اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

فال حباب زن بشمر موج آب را

فالِ حباب زن بشمر موجِ آب را

چشمی بہ صفر گیر و نظر کن حساب را

ترجمہ حباب کا فال نکال اور پانی کی موجیں گن لے، ایک آنکھ کو صفر سمجھ اور حساب پر نظر کر۔

عشق از مزاجِ ما بہ ہوس گشت متہم

در شک گرفت نقطۂ وہم انتخاب را

ترجمہ ہماری طبیعت کے سبب عشق پر ہوس کی تہمت لگی، وہم کے نقطے نے انتخاب کو شک میں ڈال دیا۔

گر نیست زین قلمروِ اوہام عبمتت

آبِ حیات تشنہ لبی کن سراب را

ترجمہ اگر تیری (عصمت؟) اوہام کی اس قلمرو سے نہیں ہے تو آبِ حیات ہو کر بھی سراب کے آگے تشنہ لبی اختیار کر۔

چشمم تحیر آینۂ نقشِ پای تست

مپسند خالی از قدمت این رکاب را

ترجمہ میری آنکھ حیرت سے تیرے نقشِ پا کا آئینہ ہے، اس رکاب کو اپنے قدم سے خالی نہ رہنے دے۔

عالم تصرفِ یدِ بیضا گرفتہ است

اعجازِ دیگر است ز رویت نقاب را

ترجمہ دنیا کو یدِ بیضا کے تصرف نے گھیر رکھا ہے، مگر تیرے چہرے کی بدولت نقاب کا اعجاز ہی کچھ اور ہے۔

امروز در قلمروِ نظارہ نور نیست

از بس خطت بہ سایہ نشاند آفتاب را

ترجمہ آج نظارے کی قلمرو میں کوئی روشنی نہیں، کیونکہ تیرے خط نے سورج کو سائے میں بٹھا دیا ہے۔

فیضِ بہار لغزشِ مستانہ بردنی ست

در شیشہ ہای آبلہ می کن گلاب را

ترجمہ بہار کا فیض مستانہ لغزش کے ساتھ ہی لے جانے کی چیز ہے، چھالوں کی شیشیوں میں گلاب بھر لے۔

اجزای ما چو صبح نفس پرور است و بس

شیرازہ کردہ اند بہ باد این کتاب را

ترجمہ ہمارے اجزا صبح کی طرح بس سانس پالنے والے ہیں، اس کتاب کی شیرازہ بندی ہوا سے کی گئی ہے۔

ما بیخودان بہ غفلتِ خود پی نبردہ ایم

چشم آشنا نشد کہ چہ رنگ است خواب را

ترجمہ ہم بے خودوں نے اپنی غفلت کا سراغ نہ پایا، آنکھ کبھی نہ جان سکی کہ نیند کا رنگ کیا ہے۔

در طینتِ فسردہ صفاہا کدورت است

آیینہ می کند ہمہ زنگارِ آب را

ترجمہ افسردہ طینت میں صفائیاں بھی کدورت بن جاتی ہیں، یہاں پانی کا زنگار ہی سب کچھ آئینہ بناتا ہے۔

جوشِ خزانم آینہ دارِ بہارِ اوست

نظارہ کن ز چاکِ کتان ماہتاب را

ترجمہ میری خزاں کا جوش اس کی بہار کا آئینہ دار ہے، کتان کے چاک سے چاندنی کا نظارہ کر۔

بیدل بہ گیر و دارِ نفس آنقدر مناز

آیینہ کن شکستِ کلاہِ حباب را

ترجمہ اے بیدل، سانس کی کشمکش پر اتنا ناز نہ کر، حباب کی ٹوپی کے ٹوٹنے کو اپنا آئینہ بنا۔