علمی کہ خلق یافتہ بیچونش انتخاب | کردہ ست نارسیدہ بہ مضمونش انتخاب |
ترجمہ جو علم مخلوق نے پایا ہے، ذاتِ بے چون نے اسے چن لیا ہے، مگر مخلوق اس کے مضمون تک پہنچے بغیر ہی اسے انتخاب سمجھ بیٹھی ہے۔ | |
آنجا کہ شمعِ ما بہ تأمل دماغ سوخت | شد داغِ دل ز مصرعِ موزونش انتخاب |
ترجمہ جہاں ہماری شمع نے غور و فکر میں اپنا دماغ جلایا، وہاں اس کے موزوں مصرع میں سے دل کا داغ ہی انتخاب ٹھہرا۔ | |
مکتوبِ ما ز نقطہ و خط سخت سادہ ست | خوش باش اگر بود دلِ محزونش انتخاب |
ترجمہ ہمارا خط نقطے اور تحریر سے بالکل سادہ ہے؛ خوش رہ اگر اس میں سے غمگین دل ہی انتخاب ہو۔ | |
آہ از کسی کہ منکرِ دردِ محبت است | اینجا ہمین دلست و کفِ خونش انتخاب |
ترجمہ افسوس اس پر جو دردِ محبت کا منکر ہے؛ یہاں تو یہی دل ہے اور اس کی مٹھی بھر خون ہی انتخاب ہے۔ | |
بر ہر خطی کہ جادوی عشقش نفس دمید | جز صیدِ دل نبود بہ افسونش انتخاب |
ترجمہ عشق کے جادو نے جس تحریر پر بھی پھونک ماری، اس کے افسوں میں دل کے شکار کے سوا کچھ انتخاب نہ تھا۔ | |
انجامِ گیر و دارِ من و ما فسردگی ست | گوہر نمودہ اند ز جیحونش انتخاب |
ترجمہ میں اور ہم کی کشمکش کا انجام افسردگی ہے، جیسے دریائے جیحون میں سے (منجمد) موتی کو انتخاب کیا گیا ہو۔ | |
یارب چراغِ خلوتِ لیلی عیان شود | داغی کہ دارم از دلِ مجنونش انتخاب |
ترجمہ یا رب! وہ داغ جو میں نے مجنوں کے دل سے چن رکھا ہے، لیلیٰ کی خلوت کا چراغ بن کر ظاہر ہو جائے۔ | |
رازِ درونِ آینہ بر در نشستہ است | باید چو حلقہ کرد ز بیرونش انتخاب |
ترجمہ آئینے کے اندر کا راز دروازے پر آ بیٹھا ہے؛ اسے دروازے کے حلقے کی طرح باہر ہی سے چن لینا چاہیے۔ | |
آن چشم تا بہ متنِ حقیقت نظر کنیم | صادی ست کردہ ہیاتِ گردونش انتخاب |
ترجمہ وہ آنکھ جس سے ہم حقیقت کے متن پر نظر کریں، ایک ’’ص‘‘ ہے جسے آسمان کی ہیئت نے چن لیا ہے۔ | |
