دلت فسرد جنونی کز آشیانہ برآیی | چو نالہ دامنِ صحرا بہ کف ز خانہ برآیی |
ترجمہ تیرا دل افسردہ ہو گیا؛ کوئی جنون چاہیے کہ تو آشیانے سے نکلے اور نالے کی طرح صحرا کا دامن ہاتھ میں لیے گھر سے باہر آئے۔ | |
بہ سازِ عجز ز سرِ چنگِ خلق نیست گزیرت | چو مو ز پردہ چہ لازم بہ ذوقِ شانہ برآیی |
ترجمہ عاجزی کے ساز کے ساتھ تجھے خلق کی چنگ کے سر سے چارہ نہیں؛ بال کی طرح کنگھی کے شوق میں پردے سے نکلنا کیا ضروری ہے۔ | |
گر التزامِ جنون نیست سعیٔ گوشۂ فقری | مگر ز جرگۂ یاران بہ این بہانہ برآیی |
ترجمہ اگر جنون کا التزام نہیں تو فقر کے کسی گوشے کی کوشش کر، شاید اسی بہانے دوستوں کے حلقے سے نکل آئے۔ | |
شعارِ طبعِ رسا نیست انتظارِ مواعظ | ز توسنی است کہ محتاج تازیانہ برآیی |
ترجمہ نصیحتوں کا انتظار رسا طبیعت کا شیوہ نہیں؛ یہ سرکشی ہی ہے کہ تو کوڑے کا محتاج بن کر نکلے۔ | |
چو موجِ گوہر اگر بگذری ز فکرِ تردد | برون نرفتہ ازین بحر بر کرانہ برآیی |
ترجمہ موتی کی آب کی طرح اگر تو بھاگ دوڑ کی فکر سے گزر جائے تو اس سمندر سے باہر گئے بغیر کنارے پر جا نکلے۔ | |
ز جا درآمدن آنگہ بہ حرفِ پوچ حیا کن | نہ کودکی کہ بہ صورتِ دہل ز خانہ برآیی |
ترجمہ پھر ایک کھوکھلی بات پر اپنی جگہ سے اچھل پڑنے سے شرم کر؛ تو بچہ نہیں کہ ڈھول کی آواز پر گھر سے نکل آئے۔ | |
چو مور نقبِ قناعت رسان بہ کنجِ غنایی | کہ پر بر آری و از احتیاجِ دانہ برآیی |
ترجمہ چیونٹی کی طرح قناعت کی سرنگ کسی بے نیازی کے خزانے تک پہنچا، تاکہ تجھے پر نکل آئیں اور تو دانے کی احتیاج سے آزاد ہو جائے۔ | |
ز گوشۂ دلِ جمع آن زمان دہند سراغت | کہ ہمچو فرصتِ آسودن از زمانہ برآیی |
ترجمہ دلِ جمع کے گوشے سے تیرا سراغ اُس وقت ملے گا جب تو آسودگی کی فرصت کی طرح زمانے سے باہر آ جائے۔ | |
بہ خاک نیز پر افشانِ فتنہ ای ست غبارت | بخواب آنہمہ کز عالمِ فسانہ برآیی |
ترجمہ خاک میں بھی تیری گرد ایک فتنے کی پر افشانی ہے؛ اتنا سو جا کہ افسانے کی دنیا سے باہر نکل آئے۔ | |
بہ خود ستایی بیہودہ شرم دار ز ہمت | کہ لافِ دل زنی و بیدل از میانہ برآیی |
ترجمہ بیہودہ خود ستائی پر ہمت سے شرم کر، کہ تو دل کا دعویٰ کرے اور بیچ میں سے بے دل نکلے۔ | |
