ہستی بہ تپش رفت و اثر نیست نفس را | فریاد کزین قافلہ بردند جرس را |
ترجمہ ہستی تڑپ میں گزر گئی اور سانس میں کوئی اثر نہیں؛ فریاد کہ اس قافلے سے گھنٹی ہی لے گئے۔ | |
دل مایلِ تحقیق نگردید وگرنہ | از کسبِ یقین عشق توان کرد ہوس را |
ترجمہ دل تحقیق کی طرف مائل نہ ہوا، ورنہ یقین حاصل کر کے ہوس کو عشق بنایا جا سکتا تھا۔ | |
ہر دل نبرد چاشنیٔ داغِ محبت | این آتشِ بی رنگ نسوزد ہمہ کس را |
ترجمہ ہر دل محبت کے داغ کا ذائقہ نہیں پاتا؛ یہ بے رنگ آگ ہر کسی کو نہیں جلاتی۔ | |
رفعِ ہوسِ زندگی ام بادِ فنا کرد | اندیشۂ خاک آب زد این آتشِ خس را |
ترجمہ فنا کی ہوا نے میری زندگی کی ہوس کو دور کر دیا؛ خاک کی فکر نے تنکے کی اس آگ پر پانی چھڑک دیا۔ | |
آزادیٔ ما سخت پرافشانِ ہوا بود | دل عقدہ شد و آبلہ پا کرد نفس را |
ترجمہ ہماری آزادی ہوا میں خوب پر افشاں تھی؛ دل گرہ بن گیا اور اس نے سانس کو آبلہ پا کر دیا۔ | |
تا رمزِ گرفتاریٔ ما فاش نگردد | چون صبح بہ پرواز نہفتیم قفس را |
ترجمہ تاکہ ہماری گرفتاری کا راز فاش نہ ہو، ہم نے صبح کی طرح پرواز ہی میں قفس کو چھپا لیا۔ | |
بیدل نشوی بیخبر از سیرِ گریبان | اینجاست کہ عنقا تہِ بال است مگس را |
ترجمہ اے بیدل! گریبان کی سیر سے بے خبر نہ رہنا؛ یہی وہ جگہ ہے جہاں عنقا مکھی کے پر کے نیچے ہے۔ | |
