اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

حسنی است بررخش رقم مشک ناب را

حسنی است بر رخش رقمِ مشکِ ناب را

نظارہ کن غبارِ خطِ آفتاب را

ترجمہ اس کے رخسار پر جو حسن ہے وہ خالص مشک کی تحریر ہے، سورج کے خط کے غبار کا نظارہ کر۔

ہر جلوہ باز شیفتۂ رنگِ دیگر است

آن حسن برق نیست کہ سوزد نقاب را

ترجمہ ہر جلوہ پھر کسی اور رنگ کا شیفتہ ہے، وہ حسن بجلی نہیں کہ نقاب کو جلا دے۔

مستِ خیالِ میکدۂ نرگسِ توایم

شورِ جنون کند قدحِ ما شراب را

ترجمہ ہم تیری نرگس کے میکدے کے خیال میں مست ہیں، جنون کا شور ہمارے پیالے کو شراب بنا دیتا ہے۔

بوی بہارِ شوقِ تو را رنگِ معجزی ست

کارد بہ رقص و زمزمہ مرغِ کباب را

ترجمہ تیرے شوق کی بہار کی خوشبو معجزے کا رنگ رکھتی ہے، جو کباب ہوئے پرندے کو بھی رقص اور نغمے میں لے آتی ہے۔

خاکستر است شعلہ ام امروز و خوشدلم

یعنی رساندہ ام بہ صبوری شتاب را

ترجمہ آج میرا شعلہ راکھ ہو گیا ہے اور میں خوش ہوں، یعنی میں نے جلد بازی کو صبر تک پہنچا دیا ہے۔

ما را ز تیغِ مرگ مترسان کہ از ازل

بر موج بستہ اند کلاہِ حباب را

ترجمہ ہمیں موت کی تلوار سے نہ ڈرا، کہ ازل سے حباب کی ٹوپی موج پر باندھی گئی ہے۔

اسبابِ زندگی ہمہ دامِ تحیر است

غیر از فریب ہیچ نباشد سراب را

ترجمہ زندگی کے سارے اسباب حیرت کا جال ہیں، سراب کے پاس فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

کو شورِ مستیی کہ درین عبرت انجمن

گردِ شکستِ شیشہ کنم ماہتاب را

ترجمہ مستی کا وہ شور کہاں کہ اس عبرت کی انجمن میں چاندنی کو شیشے کے ٹوٹنے کا غبار بنا دوں۔

سیماب را ز آینہ پای گریز نیست

دارد تحیرم بہ قفس اضطراب را

ترجمہ پارے کو آئینے سے بھاگنے کا پاؤں نہیں، میری حیرت اضطراب کو قفس میں رکھتی ہے۔

توفان طرازِ چشمِ من از پہلوی دل است

سامانِ آبروست ز دریا سحاب را

ترجمہ میری آنکھ کا طوفان برپا کرنا دل کی بدولت ہے، بادل کی آبرو کا سامان سمندر سے ہے۔

دانا و میلِ صحبتِ نادان چہ ممکن است

موجِ گہر بہ خاک نیامیزد آب را

ترجمہ دانا اور نادان کی صحبت کی خواہش، یہ کیسے ممکن ہے، موتی کی موج اپنے پانی کو خاک میں نہیں ملاتی۔

تا چند رشتۂ نفس از وہم تافتن

دیگر بہ پای خویش مپیچ این طناب را

ترجمہ کب تک وہم سے سانس کا دھاگا بٹتے رہو گے، اب اس رسی کو اپنے پاؤں میں نہ لپیٹو۔

بیدل شکستہ رنگیٔ خاصان مقرر است

باشد شکستگی ورقِ انتخاب را

ترجمہ اے بیدل، خاصوں کی شکستہ رنگی مقرر ہے، انتخاب کے ورق کا نصیب شکستگی ہی ہوتا ہے۔