فالِ تسلیم زن و شوکتِ شاہی دریاب | گردنی خم کن و معراجِ کلاہی دریاب |
ترجمہ تسلیم کا فال نکال اور شاہی شوکت پا لے؛ گردن جھکا اور ٹوپی (تاج) کی معراج حاصل کر۔ | |
دامِ تسخیرِ دو عالم نفسِ نومیدی ست | ای ندامت زدہ سررشتۂ آہی دریاب |
ترجمہ دونوں جہانوں کو مسخر کرنے کا جال ناامیدی کی سانس ہے؛ اے ندامت کے مارے! کسی آہ کا سرا پکڑ لے۔ | |
فرصتِ صحبتِ گل پا بہ رکابِ رنگ است | آرزو چند اگر ہست نگاہی دریاب |
ترجمہ پھول کی صحبت کی فرصت رنگ کی رکاب میں پاؤں رکھے ہوئے ہے؛ آرزو کب تک، اگر ہو سکے تو ایک نگاہ پا لے۔ | |
از شبیخونِ خطِ یار نگردی غافل | ہرکجا شوخیٔ گردی ست سپاہی دریاب |
ترجمہ یار کے خط (سبزۂ رخسار) کے شب خون سے غافل نہ ہونا؛ جہاں کہیں گرد کی شوخی ہو، وہاں ایک لشکر سمجھ لے۔ | |
دودِ پیچیدۂ دل گرد سراغی دارد | از سویدا اثرِ چشمِ سیاہی دریاب |
ترجمہ دل کا پیچ دار دھواں کسی سراغ کی گرد رکھتا ہے؛ دل کے سیاہ نقطے سے کسی سیاہ آنکھ کا اثر پہچان لے۔ | |
تا کی ای پای طلب زحمتِ جولان دادن | طوفِ آسودگیٔ آبلہ گاہی دریاب |
ترجمہ اے طلب کے پاؤں! کب تک جولانی کی زحمت دیتا رہے گا؛ کبھی چھالے کی آسودگی کا طواف بھی کر لے۔ | |
یوسفی کن گرت اسبابِ مسیحایی نیست | بہ فلک گر نرسیدی بنِ چاہی دریاب |
ترجمہ اگر تیرے پاس مسیحائی کا سامان نہیں تو یوسفی کر؛ اگر آسمان تک نہ پہنچا تو کسی کنویں کی تہ پا لے۔ | |
نامرادی صدفِ گوہرِ اقبالِ رساست | غوطہ در جیبِ گدایی زن و شاہی دریاب |
ترجمہ نامرادی بلند اقبال کے موتی کی سیپ ہے؛ گدائی کے گریبان میں غوطہ لگا اور بادشاہی پا لے۔ | |
سیلِ بنیادِ دو عالم شدی ای آتشِ عشق | ما گیاہیم ز ما ہم پرِ کاہی دریاب |
ترجمہ اے آتشِ عشق! تو دونوں جہانوں کی بنیاد کے لیے سیلاب بن گیا؛ ہم گھاس ہیں، ہم سے بھی ایک تنکے کا پر لے لے۔ | |
چہ وجود و چہ عدم بست و گشادِ مژہ است | چون شرر ہر دو جہان را بہ نگاہی دریاب |
ترجمہ کیا وجود اور کیا عدم، بس پلک کا بند ہونا اور کھلنا ہے؛ چنگاری کی طرح دونوں جہانوں کو ایک نگاہ میں پا لے۔ | |
خلوتِ عافیتِ شمع گداز است اینجا | پی خاکسترِ خود گیر و پناہی دریاب |
ترجمہ یہاں شمع کی عافیت کی خلوت پگھلنا ہی ہے؛ اپنی راکھ کا سراغ پکڑ اور کوئی پناہ پا لے۔ | |
دامنِ دیدہ بہ ہر سرمہ میالا بیدل | انتظاری شو و گردِ سرِ راہی دریاب |
ترجمہ بیدل! آنکھ کا دامن ہر سرمے سے آلودہ نہ کر؛ سراپا انتظار بن اور کسی راہ کے سرے کی گرد پا لے۔ | |
