اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ہرکجاکردم بہ یاد سجدہ ات ساز رکوع

ہر کجا کردم بہ یادِ سجدہ ات سازِ رکوع

چون مہِ نو تا فلک رفتم بہ پروازِ رکوع

ترجمہ جہاں کہیں میں نے تیرے سجدے کی یاد میں رکوع کا ساز چھیڑا، نئے چاند کی طرح رکوع کی پرواز سے آسمان تک جا پہنچا۔

پیش از آن کز خاکِ من بالد نہالِ زندگی

می رسد از بارِ دل در گوشم آوازِ رکوع

ترجمہ اس سے پہلے کہ میری خاک سے زندگی کا پودا اگے، دل کے بوجھ سے میرے کان میں رکوع کی آواز آ پہنچتی ہے۔

پیچ و تابِ موجہا یکسر گہر گردیدن است

سجدہ انجام است ہر جا دیدی آغازِ رکوع

ترجمہ موجوں کا پیچ و تاب سراسر موتی بن جانا ہے؛ جہاں کہیں تو نے رکوع کا آغاز دیکھا، اس کا انجام سجدہ ہے۔

شخصِ تسلیمی ز پروازِ ہوسہا شرم دار

با ہوا کاری ندارد سرنگون تازِ رکوع

ترجمہ تو تسلیم کا پیکر ہے، ہوسوں کی پرواز سے شرم کر؛ رکوع میں سر جھکا کر دوڑنے والا ہوا سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔

ما ضعیفان را بہ سامانِ سلیمانی بس است

سجدہ ایجادِ نگین و خاتم اندازِ رکوع

ترجمہ ہم کمزوروں کے لیے سلیمانی سامان میں یہی کافی ہے کہ سجدہ نگینہ ایجاد کرے اور رکوع انگوٹھی کا انداز۔

گر منافق از تواضع صاحبِ دین می شود

تیغ ہم خواہد نمازی شد بہ پروازِ رکوع

ترجمہ اگر منافق عاجزی کے دکھاوے سے دین دار بن جاتا ہے، تو تلوار بھی رکوع کی پرواز سے نمازی بن جائے گی۔

راست می تازم چو اشک از دیدہ تا دامانِ خاک

بر نمی دارد دماغِ سجدہ ام نازِ رکوع

ترجمہ میں آنسو کی طرح آنکھ سے خاک کے دامن تک سیدھا دوڑتا ہوں؛ میرے سجدے کا دماغ رکوع کا ناز نہیں اٹھاتا۔

سرکشیہا زین ادا آغوشِ رحمت می شود

دیگر ای غافل چہ می خواہی ز اعجازِ رکوع

ترجمہ اسی ادا سے سرکشیاں رحمت کی آغوش بن جاتی ہیں؛ اے غافل! رکوع کے اعجاز سے اور کیا چاہتا ہے۔

پیکرت خم کرد پیری از فنا غافل مباش

سخت نزدیکست بیدل سجدہ با سازِ رکوع

ترجمہ بڑھاپے نے تیرا پیکر خم کر دیا، فنا سے غافل نہ رہ؛ اے بیدل! رکوع کے ساز کے ساتھ سجدہ بہت قریب ہے۔