حسنی است بر رخش رقمِ مشکِ ناب را | نظارہ کن غبارِ خطِ آفتاب را |
ترجمہ اس کے رخسار پر جو حسن ہے وہ خالص مشک کی تحریر ہے، سورج کے خط کے غبار کا نظارہ کر۔ | |
ہر جلوہ باز شیفتۂ رنگِ دیگر است | آن حسن برق نیست کہ سوزد نقاب را |
ترجمہ ہر جلوہ پھر کسی اور رنگ کا شیفتہ ہے، وہ حسن بجلی نہیں کہ نقاب کو جلا دے۔ | |
مستِ خیالِ میکدۂ نرگسِ توایم | شورِ جنون کند قدحِ ما شراب را |
ترجمہ ہم تیری نرگس کے میکدے کے خیال میں مست ہیں، جنون کا شور ہمارے پیالے کو شراب بنا دیتا ہے۔ | |
بوی بہارِ شوقِ تو را رنگِ معجزی ست | کارد بہ رقص و زمزمہ مرغِ کباب را |
ترجمہ تیرے شوق کی بہار کی خوشبو معجزے کا رنگ رکھتی ہے، جو کباب ہوئے پرندے کو بھی رقص اور نغمے میں لے آتی ہے۔ | |
خاکستر است شعلہ ام امروز و خوشدلم | یعنی رساندہ ام بہ صبوری شتاب را |
ترجمہ آج میرا شعلہ راکھ ہو گیا ہے اور میں خوش ہوں، یعنی میں نے جلد بازی کو صبر تک پہنچا دیا ہے۔ | |
ما را ز تیغِ مرگ مترسان کہ از ازل | بر موج بستہ اند کلاہِ حباب را |
ترجمہ ہمیں موت کی تلوار سے نہ ڈرا، کہ ازل سے حباب کی ٹوپی موج پر باندھی گئی ہے۔ | |
اسبابِ زندگی ہمہ دامِ تحیر است | غیر از فریب ہیچ نباشد سراب را |
ترجمہ زندگی کے سارے اسباب حیرت کا جال ہیں، سراب کے پاس فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ | |
کو شورِ مستیی کہ درین عبرت انجمن | گردِ شکستِ شیشہ کنم ماہتاب را |
ترجمہ مستی کا وہ شور کہاں کہ اس عبرت کی انجمن میں چاندنی کو شیشے کے ٹوٹنے کا غبار بنا دوں۔ | |
سیماب را ز آینہ پای گریز نیست | دارد تحیرم بہ قفس اضطراب را |
ترجمہ پارے کو آئینے سے بھاگنے کا پاؤں نہیں، میری حیرت اضطراب کو قفس میں رکھتی ہے۔ | |
توفان طرازِ چشمِ من از پہلوی دل است | سامانِ آبروست ز دریا سحاب را |
ترجمہ میری آنکھ کا طوفان برپا کرنا دل کی بدولت ہے، بادل کی آبرو کا سامان سمندر سے ہے۔ | |
دانا و میلِ صحبتِ نادان چہ ممکن است | موجِ گہر بہ خاک نیامیزد آب را |
ترجمہ دانا اور نادان کی صحبت کی خواہش، یہ کیسے ممکن ہے، موتی کی موج اپنے پانی کو خاک میں نہیں ملاتی۔ | |
تا چند رشتۂ نفس از وہم تافتن | دیگر بہ پای خویش مپیچ این طناب را |
ترجمہ کب تک وہم سے سانس کا دھاگا بٹتے رہو گے، اب اس رسی کو اپنے پاؤں میں نہ لپیٹو۔ | |
بیدل شکستہ رنگیٔ خاصان مقرر است | باشد شکستگی ورقِ انتخاب را |
ترجمہ اے بیدل، خاصوں کی شکستہ رنگی مقرر ہے، انتخاب کے ورق کا نصیب شکستگی ہی ہوتا ہے۔ | |
