(علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 3 مارچ 1883ء)
آنریبل سی۔ بی۔ البرٹ صاحب لا ممبر کونسل گورنر جنرل آف انڈیا نے مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کی چند دفعات کی ترمیم میں ایک بل کونسل میں پیش کیا ہے۔
اُس بل کی رو سے مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 22 کی ترمیم ہوگی۔ اُس دفعہ کی رو سے بجز یوروپین کے کوئی ہندوستانی جسٹس آف پیس یعنی ایسا حاکم جو یوروپین کی نسبت مقدماتِ فوجداری کی سماعت کرے مقرر نہیں ہو سکتا۔ اس بل کی رو سے ہندوستانیوں کو یہ اختیار مل سکے گا۔
اسی طرح مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 25 اور دفعہ 443 وغیرہ کی ترمیم ہوگی۔ یعنی جملہ صاحبانِ سشن جج و مجسٹریٹِ ضلع ہندوستانی ہوں یا یوروپین، جسٹس آف دی پیس ہوں گے۔
حاصل اس سب کا یہ ہے کہ اگر یہ بل پاس ہو جائے تو بعض ہندوستانی حکام کو یوروپین صاحبان رعیتِ برطانیہ کی نسبت بھی مقدماتِ فوجداری کی سماعت کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔
اس بل سے یوروپین صاحبان نے جو ہندوستان میں رہتے ہیں اور ہر قسم کا کاروبارِ تجارت اور کاشتِ چاء و قہوہ وغیرہ کرتے ہیں اپنی نارضامندی ظاہر کی ہے اور ہر جگہ و ہر مقام پر بہت بڑی بڑی میٹنگیں اور مجلسیں اس بل کے برخلاف قائم کی ہیں۔ کسی امر پر یوروپین لوگوں نے جو ہندوستان میں رہتے ہیں اس قدر شدید مخالفت نہیں کی جیسی کہ اس بل پر کی ہے مگر ہم اس بات کے معلوم ہونے سے نہایت خوش ہیں کہ ہندوستان کے کسی حصہ میں ہندوستانیوں نے یوروپین لوگوں کی مجلسوں کے مقابلہ میں کوئی مجلس قائم نہیں کی اور نہ ہندوستانیوں کو آئندہ اس معاملہ میں کوئی مجلس قائم کرنی چاہیے۔ اُن کو لازم ہے کہ وہ بالکل خاموش رہیں۔ کوئی ایک ہندوستانی بھی یہ نہیں خیال کرتا کہ اُس کو یوروپین کی نسبت مقدماتِ فوجداری کی سماعت کا اختیار ہونے سے اُس کو کچھ زیادہ شیخی ہو جائے گی۔ اُس کو کچھ پروا نہیں ہے کہ ایک مجرم یوروپین کا مقدمہ اُس کے سامنے آئے یا نہ آئے بلکہ اس وقت تک قانون میں جو ایسا تفرقہ موجود ہے یہ خود قانون میں نقصان ہے جس میں قومی رعایت رکھی گئی ہے۔ ہر ایک منصف عادل گورنمنٹ کا یہ فرض ہے کہ انصاف کو قائم رکھے اور ہر قوم کے لیے جو اُس کی رعیت ہوں یکساں قانون جاری کرے۔ پس مسٹر البرٹ کے بل سے گورنمنٹ کے قانون میں جو نقصان ہے وہ رفع ہوتا ہے اور جو وعدہ ملکۂ معظمہ قیصرۂ ہند نے کیا ہے کہ اُس کی تمام رعایا کے حقوق برابر ہوں گے اُس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ضرور ہے کہ اُس کی تکمیل ہوگی۔ پس ہندوستانیوں کو کچھ ضرور نہیں ہے کہ یوروپین صاحبوں نے جو کارروائی کی ہے اُس کے مخالف کوئی کارروائی کریں اور ہم کو امید ہے کہ کسی ہندوستانی یا کسی ہندوستانی سوسائٹی کو کسی کارروائی کرنے کا خیال بھی نہیں ہے اور اس معاملہ میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔
خیر یہ بل پاس ہو یا نہ ہو جو ہونا ہوگا وہ ہوگا مگر ہماری رائے میں اس بل کے پیش ہونے سے بہت بڑا یہ فائدہ ہوا کہ گورنمنٹ آف انڈیا اور انگلینڈ کی گورنمنٹ اور پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسوں کو خوب معلوم ہو گیا کہ یوروپین صاحبان کی جو ہندوستان میں رہتے ہیں ہندوستانیوں کی نسبت کیسی فیلنگ ہے اور اسی پر یوروپین صاحبان کی سوشل حالت کا جو ہندوستانیوں کے ساتھ ہے اور جس کی شکایت ہمیشہ ہندوستانی کرتے ہیں بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ افسوس ہے کہ اس مباحثہ کے سبب سے جو اس بل پر پیش آیا ہے یوروپین صاحبان کی فیلنگ ہندوستانیوں کی نسبت خراب ہو جائے گی۔ سننے والے نے کہا کہ اب کون سی اچھی ہے جو آئندہ خراب ہونی باقی ہے۔
مگر اُن صاحب نے جو کہا اُس پر انہوں نے غور نہیں کیا۔ ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ اچھی یا بری فیلنگ کا ہونا یا نہ ہونا صرف قانون پر منحصر ہے۔ جب قانون میں یکتائی نہ ہوگی اور ایک قوم کے لیے ایک قانون اور دوسری قوم کے لیے دوسرا قانون ہے تو کبھی اُن دونوں قوموں کی فیلنگ آپس میں اچھی نہیں ہو سکتی، لیکن جب دونوں قوموں کے لیے یکساں قانون ہوں اور دونوں کے ساتھ ایک ہی قانون سے برتاؤ کیا جائے، اُس وقت در حقیقت دونوں قوموں کی فیلنگ عمدہ ہو جاتی ہیں۔ پس ہندوستانیوں اور انگریزوں میں اصلی محبت و ملاپ اُس وقت ہو سکتا ہے جب کہ قانون میں دونوں قوموں کے لیے کچھ تفرقہ نہ رہے۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ نہم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 44 تا 46 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔
