میں اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا اپنی قدر کو پہچانو اور اسی حیثیت میں قائم رہو۔ |
|