گشتم از بی دست و پاییہا بہ خشک و تر محیط | کشتی از تسلیم پیدا کرد ساحل در محیط |
ترجمہ میں بے دست و پائی کے سبب خشک و تر پر محیط ہو گیا، کشتی نے تسلیم کے ذریعے سمندر ہی میں ساحل پا لیا۔ | |
قاصدانِ شوق یکسر ناخدایی می کنند | موجہا دارد ز چشمم تا درِ دلبر محیط |
ترجمہ شوق کے قاصد سب کے سب ناخدائی کرتے ہیں، میری آنکھ سے محبوب کے دروازے تک سمندر موجیں رکھتا ہے۔ | |
دل بہ ہر اندیشہ فالِ انقلابی می زند | می کند از ہر نسیمی نسخۂ ابتر محیط |
ترجمہ دل ہر خیال پر کسی انقلاب کی فال نکالتا ہے، سمندر ہر نسیم سے ایک بکھرا ہوا نسخہ بنا دیتا ہے۔ | |
گر چنین افسردگی جوشد ز طبعِ روزگار | رفتہ رفتہ می خزد در دیدۂ گوہر محیط |
ترجمہ اگر زمانے کی طبیعت سے ایسی افسردگی جوش مارتی رہی تو رفتہ رفتہ سمندر موتی کی آنکھ میں سمٹ جائے گا۔ | |
شوخیٔ برگِ نگہ در دیدۂ آیینہ نیست | ہمچو گوہر موجِ ما را گشت چشمِ تر محیط |
ترجمہ آئینے کی آنکھ میں نگاہ کی پتی کی شوخی نہیں، موتی کی طرح ہماری موج کو بھیگی آنکھ نے گھیر لیا۔ | |
طبع چون ممتازِ اعیان شد وطن ہم غربتست | می کند حاصل گہر گردِ یتیمی در محیط |
ترجمہ جب طبیعت اعیان میں ممتاز ہو جائے تو وطن بھی غربت ہے، موتی سمندر میں رہ کر بھی یتیمی کی گرد حاصل کرتا ہے۔ | |
ہر قدر سازِ تعلق بیش وحشت بیشتر | می گشاید در خورِ امواج بال و پر محیط |
ترجمہ تعلق کا سامان جس قدر زیادہ ہو، وحشت اتنی ہی زیادہ، سمندر موجوں کے مطابق بال و پر کھولتا ہے۔ | |
شفقتِ حالِ ضعیفان بر بزرگان ننگ نیست | خار و خس را ہمچو گل جا می دہد بر سر محیط |
ترجمہ کمزوروں کے حال پر شفقت بڑوں کے لیے عار نہیں، سمندر خار و خس کو پھول کی طرح اپنے سر پر جگہ دیتا ہے۔ | |
چون بہ عزلت خو گرفتی فکرِ آزادی خطاست | آبِ گوہر گشتہ نتواند شدن دیگر محیط |
ترجمہ جب تو نے گوشہ نشینی کی خو ڈال لی تو آزادی کا خیال خطا ہے، جو پانی موتی بن گیا وہ پھر سمندر نہیں بن سکتا۔ | |
چشمِ حیرانِ مرا آیینہ ای فہمیدہ است | در طلسمِ گوہرِ من نیست بی لنگر محیط |
ترجمہ میری حیران آنکھ کو کسی نے آئینہ سمجھ لیا ہے، میرے موتی کے طلسم میں سمندر بے لنگر نہیں۔ | |
محرمِ او کیست گردِ خویش می گردیدہ باش | حلقہ ای دارد ز گردابت برونِ در محیط |
ترجمہ اس کا محرم کون ہے، تو اپنے ہی گرد گھومتا رہ، سمندر تیرے بھنور کے ذریعے دروازے کے باہر ایک حلقہ رکھتا ہے۔ | |
دستگاہِ مستیٔ اربابِ معنی بادہ نیست | بیدل از چشمِ ترِ خود می کشد ساغر محیط |
ترجمہ اہلِ معنی کی مستی کا سرمایہ شراب نہیں، بیدل، سمندر اپنی ہی بھیگی آنکھ سے ساغر پیتا ہے۔ | |
