حیف کز افلاسِ نومیدی فزاید مرد را | دست اگر کوتاہ شد بر دل نشاید مرد را |
ترجمہ افسوس کہ مفلسی سے مرد کی نومیدی بڑھتی ہے، ہاتھ اگر کوتاہ ہو جائے تو بھی مرد کو دل پر ہاتھ رکھنا زیبا نہیں۔ | |
از تنزلہاست گر در عالمِ آزادگی | چینِ پیشانی بہ یادِ دامن آید مرد را |
ترجمہ آزادگی کی دنیا میں یہ پستی کی بات ہے کہ دامن کی یاد سے مرد کے ماتھے پر شکن آئے۔ | |
چون طبیعتہای زن گل کردہ گیر آثارِ ننگ | در فسوسِ مال و زر گر دست ساید مرد را |
ترجمہ اگر مرد مال و زر کے افسوس میں ہاتھ ملے تو سمجھ لے کہ اس میں عورتوں کی سی طبیعت کی طرح ننگ کے آثار کھل اٹھے۔ | |
جدولِ آب و خیابانِ چمن منظورِ کیست | زخمِ میدانہا کشد تا دل گشاید مرد را |
ترجمہ پانی کی نالیاں اور چمن کی روشیں کسے منظور ہیں، مرد کا دل تو میدانوں کے زخم کھا کر کھلتا ہے۔ | |
یک تغافل می کند سرکوبیٔ صد کوہسار | در سخن می باید از جا در نیاید مرد را |
ترجمہ ایک تغافل سو کوہساروں کو پست کر دیتا ہے، گفتگو میں مرد کو اپنی جگہ سے نہیں ہلنا چاہیے۔ | |
دامنِ رستم تکاند بر سرِ این ہفت خوان | دستِ غیرت تا غبار از دل زداید مرد را |
ترجمہ غیرت کا ہاتھ اس ہفت خوان پر رستم کا دامن جھاڑتا ہے، تاکہ مرد کے دل سے غبار صاف کرے۔ | |
در مزاجِ دانہ آمادہ ست تأثیرِ زمین | حیز کم پیدا شود گر زن نزاید مرد را |
ترجمہ دانے کے مزاج میں زمین کی تاثیر موجود ہوتی ہے، اگر عورت مرد کو نہ جنے تو نامرد بھی کم پیدا ہوں۔ | |
ناگزیرِ رغبتِ اقبال باید زیستن | جاہِ دنیا صورتِ زن می نماید مرد را |
ترجمہ اقبال کی رغبت کے ساتھ جینا ناگزیر ہے، مگر دنیا کا جاہ مرد کو عورت کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ | |
جوہرِ غیرت درین میدان نمی ماند نہان | تیغ می گردد زبان و می ستاید مرد را |
ترجمہ اس میدان میں غیرت کا جوہر چھپا نہیں رہتا، زبان تلوار بن جاتی ہے اور مرد کی ستائش کرتی ہے۔ | |
گر ز سیم و زر وفا خواہی بہ خست جہد کن | قحبہ محکوم است از امساکی کہ شاید مرد را |
ترجمہ اگر تو سیم و زر سے وفا چاہتا ہے تو بخل کی کوشش کر، فاحشہ اسی امساک کی محکوم ہے جو مرد کو زیبا ہے۔ | |
بیدل این دنیا نہ امروز امتحانگاہست و بس | تا جہان باقی ست زن می آزماید مرد را |
ترجمہ اے بیدل، یہ دنیا صرف آج ہی کی امتحان گاہ نہیں، جب تک جہان باقی ہے عورت مرد کو آزماتی رہے گی۔ | |
