اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

حیف کز افلاس نومیدی فواید مرد را

حیف کز افلاسِ نومیدی فزاید مرد را

دست اگر کوتاہ شد بر دل نشاید مرد را

ترجمہ افسوس کہ مفلسی سے مرد کی نومیدی بڑھتی ہے، ہاتھ اگر کوتاہ ہو جائے تو بھی مرد کو دل پر ہاتھ رکھنا زیبا نہیں۔

از تنزلہاست گر در عالمِ آزادگی

چینِ پیشانی بہ یادِ دامن آید مرد را

ترجمہ آزادگی کی دنیا میں یہ پستی کی بات ہے کہ دامن کی یاد سے مرد کے ماتھے پر شکن آئے۔

چون طبیعتہای زن گل کردہ گیر آثارِ ننگ

در فسوسِ مال و زر گر دست ساید مرد را

ترجمہ اگر مرد مال و زر کے افسوس میں ہاتھ ملے تو سمجھ لے کہ اس میں عورتوں کی سی طبیعت کی طرح ننگ کے آثار کھل اٹھے۔

جدولِ آب و خیابانِ چمن منظورِ کیست

زخمِ میدانہا کشد تا دل گشاید مرد را

ترجمہ پانی کی نالیاں اور چمن کی روشیں کسے منظور ہیں، مرد کا دل تو میدانوں کے زخم کھا کر کھلتا ہے۔

یک تغافل می کند سرکوبیٔ صد کوہسار

در سخن می باید از جا در نیاید مرد را

ترجمہ ایک تغافل سو کوہساروں کو پست کر دیتا ہے، گفتگو میں مرد کو اپنی جگہ سے نہیں ہلنا چاہیے۔

دامنِ رستم تکاند بر سرِ این ہفت خوان

دستِ غیرت تا غبار از دل زداید مرد را

ترجمہ غیرت کا ہاتھ اس ہفت خوان پر رستم کا دامن جھاڑتا ہے، تاکہ مرد کے دل سے غبار صاف کرے۔

در مزاجِ دانہ آمادہ ست تأثیرِ زمین

حیز کم پیدا شود گر زن نزاید مرد را

ترجمہ دانے کے مزاج میں زمین کی تاثیر موجود ہوتی ہے، اگر عورت مرد کو نہ جنے تو نامرد بھی کم پیدا ہوں۔

ناگزیرِ رغبتِ اقبال باید زیستن

جاہِ دنیا صورتِ زن می نماید مرد را

ترجمہ اقبال کی رغبت کے ساتھ جینا ناگزیر ہے، مگر دنیا کا جاہ مرد کو عورت کی صورت دکھائی دیتا ہے۔

جوہرِ غیرت درین میدان نمی ماند نہان

تیغ می گردد زبان و می ستاید مرد را

ترجمہ اس میدان میں غیرت کا جوہر چھپا نہیں رہتا، زبان تلوار بن جاتی ہے اور مرد کی ستائش کرتی ہے۔

گر ز سیم و زر وفا خواہی بہ خست جہد کن

قحبہ محکوم است از امساکی کہ شاید مرد را

ترجمہ اگر تو سیم و زر سے وفا چاہتا ہے تو بخل کی کوشش کر، فاحشہ اسی امساک کی محکوم ہے جو مرد کو زیبا ہے۔

بیدل این دنیا نہ امروز امتحانگاہست و بس

تا جہان باقی ست زن می آزماید مرد را

ترجمہ اے بیدل، یہ دنیا صرف آج ہی کی امتحان گاہ نہیں، جب تک جہان باقی ہے عورت مرد کو آزماتی رہے گی۔