فتیلہ ای بہ دلِ بیخبر ز داغ افروز | علاجِ خانۂ تاریک کن چراغ افروز |
ترجمہ اے بے خبر دل! (اپنے اندر) داغ کا فتیلہ روشن کر، اور اس چراغ سے اپنے تاریک گھر کا علاج کر۔ | |
ز بادۂ برقِ عتاب آب دادنت ستم است | کہ گفت چہرہ برافروز و بی دماغ افروز؟ |
ترجمہ عتاب کی بجلی جیسی شراب سے سیراب کرنا ستم ہے، کس نے کہا کہ چہرہ تو روشن کر مگر دماغ پریشان کر دے؟ | |
پری رخان بہ ہزار انجمن قدح زدہ اند | تو این چراغِ طرب یک دو گل بہ باغ افروز |
ترجمہ حسین چہروں نے ہزاروں محفلوں میں جام نوشی کی ہے، تو بھی اس خوشی کے چراغ سے باغ میں ایک دو پھول کھلا دے۔ | |
دلیلِ منزلِ تحقیق ترکِ واسطہ است | بہ سوزِ جادہ و شمعِ رہ سراغ افروز |
ترجمہ حقیقت کی منزل کی دلیل وسیلوں کو ترک کرنا ہے، راستے کی تپش اور راہ کی شمع سے (منزل کا) سراغ روشن کر۔ | |
امیدِ شعلۂ آوازِ بلبلان تا چند | بہ دودِ یاس دمی آشیانِ زاغ افروز |
ترجمہ کب تک بلبلوں کی شعلہ نوا آواز کی امید رکھے گا؟ ایک لمحے کے لیے مایوسی کے دھوئیں سے کوے کا آشیانہ جلا دے۔ | |
بہ غیرِ آبلۂ پا دلیلِ راحت نیست | بہ این چراغ تو ہم گوشۂ فراغ افروز |
ترجمہ پاؤں کے چھالے کے سوا راحت کی کوئی اور دلیل نہیں ہے، اسی چراغ سے تو بھی اپنی فرصت کا گوشہ روشن کر۔ | |
اگر فتیلۂ موجِ می ات بہ تاب رسد | ہزار انجمن از برقِ یک ایاغ افروز |
ترجمہ اگر تیری شراب کی موج کا فتیلہ روشن ہو جائے، تو ایک ہی جام کی بجلی سے ہزاروں محفلیں روشن کر دے۔ | |
دمی کہ صفحہ بہ ذوقِ فنا زدی آتش | رہِ طلب بہ گہرہای شبچراغ افروز |
ترجمہ جس لمحے تو نے فنا کے شوق میں (ہستی کا) صفحہ جلا دیا، (اسی لمحے) طلب کی راہ کو شب چراغ موتیوں سے روشن کر۔ | |
فروغِ بزمِ وفا مغتنم شمر بیدل | چراغ اگر نفروزد کسی تو داغ افروز |
ترجمہ اے بیدل! وفا کی محفل کی روشنی کو غنیمت سمجھ، اگر کوئی چراغ نہیں جلاتا تو تُو (اپنے سینے کا) داغ روشن کر۔ | |
