دل فتح و دست فتح و نظر فتح و کار فتح | گلجوشِ ہر نفس زدنت صد ہزار فتح |
ترجمہ دل فتح، ہاتھ فتح، نظر فتح اور کام فتح؛ تیرے ہر سانس لینے کی گلفشانی لاکھوں فتوحات ہیں۔ | |
دستت بہ بازوی نسبِ مرتضی قوی | تیغِ تو را ہمین حسبِ ذوالفقار فتح |
ترجمہ تیرا ہاتھ مرتضیٰ کے نسب کے بازو سے قوی ہے؛ تیری تلوار کے لیے ذوالفقار کا یہی حسب فتح ہے۔ | |
یک غنچہ غیرِ گل نتوان یافت تا ابد | در گلشنی کہ کرد حقش آبیار فتح |
ترجمہ جس گلشن کی آبیاری حق نے فتح کے سپرد کی ہو، اس میں ابد تک پھول کے سوا کوئی کلی نہیں مل سکتی۔ | |
گردون چو زخمِ کہنہ کند چارپارہ اش | گر با دلِ عدوی تو سازد دچار فتح |
ترجمہ اگر فتح تیرے دشمن کے دل سے دوچار ہو جائے تو آسمان اسے پرانے زخم کی طرح چار ٹکڑے کر دے۔ | |
ہرجا بہ عزمِ رزم ببالد ارادہ ات | مژگان گشودنی نکشد انتظارِ فتح |
ترجمہ جہاں کہیں جنگ کے عزم سے تیرا ارادہ بلند ہوتا ہے، فتح کا انتظار پلک جھپکنے جتنا بھی طول نہیں کھینچتا۔ | |
یارب چو آفتاب بہ ہرجا قدم زنی | گردد رہت چو صبح کند آشکار فتح |
ترجمہ یارب! تو سورج کی طرح جہاں بھی قدم رکھے، تیری راہ صبح کی مانند ہو جائے اور فتح کو آشکار کرے۔ | |
چندانکہ چشم کار کند گل دمیدہ گیر | چون آسمان گرفتہ جہان در کنار فتح |
ترجمہ جہاں تک نظر کام کرے، پھول کھلے ہوئے سمجھ؛ فتح نے آسمان کی طرح سارے جہان کو آغوش میں لے لیا ہے۔ | |
آغوشِ خرمی چقدر باز کردہ ای | کافاق از تو باغِ گل است ای بہارِ فتح |
ترجمہ تو نے شادابی کی آغوش کتنی کشادہ کر دی ہے کہ اے فتح کی بہار! سارے آفاق تجھ سے باغِ گل بنے ہوئے ہیں۔ | |
یکبار اگر رسد بہ زبان نامِ نصرتت | ہشتاد و ہشت و چارصد ارد شمار فتح |
ترجمہ اگر ایک بار بھی تیری نصرت کا نام زبان پر آئے تو فتح کا شمار چار سو اٹھاسی تک پہنچتا ہے۔ | |
تا حشر ای سحابِ چمن سازِ بیدلان | بر مزرعِ امیدِ دو عالم ببار فتح |
ترجمہ اے بیدلوں کے چمن کو سنوارنے والے بادل! حشر تک دونوں عالم کی امید کی کھیتی پر فتح برسا۔ | |
