گہ بہ رو می دوی و گاہ بہ سر می آیی | نیستی اشک چرا اینہمہ تر می آیی |
ترجمہ کبھی تو چہرے کے بل دوڑتا ہے اور کبھی سر کے بل آتا ہے؛ تو آنسو تو نہیں، پھر اتنا تر کیوں آتا ہے۔ | |
دردِ فرصت ز ہجومِ املت باز نداشت | سنگہا بستہ بہ دامانِ شرر می آیی |
ترجمہ فرصت کے درد نے تجھے امیدوں کے ہجوم سے باز نہ رکھا؛ تو شرر کے دامن سے پتھر باندھے چلا آتا ہے۔ | |
زین تخیل کہ فشردہ ست دماغِ ہوست | قطرہ نارفتہ بہ اندازِ گہر می آیی |
ترجمہ اس خیال کی وجہ سے جس نے تیری ہوس کے دماغ کو بھینچ رکھا ہے، تو قطرہ ہوئے بغیر ہی موتی کے انداز میں آتا ہے۔ | |
شعلہ ات گو نفسی چند بہ پرواز تند | آخر از ضبطِ نفس در تہِ پر می آیی |
ترجمہ تیرا شعلہ چند سانس پرواز میں گھومتا رہے تو رہے؛ آخرکار سانس روکنے سے تو پر کے نیچے ہی آ جاتا ہے۔ | |
خوابِ غفلت چقدر گردِ پریشان نظری ست | بہ وطن خفتہ ز تشویقِ سفر می آیی |
ترجمہ غفلت کی نیند نظر کی پریشانی کی کتنی گرد ہے؛ تو وطن میں سویا ہوا ہے اور سفر کے شوق سے لوٹ رہا ہے۔ | |
عالمی در نفسِ سوختہ خون می گردد | تا تو یک نالۂ پرواز اثر می آیی |
ترجمہ ایک جلی ہوئی سانس میں ایک دنیا خون ہو جاتی ہے تب کہیں تو ایک پُراثر پرواز والا نالہ بن کر آتا ہے۔ | |
پایہ ات آنہمہ از خاک نچیدہ ست بلند | تا کجاہا بہ سرِ آبلہ بر می آیی |
ترجمہ تیرا پایہ خاک سے اتنا بلند نہیں چنا گیا؛ آبلے کے سر پر تو کہاں کہاں تک چڑھے گا۔ | |
نفیٔ اوہام ز اثباتِ یقین خالی نیست | ہر چہ شب رفتہ ای از خویش سحر می آیی |
ترجمہ وہموں کی نفی یقین کے اثبات سے خالی نہیں؛ جتنا تو رات بن کر اپنے آپ سے گیا، اتنا ہی صبح بن کر لوٹتا ہے۔ | |
آخر از جلوۂ تحقیق بہ حیرت زدن ست | وعدۂ وصل است و تو آیینہ بہ بر می آیی |
ترجمہ تحقیق کے جلوے کا انجام آخر حیرت میں ڈوب جانا ہے؛ وصل کا وعدہ ہے اور تو آئینہ بغل میں لیے آتا ہے۔ | |
نہ دل آیینہ و نی دیدہ تماشا قابل | حیرت این است کہ در دل بہ نظر می آیی |
ترجمہ نہ دل آئینہ ہے نہ آنکھ تماشے کے لائق؛ حیرت یہ ہے کہ پھر بھی تو دل میں نظر آتا ہے۔ | |
می شود ہر دو جہان یک مژہ آغوشِ ہوس | تا تو ہمچون نگہ از پردہ بہ در می آیی |
ترجمہ جب تو نگاہ کی طرح پردے سے باہر آتا ہے تو دونوں جہان ایک پلک بھر میں ہوس کی آغوش بن جاتے ہیں۔ | |
بیدل این انجمنِ شوق فسردنکدہ نیست | ہمچو پرواز بہ افشاندنِ پر می آیی |
ترجمہ بیدل! شوق کی یہ انجمن افسردگی کا گھر نہیں؛ تو پرواز کی طرح پر جھاڑتا ہوا آتا ہے۔ | |
