اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

حبابت ساغر و با بحر توفان پیش می آیی

حبابت ساغر و با بحر توفان پیش می آیی

حذر کز یکنفس تنگی برون از خویش می آیی

ترجمہ تیرا ساغر ایک بلبلہ ہے اور تو سمندر کے سامنے طوفان بن کر آتا ہے؛ ہوشیار! ایک سانس کی تنگی سے تو اپنے آپ سے باہر نکل آتا ہے۔

حلاوت آرزوییہا گزند آمادہ است اینجا

ہمہ گر در عسل پا افشری بر نیش می آیی

ترجمہ یہاں مٹھاس کی آرزوئیں نقصان کے لیے تیار بیٹھی ہیں؛ تو سراسر شہد میں پاؤں گاڑے تب بھی ڈنک پر جا پہنچتا ہے۔

در آن محفل کہ نازِ آدمیت خرس و بز دارد

محاسن می فروشی ہر قدر با ریش می آیی

ترجمہ اس محفل میں جہاں آدمیت کا ناز ریچھ اور بکرے کے پاس ہے، تو جتنا داڑھی لے کر آتا ہے اتنی ہی اپنی خوبیاں بیچتا ہے۔

برو آنجا کہ سقفِ سیمکار و قصرِ زر باشد

تو شیطانی کجا در کلبۂ درویش می آیی

ترجمہ وہاں جا جہاں چاندی کی چھت اور سونے کا محل ہو؛ تو شیطان ہے، درویش کی کٹیا میں کہاں آتا ہے۔

در اہلِ مزبلہ گندِ حدث تاثیرہا دارد

خباثت پیشہ کن دنیاست آخر پیش می آیی

ترجمہ کوڑے کے ڈھیر والوں میں نجاست کی بدبو بڑے اثر رکھتی ہے؛ خباثت کو پیشہ بنا لے، آخر دنیا ہے، تو آگے نکل جائے گا۔

چہ افسون اینقدرہا دارد از قربِ دلت غافل

کہ منزل در بغل گم کردہ دوراندیش می آیی

ترجمہ کون سا افسون تجھے دل کی قربت سے اتنا غافل رکھتا ہے کہ منزل بغل میں گم کیے تو دور اندیش بن کر آتا ہے۔

بہ عریانی سرِ یک رشتۂ دامانت نمی گیرد

جنون کن گر برون از عالمِ تشویش می آیی

ترجمہ برہنگی میں تیرے دامن کا ایک دھاگہ بھی کسی کو نہیں پکڑتا؛ اگر پریشانی کی دنیا سے باہر آنا ہے تو جنون اختیار کر۔

حبابِ نقدِ ہستی امتحانی دارد از صفرت

کمی ہم زین میان گر رفتہ باشی بیش می آیی

ترجمہ ہستی کی نقدی کا بلبلہ تیرے صفر سے ایک امتحان رکھتا ہے؛ اگر تو اس بیچ سے ذرا بھی گھٹ گیا تو زیادہ ہو کر آئے گا۔

ہمین آوازم از دلہای درد آلود می آید

کہ مرہم شو اگر بر آستانِ ریش می آیی

ترجمہ درد بھرے دلوں سے مجھے یہی آواز آتی ہے کہ اگر زخم کی دہلیز پر آتا ہے تو مرہم بن کر آ۔

بہارت بیدل آخر در چہ گلزار آشیان دارد

کہ عمری شد بہ چندین رنگ پیش خویش می آیی

ترجمہ بیدل! تیری بہار آخر کس گلزار میں آشیانہ رکھتی ہے کہ ایک عمر ہو گئی تو اتنے رنگوں میں اپنے ہی پاس آتا ہے۔