غبارِ تفرقہ ہر جا بود مقابلِ جمع | بہ ہم رسیدنِ لب ہاست قاصدِ دل جمع |
ترجمہ پراگندگی کا غبار جہاں کہیں ہو، جمعیت کے مقابل ہوتا ہے؛ لبوں کا آپس میں مل جانا ہی دل کی جمعیت کا قاصد ہے۔ | |
ندیدہ ہیچکس از کارگاہِ کسب و کمال | بہ غیرِ وضعِ ادب صورتِ فضایل جمع |
ترجمہ کسب و کمال کے کارخانے میں کسی نے ادب کی وضع کے سوا فضیلتوں کی صورت یکجا نہیں دیکھی۔ | |
دمی فراہمِ شیرازۂ تأمل باش | کتابِ معنی ات اجزا شد از دلایل جمع |
ترجمہ ایک لمحہ غور و تامل کی شیرازہ بندی میں سمٹ جا؛ تیری معنی کی کتاب کے اجزا دلیلوں سے جمع ہو چکے ہیں۔ | |
بہ کارگاہِ ہوس احتیاجت این ہمہ نیست | تو فردِ ملکِ غنایی مباش سایل جمع |
ترجمہ ہوس کے کارخانے میں تجھے اتنی حاجت نہیں؛ تو بے نیازی کی سلطنت کا یکتا ہے، جمع کرنے کا سائل نہ بن۔ | |
مدوز کیسہ بہ وہمِ ذخیرۂ انفاس | کہ این نقود پراکندہ نیست قابلِ جمع |
ترجمہ سانسوں کا ذخیرہ کرنے کے وہم میں تھیلی نہ سی، کہ یہ بکھرے ہوئے سکے جمع کیے جانے کے قابل نہیں۔ | |
کجا بریم غم ذلت گرانجانی | کہ می کشیم بہ یک ناقہ بار محمل جمع |
ترجمہ ہم گراں جانی کی ذلت کا غم کہاں لے جائیں، کہ ایک ہی اونٹنی پر پورے محمل کا بوجھ کھینچ رہے ہیں۔ | |
تو در خیالِ تعلق فسردہ ای ورنہ | ہمان جداست چہ خاک و چہ آب در گل جمع |
ترجمہ تو تعلق کے خیال میں افسردہ ہو گیا ہے، ورنہ مٹی میں یکجا ہو کر بھی خاک اور پانی الگ ہی ہیں۔ | |
نرست موجی ازین بحر بی تلاشِ گہر | تو ہم بتاز دو روزی بہ حسرتِ دل جمع |
ترجمہ اس سمندر سے کوئی موج موتی کی تلاش کے بغیر نہیں ابھری؛ تو بھی دو دن دل کی جمعیت کی حسرت میں دوڑ لے۔ | |
حسابِ عبرتی از پیشِ پا مشو غافل | چو اشکِ شمع ہمان خرج گیر داخلِ جمع |
ترجمہ اپنے پاؤں کے سامنے کے عبرت بھرے حساب سے غافل نہ ہو؛ شمع کے آنسو کی طرح خرچ ہی کو جمع میں داخل سمجھ۔ | |
ہزار خوشہ درین کشت دانہ شد بیدل | بہ غیرِ تفرقہ چیزی نبود حاصلِ جمع |
ترجمہ اے بیدل! اس کھیتی میں ہزاروں خوشے دانہ بنے، مگر جمع کا حاصل پراگندگی کے سوا کچھ نہ تھا۔ | |
