غیرِ خاموشی ندارد گفتگوی ما نمک | تا بہ کی بر زخمِ خود پاشد لبِ گویا نمک |
ترجمہ ہماری گفتگو میں خاموشی کے سوا کوئی نمک نہیں؛ بولنے والا لب کب تک اپنے ہی زخم پر نمک چھڑکتا رہے؟ | |
سیرِ باغِ حسن خواہی از حیا غافل مباش | در دلِ آب است آنجا سخت ناپیدا نمک |
ترجمہ اگر حسن کے باغ کی سیر چاہتا ہے تو حیا سے غافل نہ ہو؛ وہاں نمک پانی کے دل میں ہے اور بہت ناپیدا۔ | |
جادہ ہا چون زخمِ بی چاکِ گریبان نیستند | گردِ مجنون تا کجاہا ریخت در صحرا نمک |
ترجمہ راستے بھی گریبان کے چاک کے بغیر زخم جیسے نہیں؛ مجنوں کی گرد نے صحرا میں کہاں کہاں تک نمک بکھیر دیا ہے! | |
زین گلستان ہرچہ می بینی بہ رنگی می تپد | شبنمِ گل نیست الا بر جراحتہا نمک |
ترجمہ اس گلستان میں جو کچھ تو دیکھتا ہے کسی نہ کسی رنگ میں تڑپ رہا ہے؛ پھول کی شبنم زخموں پر نمک کے سوا کچھ نہیں۔ | |
گردِ موہومی بہ خاکِ نیستی آسودہ بود | یادِ دامانِ کہ شد یارب بہ زخمِ ما نمک |
ترجمہ ایک موہوم سی گرد نیستی کی خاک میں آسودہ پڑی تھی؛ یارب! کس کے دامن کی یاد ہمارے زخم پر نمک بن گئی؟ | |
محوِ تسلیمِ وفایم از فضولیہا مپرس | داغِ ما را نیست فرق از پنبہ کردن با نمک |
ترجمہ میں وفا کی تسلیم میں محو ہوں، فضولیوں کی بات نہ پوچھ؛ ہمارے داغ کے لیے روئی رکھنے اور نمک میں کوئی فرق نہیں۔ | |
در طلوعِ مہر بی عرضِ تبسم نیست صبح | ہر کہ گردد خاکِ راہت می کند پیدا نمک |
ترجمہ سورج کے طلوع میں صبح تبسم کے اظہار سے خالی نہیں؛ جو بھی تیری راہ کی خاک بنتا ہے وہ نمک پیدا کرتا ہے۔ | |
چارہ خونِ عافیتہا می خورد ہشیار باش | نسبتِ مرہم قوی افتادہ اینجا با نمک |
ترجمہ ہوشیار رہ، چارہ گری عافیتوں کا خون پیتی ہے؛ یہاں مرہم کا رشتہ نمک سے بہت گہرا نکلا ہے۔ | |
بی تغافل ایمن از آفات نتوان زیستن | دیدۂ باز است زخم و صورتِ دنیا نمک |
ترجمہ تغافل کے بغیر آفتوں سے محفوظ رہ کر جیا نہیں جا سکتا؛ زخم کھلی ہوئی آنکھ ہے اور دنیا کی صورت نمک۔ | |
طبعِ دانا می خورد خون از نشاطِ غافلان | خندۂ موج است بیدل بر دلِ دریا نمک |
ترجمہ دانا کی طبیعت غافلوں کی خوشی پر خون کے گھونٹ پیتی ہے؛ بیدل! موج کی ہنسی دریا کے دل پر نمک ہے۔ | |
