ہر کجا کردم بہ یادِ سجدہ ات سازِ رکوع | چون مہِ نو تا فلک رفتم بہ پروازِ رکوع |
ترجمہ جہاں کہیں میں نے تیرے سجدے کی یاد میں رکوع کا ساز چھیڑا، نئے چاند کی طرح رکوع کی پرواز سے آسمان تک جا پہنچا۔ | |
پیش از آن کز خاکِ من بالد نہالِ زندگی | می رسد از بارِ دل در گوشم آوازِ رکوع |
ترجمہ اس سے پہلے کہ میری خاک سے زندگی کا پودا اگے، دل کے بوجھ سے میرے کان میں رکوع کی آواز آ پہنچتی ہے۔ | |
پیچ و تابِ موجہا یکسر گہر گردیدن است | سجدہ انجام است ہر جا دیدی آغازِ رکوع |
ترجمہ موجوں کا پیچ و تاب سراسر موتی بن جانا ہے؛ جہاں کہیں تو نے رکوع کا آغاز دیکھا، اس کا انجام سجدہ ہے۔ | |
شخصِ تسلیمی ز پروازِ ہوسہا شرم دار | با ہوا کاری ندارد سرنگون تازِ رکوع |
ترجمہ تو تسلیم کا پیکر ہے، ہوسوں کی پرواز سے شرم کر؛ رکوع میں سر جھکا کر دوڑنے والا ہوا سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ | |
ما ضعیفان را بہ سامانِ سلیمانی بس است | سجدہ ایجادِ نگین و خاتم اندازِ رکوع |
ترجمہ ہم کمزوروں کے لیے سلیمانی سامان میں یہی کافی ہے کہ سجدہ نگینہ ایجاد کرے اور رکوع انگوٹھی کا انداز۔ | |
گر منافق از تواضع صاحبِ دین می شود | تیغ ہم خواہد نمازی شد بہ پروازِ رکوع |
ترجمہ اگر منافق عاجزی کے دکھاوے سے دین دار بن جاتا ہے، تو تلوار بھی رکوع کی پرواز سے نمازی بن جائے گی۔ | |
راست می تازم چو اشک از دیدہ تا دامانِ خاک | بر نمی دارد دماغِ سجدہ ام نازِ رکوع |
ترجمہ میں آنسو کی طرح آنکھ سے خاک کے دامن تک سیدھا دوڑتا ہوں؛ میرے سجدے کا دماغ رکوع کا ناز نہیں اٹھاتا۔ | |
سرکشیہا زین ادا آغوشِ رحمت می شود | دیگر ای غافل چہ می خواہی ز اعجازِ رکوع |
ترجمہ اسی ادا سے سرکشیاں رحمت کی آغوش بن جاتی ہیں؛ اے غافل! رکوع کے اعجاز سے اور کیا چاہتا ہے۔ | |
پیکرت خم کرد پیری از فنا غافل مباش | سخت نزدیکست بیدل سجدہ با سازِ رکوع |
ترجمہ بڑھاپے نے تیرا پیکر خم کر دیا، فنا سے غافل نہ رہ؛ اے بیدل! رکوع کے ساز کے ساتھ سجدہ بہت قریب ہے۔ | |
