سرسید کے نام
اردو کا پہلا پروفیسر اور فرانس کا مشہور مستشرق گارسن ڈٹاسی ہماری زبان کے غیر ملکی خادموں میں سے ایک نامور شخص تھا جو اگرچہ کبھی ہندوستان نہیں آیا مگر اردو کا ایسا عاشق تھا کہ اس نے فرانس میں بیٹھ کر بڑے شوق اور نہایت محنت سے اردو زبان سیکھی اور پھر اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں صرف کر دی اور عرصۂ دراز تک اردو زبان کے متعلق فرانس میں اردو کے طلباء کو نہایت معلوماتی لکچر دیتا رہا۔ یہ لکچر اردو ادب کی تاریخ کا ایک نہایت کارآمد اور زریں باب ہیں اور ان کا ترجمہ انجمنِ ترقیٔ اردو نے ’’خطباتِ گارسن ڈٹاسی‘‘ اور ’’مقالاتِ گارسن ڈٹاسی‘‘ کے نام سے علیحدہ علیحدہ شائع کیا ہے۔ ڈٹاسی اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور ترکی کا بھی بڑا فاضل تھا اور بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ ’’تاریخِ ادبیاتِ ہندوستانی‘‘ اس کی نہایت قابلِ قدر کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ مولوی کریم الدین پانی پتی نے بہت اضافوں کے ساتھ ’’طبقات الشعرائے ہند‘‘ کے نام سے 1852ء میں کیا۔ یورپ کا یہ نامور مستشرق 1798ء میں بمقام مارسلز پیدا ہوا اور 1878ء میں بمقام پیرس اس نے وفات پائی۔
آج ہم پروفیسر ڈٹاسی کا ایک خط ذیل میں درج کرتے ہیں جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور ’’سفرنامۂ مسافرانِ لندن‘‘ میں اس لحاظ سے بطور ’’یادگار‘‘ شامل ہونے کے قابل ہے کہ وہ ڈٹاسی نے سرسید کو اس وقت لکھا تھا جب سید صاحب لندن میں تشریف رکھتے تھے۔ اتفاق سے ہمیں یہ خط مجلہ ’’نوائے ادب‘‘ کی اپریل 1959ء کی اشاعت میں مل گیا جسے مضمون نگار جناب عابد رضا صاحب بیدار نے اخبار سائنٹیفک سوسائٹی علیگڈھ مورخہ 27 اگست 1869ء سے لے کر ’’نوائے ادب‘‘ میں نقل کیا ہے۔ یہ رسالہ اپنی خاص مہربانی سے محترمی عبدالرزاق صاحب قریشی نے مجھے بمبئی سے بھیجا تھا جس کے لیے میں ان کا نہایت شکر گزار ہوں۔
یہ خط اس لحاظ سے اور بھی زیادہ قابلِ قدر ہے کہ پروفیسر ڈٹاسی نے یہ سرسید کو اردو میں لکھا تھا۔
(محمد اسماعیل پانی پتی)
صاحبِ عالی قدر!
جب سے آپ بخیر و عافیت لندن میں وارد ہوئے ہیں، اس وقت سے میں چاہتا تھا کہ آپ کو اردو زبان میں ایک خط لکھوں، اس لیے کہ وہ ایسی زبان ہے جس کے آپ نہایت شائق ہیں مگر چونکہ مجھ کو اس عمدہ زبان میں تحریر کا ربط نہیں ہے، صرف پڑھنا اور ترجمہ کرنا آتا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں ہندوستان میں کبھی نہیں رہا، اس وجہ سے میری ہمت نے گواہی نہ دی۔
مجھ کو ’’علیگڑھ انسٹیٹیوٹ‘‘ گزٹ کے ذریعے سے ابھی یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ سٹار آف انڈیا کے کمپینین مقرر ہوئے جس کے آپ حقیقت میں مستحق تھے، پس میں اس موقع پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔
میں نے سنا ہے کہ یہ صرف آپ ہی کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اخبارِ مذکور الصدر میرے پاس آتا ہے اور جب کبھی اس میں ہندوؤں کی مخالفت پر، جو ہندی کے جاری ہونے کے نہایت خواہاں ہیں، زبانِ اردو کی کوئی تائید ہوتی ہے تو میں اس کے دیکھنے سے نہایت محظوظ ہوتا ہوں۔
کتاب توریتِ مقدس کی تفسیر جو آپ نے میرے پاس بھیجی ہے، اس کا میں بہت شکریہ ادا کرتا ہوں؛ میں نے اس کتاب کی نسبت اپنے ایڈریس میں بہت کچھ ذکر کیا ہے۔
جو کتاب آپ نے دہلی کی عمارتوں کی نسبت تالیف کی تھی، میں نے اس کا بھی ترجمہ زبانِ فرانس میں کر لیا ہے1۔
اور میں نے سرکاری اخبار میں آپ کے اور سفر کی نسبت ایک اطلاع چھپنے کے واسطے بھیجی تھی، چنانچہ وہ اخبار آج جاری ہوا ہے لیکن نہایت افسوس ہے کہ اکثر جگہ کمپوزیٹروں کی غلطی سے اطلاعِ مذکور میں بہت سی چھاپے کی غلطیاں ہو گئی ہیں؛ چنانچہ ہندوستانی کی جگہ ہندوستانیو اور علیگڑھ کی جگہ اینٹ گڑھ درج کیا ہے۔ مجھ کو اس سے نہایت رنج ہوا اور میں عرض کرتا ہوں کہ اخبارِ مذکور اتفاقاً آپ کی نظر سے گزرے تو آپ میرا قصور معاف فرماویں۔
میرا دوست سید عبداللہ جو ہمیشہ مجھ کو انگریزی یا اردو میں چٹھیاں لکھا کرتا ہے، بیان کرتا ہے کہ یورپ سے تشریف لے جانے سے پیشتر، آپ کا ارادہ پیرس میں تشریف لانے کا ہے۔ میں آپ کی ملاقات سے نہایت مسرور ہوں گا اور جو کچھ میں لکھتا ہوں اس کو زبانی بیان کروں گا۔
آپ کا خادم
گارسن ڈٹاسی
از مقامِ پیرس۔ مکان نمبر 43۔ بازار ریوسینٹ اینڈرے
مورخہ 17جولائی 1869ء
