اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

دل فتح و دست فتح و نظرفتح وکارفتح

دل فتح و دست فتح و نظر فتح و کار فتح

گلجوشِ ہر نفس زدنت صد ہزار فتح

ترجمہ دل فتح، ہاتھ فتح، نظر فتح اور کام فتح؛ تیرے ہر سانس لینے کی گلفشانی لاکھوں فتوحات ہیں۔

دستت بہ بازوی نسبِ مرتضی قوی

تیغِ تو را ہمین حسبِ ذوالفقار فتح

ترجمہ تیرا ہاتھ مرتضیٰ کے نسب کے بازو سے قوی ہے؛ تیری تلوار کے لیے ذوالفقار کا یہی حسب فتح ہے۔

یک غنچہ غیرِ گل نتوان یافت تا ابد

در گلشنی کہ کرد حقش آبیار فتح

ترجمہ جس گلشن کی آبیاری حق نے فتح کے سپرد کی ہو، اس میں ابد تک پھول کے سوا کوئی کلی نہیں مل سکتی۔

گردون چو زخمِ کہنہ کند چارپارہ اش

گر با دلِ عدوی تو سازد دچار فتح

ترجمہ اگر فتح تیرے دشمن کے دل سے دوچار ہو جائے تو آسمان اسے پرانے زخم کی طرح چار ٹکڑے کر دے۔

ہرجا بہ عزمِ رزم ببالد ارادہ ات

مژگان گشودنی نکشد انتظارِ فتح

ترجمہ جہاں کہیں جنگ کے عزم سے تیرا ارادہ بلند ہوتا ہے، فتح کا انتظار پلک جھپکنے جتنا بھی طول نہیں کھینچتا۔

یارب چو آفتاب بہ ہرجا قدم زنی

گردد رہت چو صبح کند آشکار فتح

ترجمہ یارب! تو سورج کی طرح جہاں بھی قدم رکھے، تیری راہ صبح کی مانند ہو جائے اور فتح کو آشکار کرے۔

چندانکہ چشم کار کند گل دمیدہ گیر

چون آسمان گرفتہ جہان در کنار فتح

ترجمہ جہاں تک نظر کام کرے، پھول کھلے ہوئے سمجھ؛ فتح نے آسمان کی طرح سارے جہان کو آغوش میں لے لیا ہے۔

آغوشِ خرمی چقدر باز کردہ ای

کافاق از تو باغِ گل است ای بہارِ فتح

ترجمہ تو نے شادابی کی آغوش کتنی کشادہ کر دی ہے کہ اے فتح کی بہار! سارے آفاق تجھ سے باغِ گل بنے ہوئے ہیں۔

یکبار اگر رسد بہ زبان نامِ نصرتت

ہشتاد و ہشت و چارصد ارد شمار فتح

ترجمہ اگر ایک بار بھی تیری نصرت کا نام زبان پر آئے تو فتح کا شمار چار سو اٹھاسی تک پہنچتا ہے۔

تا حشر ای سحابِ چمن سازِ بیدلان

بر مزرعِ امیدِ دو عالم ببار فتح

ترجمہ اے بیدلوں کے چمن کو سنوارنے والے بادل! حشر تک دونوں عالم کی امید کی کھیتی پر فتح برسا۔