دو روزی فرصت آموزد درودِ مصطفا ما را | کہ پیش از مرگ در دنیا بیامرزد خدا ما را |
ترجمہ دو دن کی فرصت ہمیں مصطفیٰ پر درود سکھاتی ہے، تاکہ موت سے پہلے دنیا ہی میں خدا ہمیں بخش دے۔ | |
درین صحرا کجا با خویش فتد اتفاقِ ما | کہ وہمِ بی سر و پایی برد از خود جدا ما را |
ترجمہ اس صحرا میں ہمارا اپنے آپ سے میل کہاں ہو، کہ بے سر و پائی کا وہم ہمیں خود سے جدا کر کے لے جاتا ہے۔ | |
بہ گردشخانۂ چرخیم حیران دانۂ چندی | غبارِ ما مگر بیرون برد زین آسیا ما را |
ترجمہ ہم آسمان کی گردش گاہ میں چند دانوں پر حیران ہیں؛ شاید ہمارا غبار ہی ہمیں اس چکی سے باہر لے جائے۔ | |
اگر امروز دل با خاکِ راہِ مرتضی جوشد | کند محشور فردا فضلِ حق با اصفیا ما را |
ترجمہ اگر آج دل مرتضیٰ کی راہ کی خاک سے گھل مل جائے تو کل حق کا فضل ہمیں برگزیدہ لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا۔ | |
بہ حرف و صوت ممکن نیست از عالم برون جستن | چہ سازد کس ز گنبد برنمی آرد صدا ما را |
ترجمہ حرف و صوت کے ذریعے عالم سے باہر نکلنا ممکن نہیں؛ کوئی کیا کرے، صدا ہمیں گنبد سے باہر نہیں لاتی۔ | |
ز سعیِ دست و پا آیینۂ مقصد نشد روشن | کجایی ای ز خود رفتن تو چیزی وانما ما را |
ترجمہ ہاتھ پاؤں مارنے سے مقصد کا آئینہ روشن نہ ہوا؛ اے بے خودی، تو کہاں ہے، تو ہی ہمیں کچھ دکھا۔ | |
غبارِ ما بہ صحرای عدم بالِ دگر می زد | فضولی در کجا انداخت یارب از کجا ما را |
ترجمہ ہمارا غبار عدم کے صحرا میں کسی اور ہی پر سے اڑ رہا تھا؛ یا رب، فضولی نے ہمیں کہاں سے کہاں لا ڈالا۔ | |
کبابِ خوانِ جنت لذتِ خونِ جگر دارد | قضا چندی بہ ذوقِ این غذا داد اشتہا ما را |
ترجمہ جنت کے دسترخوان کا کباب جگر کے خون کی لذت رکھتا ہے؛ قضا نے کچھ دن اسی غذا کے ذوق میں ہمیں بھوک دی۔ | |
کفِ خاکِ نفس بال و پریم از ضبطِ ما بگذر | بہ گردون می برد چون صبح از خود این ہوا ما را |
ترجمہ ہم سانس کی مٹھی بھر خاک ہیں اور سراپا بال و پر، ہمیں روکنے کی فکر چھوڑ؛ یہ ہوا ہمیں صبح کی طرح بے خود کر کے آسمان تک لے جاتی ہے۔ | |
جنونہا داشتیم اما حجابِ فقر پیش آمد | ز ضبطِ نالہ کرد آگاہ نی در بوریا ما را |
ترجمہ ہم میں بڑے جنون تھے مگر فقر کا حجاب آڑے آ گیا؛ بوریے میں چھپی نے نے ہمیں نالہ ضبط کرنا سکھا دیا۔ | |
نفس واری مگر در دل خزد امیدِ آسودن | کہ زیرِ آسمان پیدا نشد جا ہیچ جا ما را |
ترجمہ شاید آرام کی امید سانس کی طرح دل ہی میں سرک آئے، کہ آسمان کے نیچے ہمیں کہیں بھی جگہ نہ ملی۔ | |
دلِ افسردہ از ما غیرِ بیکاری نمی خواہد | حنا بستہ ست این یک قطرہ خون سر تا بہ پا ما را |
ترجمہ افسردہ دل ہم سے بیکاری کے سوا کچھ نہیں چاہتا؛ خون کے اس ایک قطرے نے ہمیں سر سے پاؤں تک حنا باندھ دی ہے۔ | |
ز دل امیدِ الفت بود با ہر ناامیدیہا | بہ این بیگانہ ہم گاہی نکردند آشنا ما را |
ترجمہ ہر ناامیدی کے باوجود دل سے الفت کی امید تھی؛ مگر اس بیگانے سے بھی کبھی ہمیں آشنا نہ کیا گیا۔ | |
بہ عریانی کسی آگہ نبود از حالِ ما بیدل | چہ رسوایی کہ آمد پیش در زیرِ قبا ما را |
ترجمہ بیدل، عریانی میں کوئی ہمارے حال سے آگاہ نہ تھا؛ قبا کے نیچے ہمیں کیسی رسوائی پیش آئی۔ | |
