فشاند محملِ نازت گلِ چہ رنگ بہ صحرا | کہ گرد می کند آیینۂ فرنگ بہ صحرا |
ترجمہ تیرے ناز کے محمل نے صحرا میں کس رنگ کے پھول برسائے، کہ فرنگی آئینہ بھی صحرا میں غبار بن رہا ہے۔ | |
بہ خاک ہم چہ خیال است دامنت دہم از کف | چو خاربن سرِ مجنون زدہست چنگ بہ صحرا |
ترجمہ خاک میں مل کر بھی یہ کیسا خیال کہ تیرا دامن ہاتھ سے چھوڑ دوں، مجنوں کا سر خاربن کی طرح صحرا میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ | |
کجاست شورِ جنونی کہ من ز وجدِ رہایی | چو گردباد بہ یک پا زنم شلنگ بہ صحرا |
ترجمہ جنون کا وہ شور کہاں کہ میں رہائی کے وجد میں بگولے کی طرح صحرا میں ایک پاؤں پر چھلانگیں لگاؤں۔ | |
ز جرأتِ نفسم برقِ نازِ عرصۂ امکان | رساندہ ام تکِ آہو ز پای لنگ بہ صحرا |
ترجمہ میری سانس کی جرأت سے، جو امکان کے میدان میں ناز کی بجلی ہے، میں نے لنگڑے پاؤں سے ہرن کی دوڑ صحرا تک پہنچا دی۔ | |
ز سعیِ طالعِ ناساز اگر رسم بہ کمالی | ہمان پلنگ بہ دریایم و نہنگ بہ صحرا |
ترجمہ ناساز طالع کی کوشش سے اگر میں کسی کمال تک پہنچ بھی جاؤں تو وہی دریا میں چیتا اور صحرا میں مگرمچھ رہوں گا۔ | |
فزود ریگِ روان دستگاہِ عشرتِ مجنون | یکی ہزار شد اکنون حسابِ سنگ بہ صحرا |
ترجمہ بہتی ریت نے مجنوں کی عشرت کا سامان بڑھا دیا، اب صحرا میں پتھروں کا حساب ایک سے ہزار ہو گیا۔ | |
کدورتِ دلِ خون بستہ ہیچ چارہ ندارد | نشستہ ایم چو نافِ غزالہ تنگ بہ صحرا |
ترجمہ خون بستہ دل کی کدورت کا کوئی علاج نہیں، ہم ہرنی کے نافے کی طرح صحرا میں تنگ دل بیٹھے ہیں۔ | |
تو فکرِ حاصلِ خود کن کہ خلقِ سوختہ خرمن | فتادہ است پراکندہ چون کلنگ بہ صحرا |
ترجمہ تو اپنے حاصل کی فکر کر، کہ جلے ہوئے خرمن والی خلق صحرا میں کلنگ کی طرح بکھری پڑی ہے۔ | |
درین جنونکدہ منعِ فضولی ات نتوان کرد | ہوس بہ طبعِ تو خودروست ہمچو بنگ بہ صحرا |
ترجمہ اس جنون کدے میں تیری فضولی کو روکا نہیں جا سکتا، ہوس تیری طبیعت میں صحرا کی بھنگ کی طرح خود رو ہے۔ | |
مباش غرۂ نشو و نمای فرصتِ ہستی | خرامِ سیل کند ناکجا درنگ بہ صحرا |
ترجمہ ہستی کی فرصت کی نشو و نما پر مغرور نہ ہو، سیلاب کا خرام صحرا میں کہاں تک ٹھہرتا ہے۔ | |
زہی بہ دامنِ ما موجِ این محیط چہ بندد | گذشتہ ایم پرافشانتر از خدنگ بہ صحرا |
ترجمہ خوب! اس سمندر کی موج ہمارے دامن سے کیا باندھے گی، ہم تیر سے بھی زیادہ پرافشاں ہو کر صحرا سے گزر گئے ہیں۔ | |
بہ عالمِ دگر افتاد گردِ وحشتِ بیدل | نساخت مشربِ مجنونِ ما ز ننگ بہ صحرا |
ترجمہ بیدل کی وحشت کا غبار کسی اور ہی عالم میں جا پڑا، ہمارے مجنوں کا مشرب ننگ کے سبب صحرا سے بھی نہ نبھا۔ | |
