فالِ حباب زن بشمر موجِ آب را | چشمی بہ صفر گیر و نظر کن حساب را |
ترجمہ حباب کا فال نکال اور پانی کی موجیں گن لے، ایک آنکھ کو صفر سمجھ اور حساب پر نظر کر۔ | |
عشق از مزاجِ ما بہ ہوس گشت متہم | در شک گرفت نقطۂ وہم انتخاب را |
ترجمہ ہماری طبیعت کے سبب عشق پر ہوس کی تہمت لگی، وہم کے نقطے نے انتخاب کو شک میں ڈال دیا۔ | |
گر نیست زین قلمروِ اوہام عبمتت | آبِ حیات تشنہ لبی کن سراب را |
ترجمہ اگر تیری (عصمت؟) اوہام کی اس قلمرو سے نہیں ہے تو آبِ حیات ہو کر بھی سراب کے آگے تشنہ لبی اختیار کر۔ | |
چشمم تحیر آینۂ نقشِ پای تست | مپسند خالی از قدمت این رکاب را |
ترجمہ میری آنکھ حیرت سے تیرے نقشِ پا کا آئینہ ہے، اس رکاب کو اپنے قدم سے خالی نہ رہنے دے۔ | |
عالم تصرفِ یدِ بیضا گرفتہ است | اعجازِ دیگر است ز رویت نقاب را |
ترجمہ دنیا کو یدِ بیضا کے تصرف نے گھیر رکھا ہے، مگر تیرے چہرے کی بدولت نقاب کا اعجاز ہی کچھ اور ہے۔ | |
امروز در قلمروِ نظارہ نور نیست | از بس خطت بہ سایہ نشاند آفتاب را |
ترجمہ آج نظارے کی قلمرو میں کوئی روشنی نہیں، کیونکہ تیرے خط نے سورج کو سائے میں بٹھا دیا ہے۔ | |
فیضِ بہار لغزشِ مستانہ بردنی ست | در شیشہ ہای آبلہ می کن گلاب را |
ترجمہ بہار کا فیض مستانہ لغزش کے ساتھ ہی لے جانے کی چیز ہے، چھالوں کی شیشیوں میں گلاب بھر لے۔ | |
اجزای ما چو صبح نفس پرور است و بس | شیرازہ کردہ اند بہ باد این کتاب را |
ترجمہ ہمارے اجزا صبح کی طرح بس سانس پالنے والے ہیں، اس کتاب کی شیرازہ بندی ہوا سے کی گئی ہے۔ | |
ما بیخودان بہ غفلتِ خود پی نبردہ ایم | چشم آشنا نشد کہ چہ رنگ است خواب را |
ترجمہ ہم بے خودوں نے اپنی غفلت کا سراغ نہ پایا، آنکھ کبھی نہ جان سکی کہ نیند کا رنگ کیا ہے۔ | |
در طینتِ فسردہ صفاہا کدورت است | آیینہ می کند ہمہ زنگارِ آب را |
ترجمہ افسردہ طینت میں صفائیاں بھی کدورت بن جاتی ہیں، یہاں پانی کا زنگار ہی سب کچھ آئینہ بناتا ہے۔ | |
جوشِ خزانم آینہ دارِ بہارِ اوست | نظارہ کن ز چاکِ کتان ماہتاب را |
ترجمہ میری خزاں کا جوش اس کی بہار کا آئینہ دار ہے، کتان کے چاک سے چاندنی کا نظارہ کر۔ | |
بیدل بہ گیر و دارِ نفس آنقدر مناز | آیینہ کن شکستِ کلاہِ حباب را |
ترجمہ اے بیدل، سانس کی کشمکش پر اتنا ناز نہ کر، حباب کی ٹوپی کے ٹوٹنے کو اپنا آئینہ بنا۔ | |
