اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

حسابی نیست با وحشت جنون کامل ما را

حسابی نیست با وحشت جنونِ کاملِ ما را

مگر لیلی بہ دوشِ جلوہ بندد محملِ ما را

ترجمہ ہمارے کامل جنون کا وحشت سے کوئی حساب نہیں؛ شاید لیلیٰ ہی جلوے کے کندھے پر ہمارا محمل باندھ دے۔

محبت بسکہ بود از جلوہ مشتاقانِ این محفل

بہ تعمیرِ نگہ چون شمع برد آب و گلِ ما را

ترجمہ محبت اس قدر اس محفل کے مشتاقوں کو جلوے کا شیدا بنائے ہوئے تھی کہ شمع کی طرح نگاہ کی تعمیر میں ہماری آب و گل بھی لگا دی۔

ندارد گردنِ تسلیم بیش از سایۂ مویی

عبث بر ما تنک کردند تیغِ قاتلِ ما را

ترجمہ تسلیم کی گردن ایک بال کے سائے سے زیادہ کچھ نہیں؛ ہمارے قاتل کی تلوار بے کار ہی ہم پر باریک کی گئی۔

غبارِ احتیاج امواجِ دریا خشک می سازد

عیارِ کم مگیرید آبروی سایلِ ما را

ترجمہ حاجت کا غبار دریا کی موجوں کو بھی خشک کر دیتا ہے؛ ہمارے سائل کی آبرو کو کم عیار نہ سمجھو۔

صفای دل بہ حیرت بست نقشِ پردۂ ہستی

فروغِ شمع کامِ اژدہا شد محفلِ ما را

ترجمہ دل کی صفائی نے حیرت سے ہستی کے پردے کا نقش باندھ دیا؛ شمع کی روشنی ہماری محفل کے لیے اژدہے کا منہ بن گئی۔

ادبگاہِ وفا آنگہ برافشانی، چہ ننگ است این

تپیدن خاک بر سر کرد آخر بسملِ ما را

ترجمہ وفا کی ادب گاہ اور پھر پر افشانی، یہ کیسا ننگ ہے؛ آخر تڑپنے نے ہمارے بسمل کے سر پر خاک ڈال دی۔

دل از سعیِ امل بر وضعِ آرامیدہ می لرزد

مبادا دوربینی جادہ سازد منزلِ ما را

ترجمہ امید کی کوشش سے دل آرام کی حالت پر لرزتا ہے؛ ایسا نہ ہو کہ دور بینی ہماری منزل کو راستہ بنا دے۔

شکستِ آرزو زین بیش نتوان در گرہ بستن

گرانجانی ز ہر سو بر دلِ ما زد دلِ ما را

ترجمہ آرزو کی شکست کو اس سے زیادہ گرہ میں نہیں باندھا جا سکتا؛ گراں جانی نے ہر طرف سے ہمارے دل کو ہمارے ہی دل پر دے مارا۔

ز خشکیہای وضعِ عافیت تر می شود ہمت

عرق ای کاش در دریا نشاند ساحلِ ما را

ترجمہ عافیت کی حالت کی خشکیوں سے ہمت شرم سے تر ہو جاتی ہے؛ کاش پسینا ہمارے ساحل کو دریا میں بٹھا دے۔

تمیز از سایہ ممکن نیست فرقِ دود بردارد

بہ روی شعلہ گر پاشی غبارِ کاہلِ ما را

ترجمہ اگر تو ہمارا کاہل غبار شعلے پر چھڑکے تو اسے سائے سے الگ پہچاننا ممکن نہیں، وہ دھویں کا فرق بھی مٹا دے۔

حبابِ پوچ از آبِ گہر امیدہا دارد

خداوندا بہ حقِ دل ببخشا بیدلِ ما را

ترجمہ کھوکھلا حباب موتی کی آب سے بہت امیدیں رکھتا ہے؛ خداوندا، دل کے حق کے صدقے ہمارے بیدل کو بخش دے۔