اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

حبیب الرحمٰن خاں شروانی کے نام

خط (1) — مارچ 1903ء (جلد اوّل، خط 7)

از لاہور بھاٹی دروازہ1

مخدوم و مکرّم حضرت قبلہ خان صاحب السّلام علیکم

آپ کا نوازش نامہ آج صبح ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج مجھے اپنے ٹوٹے پھوٹے اشعار کی داد مل گئی۔ بعض بعض جگہ جو تنقید آپ نے فرمائی ہے بالکل درست ہے۔ بالخصوص لفظ جُبّہ کے متعلق مجھے آپ سے کلّی اتفاق ہے۔ میرے اصل مسوّدہ میں جو ایک دوست نے لکھا تھا غلطی سے ’’تو‘‘ کی جگہ ’’جو‘‘ لکھا گیا۔ وہیں سے کاتب نے نقل کی (میری ہستی ہے تو تھی الخ) مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے تو ڈکٹیٹ کرایا تھا۔ طور پر تم نے جو اے موسیٰ الخ اصل مصرع ’’طور پر تو نے جو اے دیدۂ موسیٰ دیکھا‘‘ ہے۔ کاتب نے یہ سمجھ کر کہ پیغمبروں کے نام کے ساتھ حضرت آیا کرتا ہے یہ لفظ لکھ دیا اور اصل لفظ کو زورِ عادت کی وجہ سے نظر انداز کر دیا۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ اس نظم کے بعض دیگر اشعار میں بھی کچھ قابلِ اعتراض باتیں ہیں۔ اس سال مجھے امید نہ تھی کہ میں کوئی نظم پڑھ سکوں گا۔ مڈل کے امتحان کے پرچوں سے فراغت نہ ہوئی طبیعت کو یکسوئی کس طرح نصیب ہوتی۔ یہ نظم جلسہ سالانہ سے تین روز پہلے لکھی گئی اور ہفتہ کی شام کو مطبع میں بھیجی گئی۔ رات کو کاتب نے لکھی اور جلدی میں بندوں کی ترتیب میں بھی غلطی کر گیا۔

میں نے اس کا ایک مصرع بھی اپنے ہاتھوں سے نہیں لکھا بلکہ جلدی میں جو کچھ مُنہ میں آیا ڈکٹیٹ کراتا گیا۔ ان حالات کی وجہ سے بعض بعض اشعار میں کچھ نقص رہ گئے۔ لفظ جُبّہ کے لئے میں خصوصیت سے آپ کا مشکور ہوں، کیوں کہ یہ بات میرے خیال میں مطلق نہ تھی۔

آپ نے جو ریمارک اس کے اشعار پر لکھے ہیں اُن کے لیے آپ کا تہِ دل سے مشکور ہوں آپ لوگ نہ ہوں تو واللہ ہم شعر کہنا ہی ترک کر دیں۔ اگرچہ جلسہ میں ہر طرف سے لوگ حسبِ معمول ان کی تعریف کرتے تھے مگر جو مزا مجھے آپ کی داد سے ملا ہے اُسے میرا دل ہی جانتا ہے۔ افسوس ہے اب کے آپ تشریف نہ لا سکے میر نیرنگ تشریف لائے تھے چوہدری خوشی محمد تھے۔ مولانا گرامی بھی تھے۔ غرضیکہ محفلِ احباب کے سب ارکانِ مشیّدہ2 موجود تھے۔ اگر آپ ہوتے تو ایک آدھ رات خوب گزر جاتی۔ حبیب کی موجودگی شعراء کے لیے کافی سامان ہے۔ اور بالخصوص جب کہ حبیب شعر فہم اور شعر گو بھی ہو۔ ایف اے کے امتحان کے پرچے مضمون تاریخِ یونان و روم کے دیکھ رہا ہوں۔ سامنے بنڈل رکھا ہے اور نتیجہ بھیجنے میں چار دن کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ لہٰذا مجبوراً بس کرتا ہوں معاف کیجیے گا اب کے مخزن میں میری دو غزلیں نئی طبع ہوں گی امید ہے آپ پڑھ کر محظوظ ہوں گے۔

مولانا گرامی میرے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ خط کس کو لکھ رہے ہو۔ میں کہتا ہوں ’’حبیب‘‘ کو تو آپ فرماتے ہیں میرا بھی سلام لکھ دو آخر شاعر ہیں نا۔ والسّلام

آپ کا مخلص اقبال

(اقبال نامہ)3


خط (2) — 25 مئی 1903ء (جلد اوّل، خط 9)

مخدوم و مکرم خان صاحب السّلام علیکم

آپ کا نوازش نامہ لاہور ہوتا ہوا مجھے یہاں ملا۔ میں ایک مصیبت میں مبتلا اس وقت لاہور سے ایک ہزار میل کے فاصلہ پر برٹش بلوچستان میں ہوں۔ آپ بھی خدا کی جناب میں دعا کریں کہ اس کا انجام اچھا ہو۔ آپ کا خط حفاظت سے صندوق میں بند کر دیا ہے نظرِ ثانی کے وقت آپ کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ اگر میری ہر نظم کے متعلق آپ اس قسم کا خط لکھ دیا کریں تو میں آپ کا نہایت ممنون ہوں گا۔

آپ کا اقبال

از فورٹ سنڈیمن۔ برٹش بلوچستان 25؍ مئی 1903ء

(اقبال نامہ)


خط (3) — 6 اگست 1903ء (جلد اوّل، خط 10)

از شہر سیالکوٹ 6؍ اگست 1903ء

مخدوم و مکرم جناب قبلہ خان صاحب السّلام علیکم

آپ کا نوازش نامہ کل شام ملا۔ الحمد للہ کہ آپ خیریت سے ہیں۔ خدا کے فضل سے اس تشویش کا خاتمہ ہوا۔ میرے بڑے بھائی جان پر جو بلوچستان کی سرحد پر سب ڈویژنل افسر ملٹری ورکس تھے اُن کے مخالفین نے ایک خوفناک فوجداری مقدمہ بنا دیا تھا۔ لیکن الحمد للہ کہ دشمنوں کے منہ میں خاک پڑی۔ بھائی صاحب بری ہوئے۔ اگرچہ روپیہ کثیر صرف ہوا تاہم شکر ہے ہماری مصیبت کا خاتمہ ہوا۔ ہم باقی رہ گئے اور ہماری مصیبت دشمنوں کی تلاش میں پھر بلوچستان کی طرف عود کر گئی۔ بلوچستان ایجنسی والے تو ہمارے ساتھ ناانصافی کرنے پر آمادہ تھے۔ مگر خدا لارڈ کرزن4 کا بھلا کرے کہ میرے لکھنے پر معاملہ دگرگوں ہو گیا۔ والسّلام

آپ کا مخلص محمد اقبال

(اقبال نامہ)


اردو جریدہ نے یہ خطوط «کلیاتِ مکاتیبِ اقبال» (مرتبہ سید مظفر حسین برنی، اردو اکادمی، دہلی)، جلد اوّل (نومبر 1989ء)، صفحہ 74 تا 81 سے ڈیجیٹائز کیے ہیں۔