ہر کجا تسلیم بندد بر میان شمشیر را | می کند چون موجِ گوہر بی زبان شمشیر را |
ترجمہ جہاں کہیں تسلیم کمر پر تلوار باندھتی ہے، وہ موتی کی موج کی طرح تلوار کو بے زبان کر دیتی ہے۔ | |
سرکشی وقفِ تواضع کن کہ بر گردون ہلال | می کند گاہی سپر گاہی کمان شمشیر را |
ترجمہ سرکشی کو تواضع کے لیے وقف کر دو، کہ آسمان پر ہلال تلوار کو کبھی ڈھال اور کبھی کمان بنا دیتا ہے۔ | |
تا بہ خود جنبی سپر افکندۂ خاکی و بس | گو بیاویزد غرور از آسمان شمشیر را |
ترجمہ جب تک تم اپنے آپ میں جنبش کرتے ہو، تم خاک کے آگے ڈھال ڈالے ہوئے ہو، بس؛ غرور آسمان سے تلوار لٹکائے تو لٹکائے۔ | |
بسمل آہنگانِ تسلیمت مہیا کردہ اند | جبہۂ شوقی کہ داند آستان شمشیر را |
ترجمہ تیری تسلیم کے بسمل آہنگوں نے ایسی شوق بھری پیشانی مہیا کر رکھی ہے جو تلوار کو آستانہ سمجھتی ہے۔ | |
حسن تا سر داد ابرو را بہ قتلِ عاشقان | قبضہ شد انگشتِ حیرت در دہان شمشیر را |
ترجمہ جب حسن نے ابرو کو عاشقوں کے قتل کے لیے کھلا چھوڑ دیا تو تلوار کا قبضہ حیرت سے منہ میں دبی انگلی بن گیا۔ | |
گشت از خوابِ گران چشمت بہ خونِ ما دلیر | می کند بیباکتر سنگِ فسان شمشیر را |
ترجمہ گہری نیند سے تیری آنکھ ہمارے خون پر دلیر ہو گئی؛ سان کا پتھر تلوار کو اور بے باک کر دیتا ہے۔ | |
زایل از زینت نگردد جوہرِ مردانگی | قبضۂ زر از برش مانع مدان شمشیر را |
ترجمہ زینت سے مردانگی کا جوہر زائل نہیں ہوتا؛ سونے کے قبضے کو تلوار کی کاٹ میں مانع نہ سمجھو۔ | |
بر شجاعت پیشہ ننگ است از تہور دم مزن | حرفِ جوہر برنیاید از زبان شمشیر را |
ترجمہ شجاعت پیشہ کے لیے یہ ننگ ہے، تہور کا دم نہ مارو؛ تلوار کی زبان سے جوہر کی بات نہیں نکلتی۔ | |
بسملِ موجِ می ام زخمم ہمان خمیازہ است | در لبِ ساغر کن ای قاتل نہان شمشیر را |
ترجمہ میں شراب کی موج کا بسمل ہوں، میرا زخم وہی انگڑائی ہے؛ اے قاتل! تلوار کو ساغر کے لب میں چھپا دے۔ | |
نوبہارِ عشرتم بیدل کہ با این لاغری | خونِ صیدم کرد شاخِ ارغوان شمشیر را |
ترجمہ اے بیدل! میں عیش کی نوبہار ہوں کہ اس لاغری کے باوجود میرے شکار کے خون نے تلوار کو ارغوان کی شاخ بنا دیا۔ | |
