گر کنی با موجِ خونم ہمزبان شمشیر را | می کشم در جوہر از رگہای جان شمشیر را |
ترجمہ اگر تم تلوار کو میرے خون کی موج کا ہم زبان کر دو تو میں جان کی رگوں سے تلوار کو جوہر میں کھینچ لوں۔ | |
می دہد طرزِ خرام فتنہ پیکر قامتت | پیچ و تابِ جوہر از موی میان شمشیر را |
ترجمہ تیرا فتنہ پیکر قد اپنے خرام کی ادا سے تلوار کو کمر کے بال جیسے جوہر کا پیچ و تاب دیتا ہے۔ | |
از خمِ ابروی خونریزِ تو ہر جا دم زند | عرضِ جوہر می شود مہرِ زبان شمشیر را |
ترجمہ تیرے خونریز ابرو کے خم کے آگے تلوار جہاں کہیں دم مارے، جوہر کا اظہار اس کی زبان کی مہر بن جاتا ہے۔ | |
ای فغان بگذر ز چرخ و لامکان تسخیر باش | چند در زیرِ سپر کردن نہان شمشیر را |
ترجمہ اے فغاں! آسمان سے گزر جا اور لامکاں کو مسخر کر؛ کب تک تلوار کو ڈھال کے نیچے چھپائے رکھے گی؟ | |
جوہرِ تجرید قطعِ الفتِ خویش است و بس | بر سرِ خود می توان کرد امتحان شمشیر را |
ترجمہ تجرید کا جوہر بس اپنی الفت کو کاٹ دینا ہے؛ تلوار کا امتحان اپنے ہی سر پر کیا جا سکتا ہے۔ | |
علم در ہر طبع سامان بخشِ استعدادِ اوست | تا بہ خون بردہ ست جوہر موکشان شمشیر را |
ترجمہ علم ہر طبیعت میں اس کی استعداد ہی کے مطابق سامان بخشتا ہے؛ جوہر تلوار کو بال سے کھینچتا ہوا خون تک لے گیا ہے۔ | |
گر امان خواہی ز گردون سر بہ جیبِ خاک دزد | ورنہ رحمی نیست بر عریان تنان شمشیر را |
ترجمہ اگر آسمان سے امان چاہتے ہو تو سر کو خاک کے گریبان میں چھپا لو، ورنہ تلوار کو برہنہ تنوں پر کوئی رحم نہیں۔ | |
دستگاہ آیینۂ بیباکیٔ بدگوہر است | می کند آب اینقدر آتش عنان شمشیر را |
ترجمہ ساز و سامان بد گوہر کی بے باکی کا آئینہ ہے؛ آب ہی تلوار کو اس قدر آتش عنان کر دیتی ہے۔ | |
خونِ صیدم از ضعیفی یک چکیدن وار نیست | شرم می ترسم کند آبِ روان شمشیر را |
ترجمہ میرے شکار کا خون کمزوری کے سبب ایک قطرہ ٹپکنے بھر بھی نہیں؛ مجھے ڈر ہے کہ شرم تلوار کو بہتا پانی کر دے گی۔ | |
اینقدر ابروی خوبان گوشہ گیریہا نداشت | کرد بیدل فکرِ صیدِ من کمان شمشیر را |
ترجمہ حسینوں کے ابرو میں اتنی گوشہ گیری نہ تھی؛ اے بیدل! میرے شکار کی فکر نے تلوار کو کمان بنا دیا۔ | |
